’ کشیدگی پر قابو پا لیا جائےگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جوزف بائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور بھارت حالیہ کشیدگی پر قابو پالیں گے اور اختلافات پر امن طریقے سے حل کرلیں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں کہی۔ جوزف بائیڈن نے امریکہ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اور جمہوریت کو مستحکم کرنے میں مکمل تعاون کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور فوجی امدا فراہمی کے حوالے سے بات گی۔ مسٹر بائیڈن جمعہ کو اعلیٰ سطحی ’فیکٹ فائنڈنگ‘ وفد، جس میں جان کیری، جیک ریڈ، سوسن کولنز اور لنڈسے گراہم بھی شامل ہیں، اسلام آباد پہنچے ہیں۔ امریکہ کے منتخب صدر نے ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم اور امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے ہمراہ ایوان صدر میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور بعد میں وزیراعظم ہاؤس میں سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتیں کیں۔ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان میں امریکی سفیر حسین حقانی بھی موجود رہے۔ لیکن وزیراعظم سے مسٹر بائیڈن علحدہ ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس گئے۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدرِ پاکستان نے کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے میں پاکستان کو عالمی برداری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امریکی نمائندے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ جمہوریت کے استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف شعبوں میں امریکہ پاکستان سے مکمل تعاون کرے گا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں علاقائی، افغانستان اور دو طرفہ تعلقات کے متعلق بات کی گئی اور صدر آصف علی زرداری نے امریکی منتخب صدر کو شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر زرداری نے امریکی وفد کو اپنے حالیہ افغانستان کے دورے کی تفصییلات بتائیں اور کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو پندرہ ارب ڈالر کی امداد دلوانے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے بدلے جوزف بائیڈن کو صدر نے پاکستان کا اعلیٰ سطحی شہری اعزاز ہلال پاکستان بھی دیا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کو پانچ برسوں میں پندرہ ارب ڈالر کی امداد دینے کے بارے میں ’بائیڈن۔۔ لوگر بل‘ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ’ریکنسٹرکشن اپرچونٹی زونز‘ تعمیر کرنے کے بارے میں امریکہ جلد قانون سازی کرے۔ وزیراعظم نے امریکہ پر زور دیا کہ ’امریکہ پر لازم ہے کہ وہ پاکستان کا احترام کرے اور اس پر بھروسہ کرے۔ایک اتحادی ایک ہی وقت میں دشمن نہیں ہوسکتا‘۔ وزیراعظم نے جوزف بائیڈن سے کہا کہ افواج پاکستان کو دفاعی آلات فراہم کیے جائیں تاکہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاسکے اور اس سے ڈرونز حملوں کا جو دو طرفہ معاملہ ہے وہ بھی حل ہوجائے گا۔ بیان کے مطابق امریکہ کے نو منتخب نائب صدر نے وزیراعظم کو عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے اقتصادی امداد کی فراہمی کا یقین دلایا اور وعدہ کیا کہ وہ افواج پاکستان کو دفاعی آلات اور تربیت دینے کے بارے میں بھی اقدامات کریں گے۔ جوزف بائیڈن نے پاکستان کی جمہوری حکومت سے تعمیری تعلقات قائم رکھنے کا یقین دلایا اور کہا کہ ’یہ کوئی بے نتیجہ کھیل نہیں ہے۔۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی ان کی اپنی کامیابی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ پاکستان سے تعلقات میں ’ماضی کی نسبت حال‘ کو ترجیح دے گی۔ ان کے مطابق ماضی کی پالیسیوں میں تسلسل تو ہوگا لیکن وہ ماضی کے بارے میں نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کو مکمل ادراک ہے کہ پاکستان اکیلے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتا اور اس میں کامیابی کے ہر ممکنہ طریقے سے تعاون فراہم کرے گی۔ جوزف بائیڈن امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر اپنا آخری دورہ کر رہے ہیں۔ وہ بیس جنوری کو امریکہ کے نائب صدر بن جائیں گے۔ پاکستان کےبعض مبصرین کہتے ہیں کہ اس اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کا مقصد امریکہ کی مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا بالخصوص مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق اوباما انتظامیہ کی امریکی پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے حقائق جاننا ہے۔ | اسی بارے میں یہی وجہ ہے یا کوئی اور ۔۔۔08 January, 2009 | پاکستان ’صدر کی مشاورت شامل تھی‘08 January, 2009 | پاکستان وزیرستان:تحصیلدار سمیت دو قتل08 January, 2009 | پاکستان پاکستان:القاعدہ کے اعلیٰ اہلکار ’ہلاک‘09 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||