’صدر کی مشاورت شامل تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایوان صدر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ روز قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی کی برطرفی میں صدر آصف علی زرداری سے مشاورت شامل تھی۔ تاہم تازہ ملکی صورتحال پر دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ملاقات عاشورہ کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی ہے۔ ادھر برطرف کئے جانے والے مشیر میجر جنرل ریٹائرڈ محمود علی درانی نے بی بی سی اردو سروس سے اس موضوع پر مزید بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بابت بہت کچھ کہہ چکے ہیں اور مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ’میری طرف سے معذرت’ کہتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔ ادھر صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے صدر اور وزیر اعظم کے درمیان آج ملاقات کا ارادہ تھا تاہم یوم عاشورہ کی وجہ سے اب یہ ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔ تاہم ترجمان نے صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اس برطرفی پر کسی اختلاف کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر دونوں کی رائے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ محمود درانی وزیر اعظم کے مشیر تھے لہذا یہ ان کا اختیار ہے کہ کسی کو رکھ یا ہٹا سکتے ہیں۔ پاکستان نے کافی تاخیر کے بعد گزشتہ روز ممبئی حملوں میں ملوث واحد بچ جانے والے مبینہ حملہ آور اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر دی تھی۔ تاہم وزیر اعظم نے انہیں اس بابت باخبر نہ رکھنے کے الزام میں اس اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر محمود علی درانی کو برطرف کر دیا تھا۔ مشیر کے عہدے سے برطرف ہونے کے بعد ایک خبررساں ادارے رائٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمود درانی نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق کر دی تھی جس کے بعد ہی انہوں نے اس کا اعلان کیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیر اعظم کی لاہور میں موجودگی کی وجہ سے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا جاسکا تھا۔ ’خفیہ اداروں نے اس کی تصدیق کی اور مجھے اس بارے میں آگاہ کیا۔ تاہم لاہور میں ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم کو مطلع نہیں کیا جاسکا تھا۔ وہ لاعلم تھے لہذا انہوں نے اپنا اختیار واضح کرنے کی خاطر برطرفی کا قدم اٹھایا۔’ محمود درانی کے خیال میں اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق سے بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی آسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہ کیا جو امن کے لیئے بہتر تھا انہیں اس کا کوئی ملال نہیں ہے۔ ’اب آپ بھارت کو کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تصدیق کروا لی ہے لہذا اب حقائق ہمیں معلوم ہیں اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔‘ پاکستان ریاستی اداروں کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتا رہا ہے تاہم وہ ماضی میں کہہ چکا ہے غیرریاستی عناصر کا ہاتھ اس میں ہوسکتا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اب حکومت کو اجمل قصاب کے نیٹ ورک تک پہنچانا ہوگا۔ ادھر پاکستانی میڈیا میں محمود علی درانی کی جگہ نئی تقرری کے بارے میں کئی نام سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان میں سابق صدر پرویز مشرف کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں بے اعتماد مشیر پر وزیرِ اعظم کا غصہ08 January, 2009 | پاکستان مشیر برائے امورِ سلامتی برطرف07 January, 2009 | پاکستان ’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘12 December, 2008 | پاکستان کانفرنس: شرکت نہ کرنے کا اعلان30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||