بے اعتماد مشیر پر وزیرِ اعظم کا غصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ان کے سلامتی امور کے مشیر محمود علی درانی کی برطرفی سے پیپلز پارٹی حکومت کی ساکھ تو خراب ہوئی سو ہوئی اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کے لیے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ خیال ہے کہ ایسا کرنے سے ناصرف پاکستان پر امریکی اور بھارتی دباؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ اب اسے اجمل قصاب کی شہریت ثابت ہونے کے بعد اس کے ملک میں موجود تمام نیٹ ورک کا خاتمہ بھی کر کے دکھانا ہوگا۔ پاکستان بہت مشکل میں پھنس گیا ہے۔ شہریت کی تصدیق سے اب پاکستان کو بھارت کے باقی ثبوت بھی ماننا ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک انتہائی حساس معاملے پر کئی ماہ کی خاموشی توڑتے ہوئے پاکستان نے نہ چاہتے ہوئے اجمل کی شہریت کی تصدیق کر دی ہے۔ وزیر اعظم کے اس غصے بھرے اقدام سے ایک غلط سگنل دنیا کو جائے گا کہ پاکستان شاید اجمل قصاب کی شہریت کو جان بوجھ کر چھپانا چاہتا تھا۔ وزیر اعظم کو غصہ اس بات پر تھا کہ محمود علی درانی نے انہیں اور دیگر ’سٹیک ہولڈرز’ کو بغیر اعتماد میں لیے یہ اعلان کر دیا۔ اس کے علاوہ اہم سلامتی امور پر رابطوں میں کمی بھی شامل تھی۔ لیکن اگر شہریت کے اعلان کے بعد یہ ’تماشہ‘ نہ کیا جاتا تو دنیا سمجھتی کے پاکستان نے پروقار طریقے سے ایک حقیقت مان لی ہے۔ شاید اس طرح اس کی ’واہ واہ‘ بھی ہو جاتی۔ لیکن وزیر اعظم کے فوری اقدام نے ’گندے کپڑے سب کے سامنے دھونے‘ کی روایت زندہ رکھی ہے۔
بعض لوگوں کے مطابق اس سے پیپلز پارٹی حکومت کے اندر غیرمربوط فیصلہ سازی کے عمل کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ بات آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کی ہو، آئی ایس آئی کے سربراہ کو بھارت بھیجنے کی ہو یا صدر آصف علی زرداری کو نامعلوم دھمکی آمیز ٹیلیفون کال کی، حکومتی اداروں میں کوئی ربط دکھائی نہیں دیتا۔ اکثر تجزیہ نگار امریکہ کے دباؤ کے تحت گزشتہ برس مئی میں مقرر کیے جانے والے محمود علی درانی کے پس منظر کو بھی اس ساری صورتحال کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ امریکہ اور بھارت کا پاکستان پر کافی دباؤ رہا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی تحقیقات کی بابت مکمل تعاون کرے۔ وزیر اعظم کو اعتماد میں لیے بغیر اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق کرنا بظاہر بعض لوگوں کے خیال میں امریکی ایجنڈے پر عمل درآمد تھا جو محمود علی درانی نے کیا۔ بی بی سی اردو سروس کے انچارج عامر احمد خان کا خیال ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے پاکستان کی جمہوری حکومت ریاستی اداروں پر اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور محمود علی درانی کا معاملہ بھی امیر قصاب کی شہریت سے زیادہ اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ محمود علی درانی نے جو کیا وہ آیا قومی مفاد میں تھا یا نہیں اس پر پاکستانی میڈیا میں ایک طویل بحث کی توقع اب کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس سے قبل ہی بعض جگہوں پر تقریباًً ستر سالہ لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمود علی درانی کے ماضی کا فوجی پس منظر اور جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت میں ان کے مبینہ کردار کو بھی اب بعض تجزیہ نگار سامنے لا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی تھنک ٹینکس سے طویل تعلق بھی اب ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں سلامتی کے مشیر محمود درانی برطرف07 January, 2009 | پاکستان دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||