BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تبدیلی کا نعرہ پاکستان کے لیے نہیں‘

اوباما
اوباما خطے کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتے
امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر براک اوباما کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے فوراً بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کے مستقبل کے بارے میں ایک بیان قومی اسمبلی میں جاری کیا تھا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں ابھی حکومتی تبدیلی کا عمل جاری ہے اس لیے اس طرح کے حملے پاکستان میں ہو رہے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ جس روز اوباما صدر امریکہ کا چارج لیں گے، یہ حملے رک جائیں گے‘۔

لیکن دو روز قبل وزیرستان میں ہونے والے میزائل حملوں نے اس دعوے کے نفی کر دی۔ جمعہ کی شام شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دو امریکی میزائل حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔ براک اوباما کے صدارتی حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں سے ہونے والے یہ پہلے میزائل حملے تھے۔

ریپبلکن پارٹی کے آٹھ سالہ دور اقتدار کے خاتمے اور دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کے خالق صدر جارج ڈبلیو بش کی وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صرف حکومتِ پاکستان نہیں بلکہ عوام بھی خاصے پرامید نظر آئے۔

امریکہ اور بھارت میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سابق سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر کے مطابق یہ حکومت کے خوش کن تصورات ہیں، جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔ ان کے مطابق’سرکاری سطح پر پاکستان میں نئے امریکی صدر کے بارے میں بہت امیدیں ظاہر کی جا رہی ہیں لیکن پاکستانی عوام کی رائے حقائق سے زیادہ قریب ہے جو سمجھتے ہیں کہ براک اوباما خطے کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتے‘۔

تاریخی لحاظ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خاصے وسیع رہے ہیں لیکن آٹھ سال قبل شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے سرد جنگ کے زمانے کے ان دو اتحادیوں کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پاک امریکہ تعلقات کا مطلب قبائلی علاقوں میں امریکی کارروائیوں کا ہونا یا نہ ہونا رہ گیا ہے۔

 سرکاری سطح پر پاکستان میں نئے امریکی صدر کے بارے میں بہت امیدیں ظاہر کی جا رہی ہیں لیکن پاکستانی عوام کی رائے حقائق سے زیادہ قریب ہے جو سمجھتے ہیں کہ براک اوباما خطے کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتے
ریاض کھوکر

حکومتی زعما سے لے کر عام آدمی تک، سب کے سامنے سوال یہی ہے کہ کیا اوباما کے صدر بننے سے پاکستانی علاقوں میں میزائل حملے رک جائیں گے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے انچارج کے طور پر فرائض انجام دینے والے بریگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں کے فوری خاتمے کی توقع تو خام خیالی ہوگی لیکن علاقے کے لیےخصوصی ایلچی اور سینیئر سفارتکار رچرڈ ہولبروک کی نامزدگی اوباما انتظامیہ کی افغانستان اور قبائلی علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا ثبوت ہے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد براک اوباما نے افغانستان اور پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اصل میدان جنگ قرار دیتے ہوئے عراق سے فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر روپوش القاعدہ رہنماؤں کے خلاف براہ راست کارروائی کا عندیہ دیا بلکہ اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ایک امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں پاکستان کے بارے میں اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ہم انہیں دہشت گردوں کے خلاف اضافی فوجی امداد دیں گے اور جمہوریت کے فروغ میں ان کی مدد کریں گے۔ ہم مشرف پر دس ارب ڈالرز ضائع کر چکنے کے باوجود دہشتگردی کی پناہ گاہوں کو ختم نہ کرنے پر ان کا احتساب بھی نہیں کر سکے‘۔

پاکستان کی فوجی امداد بڑھانے کے بارے میں باراک اوباما اور ان کے نائب جوزف بائڈن خاصی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے صلاحیتوں پر گہری نظر رکھنے والے دفاعی مبصر اور سابق فوجی اکرام سہگل اس متوقع فوجی امداد کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں سے منسلک کرنے کے امریکی فیصلے کو دور رس اثرات کا حامل قرار دیتے ہیں۔

 جس بدتمیزی کے ساتھ بھارت نے اپنے ملک میں آئے برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا ذکر پر برتاؤ کیا ہے، وہ امریکہ کے لیے ایک پیغام ہے کہ بھارت اب بھی کشمیر کے معاملے میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
ریاض کھوکر

اکرام سہگل نے بی بی سی کو بتایا ’میرا خیال ہے کہ امریکہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا اور قبائلی علاقوں میں فوج کو ہیلی کاپٹرز اور انسدادِ مزاحمت کاری کی تربیت مل گئی تو اس فوجی آپریشن کا کامیابی یقینی ہو جائے گی‘۔

باراک اوبامہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے کشمیر کے لیے سابق صدر بل کلنٹن کو خصوصی ایلچی مقرر کرنے کی اطلاعات بھی زوروشور سےگردش کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے خاصی گرم جوشی پائی جاتی ہے جبکہ خطے میں امریکہ کے اور اہم اتحادی ہندوستان نے اس طرح کی اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد اپنی تشویش بھی ظاہر کر دی ہے۔

تو کیا ان حالات میں باراک اوبامہ خطے میں عدم استحکام کی علامت سمجھے جانے والے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی اہم قدم لے سکیں گے، سابق سیکرٹری ریاض کھوکھر ایسا نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال ہے کہ ’جس بدتمیزی کے ساتھ بھارت نے اپنے ملک میں آئے برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کا ذکر پر برتاؤ کیا ہے، وہ امریکہ کے لیے ایک پیغام ہے کہ بھارت اب بھی کشمیر کے معاملے میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا‘۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدراتی امیدوار باراک اوبامہ نے’چینج‘ یا تبدیلی کو اپنی انتخابی مہم کا ایک طرح سے مرکزی نکتہ بنا رکھا تھا۔ اس کا ایک مطلب ریپلیکن پارٹی کے آٹھ سالہ اقتدار کی تبدیلی بھی تھا۔تاہم پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ اس جماعتی تبدیلی کا پاکستان کی جانب پالیسی میں تبدیلی ہرگز نہیں ہے۔

ریاض کھو کھر کا کہنا ہے کہ ’ڈیمو کریٹک اور ریپبلیکن جماعتوں کے طریقہ کار میں بہت فرق ہے لیکن جہاں مسئلہ امریکی مفادات کا ہو، ان دونوں جماعتوں کا مؤقف ایک ہے ہوتا ہے‘۔

اسی بارے میں
’ہم اپنی جنگیں خود لڑیں گے‘
27 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد