BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا کے لیے سن دو ہزار آٹھ کیسا رہا؟

ہندوستان نے خلائی تحقیق میں اہم پیش رفت کی
سن دو ہزار آٹھ ایسا سال رہا جس میں ہر برس کی طرح دہشتگردانہ حملے ہوئے، سیلاب آئے، سیاسی اتھل پتھل ہوئی اور عام شہریوں کے لیے بجلی، پانی، روٹی اور سڑک مسئلہ بنے رہے۔

فرق صرف اتنا تھا کہ شاید اس مرتبہ ان سب کی شدت گذشتہ برسوں سے کہیں زیادہ تھی۔

شمال مشرقی ریاستوں ، اتر پردیش اور بہار میں ہر برس کی طرح سیلاب آیا لیکن بہار میں ایسا سیلاب آیا کہ کئی برس کے ریکاڈ ٹوٹ گئے ۔ سیلاب کے سبب جہاں ہزاروں کی جانیں گئیں وہیں لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے۔

جو افراد سیلاب کے قہر سے بچ گئے ان کے سامنے مہنگائی کا سیلاب کھڑا تھا۔ اس برس مہنگائی کی شرح نے بھی گذشتہ تیرہ برس کا ریکارڈ توڑا اور ایک وقت ایسا آیا جب یہ شرح بارہ فیصد سے اوپر چلی گئی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کا سبب عالمی بازار کے حالات ہیں۔

مہنگائی کے معاملے پر حزب اختلاف نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی اور یہ بھی نعرہ دیا کہ جب کانگریس کی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو مہنگائی آسمان چھوتی ہے۔

سال کے ختم ہوتے ہوتے مہنگائی پر تو قابو پا لیا گیا لیکن حکومت کی مصیبتیں کم نہیں ہوئی۔ ان میں سے ایک تاریخی ہند امریکہ جوہری معاہدہ بھی تھا۔

اس معاہدے کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور خود حکومت کو باہر سے حمایت دینے والی بائیں بازو کی جماعتوں نے سخت مخالفت کی۔

پھر وہی ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ بائيں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی اور کہا کہ اس معاہدے کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی۔ لیکن حکومت پر نہ تو بی جے پی اور نہ ہی کمیونسٹ جماعتوں کی جانب سے ڈالا گیا دباؤ کام آیا اور ہندوستان اور امریکہ کے درمیان غیر فوجی جوہری معاہدہ عمل میں آگیا۔

ممبئی حملوں سے ہند پاک تعلقات میں کشیدگی آئی

ہند امریکہ جوہری معاہدہ تو ہو گیا لیکن اس دوران حکومت کے سامنے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا چیلنج آگیا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا اور بحث و مباحثہ کا دور شروع ہو اور اسی دوران وہ ہوا جو ہندوستان کی پارلیمنٹ کی تاریخ میں کبھی نہيں ہوا تھا۔

لوک سبھا یعنی ایوان زیريں میں اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت سنسنی پھیل گئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض ارکان نے ایوان میں نوٹوں سے بھرا ہوا ایک بیگ رکھ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ روپے انہیں تحریک اعتماد پر ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے لیے دیے گئے تھے۔

الزام تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے رہنماؤں نے بی جے پی کے اراکین پارلیمان کو رشوت دینے کی کوشش کی۔ لوک سبھا کے سپیکر سوم ناتھ چٹرجی نے اس معاملے کی تفتیش کے احکامات جاری کیے۔

لیکن جیسا کہ اس قسم کے معاملات میں اکثر ہوتا ہے تفتیشی کمیٹی کو کسی کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہيں ہوئے لیکن تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ واقعہ جمہوریت پر ایک بد نما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

حکومت کے سامنے چیلنجز کا دور چلتا رہا۔ انتخابی سال کا دباؤ کہیے یا کچھ کر گزرنے کی خواہش، حکومت نے ساٹھ ہزار کروڑ روپے کے قرضے معاف کر کے کسانوں کو لبھانے کی کوشش کی تو چھٹے پے کمیشن کا اعلان کر کے سرکاری ملازمین کا دل خوش کرنے کی ۔

ملک کے پہلے چاند مشن کی کامیاب لانچنگ کی گئی اور وزیراعظم نے اسے اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ہندو ستان کے لیے قخر کی بات اس لیے بھی تھیں کیونکہ اس سے قبل ایشیا کے دو ممالک چین اور جاپان بھی چاند پر اپنے مشن بھیج چکے ہیں۔

چندریان -1 کو دو برس کے مشن کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ اس مشن پر اسی ملین ڈالر صرف ہونگے لیکن اس مشن سے متعلق یہ سوال بھی اٹھنے لگے کہ جب ملک میں کسان غربت کے سبب خودکشی کر رہے ہیں اور ایک بڑے طبقے کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں تو ایسے میں اس قسم کے مشن کا کیا فائدہ؟

مرکزی حکومت کو سیتو سمندرم پراجیکٹ کے حوالے سے دیے گئے ایک حلف نامے کے سبب ہندو عقیدت مندوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ حکومتِ کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ سے سری لنکا سے ہندوستان کے ساحل تک کے سفر کا کافی وقت بچ جائےگا اور تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔

لیکن اس مقصد کے لئے ان سمندری چٹانوں کو کاٹنا پڑے گا جنہیں ہندوؤں کی تنظیمیں مذہبی اہمیت کی حامل تصور کرتی ہیں۔ ہندو مانتے ہیں کہ ان کے بھگوان رام اسی پُل کے ذریعے اپنی اپنی اہلیہ سیتا کو راون سے چھڑانے کے لئے سری لنکا گئے تھے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رام سیتوکے آس پاس کام پر عائد پابندی جاری رہے گی۔

ہند امریکہ جوہری معاہدہ عمل میں آیا

اس برس ناگالینڈ، میگھالیہ، تریپورا، چھتیس گڑھ ، میزورم ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، کرناٹک ، دلی اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔

اہم ریاستوں میں کانگریس کے حصے میں راجستھان ، دلی اور میزورم آئے جبکہ بی جے پی کے حصے ميں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور کرناٹک آئے۔

ادھر راجستھان میں گوجروں کی تحریک کے سبب بھاریتیہ جنتا پارٹی پر زبردست دباؤ تھا۔ راجستھان کی گوجر برادری خود کو درج فہرست ذاتوں میں رزرویشن دیے جانے کا مطالبہ کر رہی تھی ۔ اس مہم کی دوران پولیس فانئرنگ ميں درجنوں افراد کی جانيں گئیں اور پر تشدد احتجاج راجستھان سے دلی تک پھیل گیا۔ اور جب گوجروں نے سڑکوں کو جام کرنا شرو کیا تو یہ ایک قومی مسئلہ بن گیا تھا۔

ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں انتخابات سے قبل امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے معاملے میں وادی اور جموں خطے میں زبردست احتجاج ہوا۔ اس تنازعہ سے وادی اور جموں خطے کے درمیان دورياں کافی بڑھ گئیں۔

وادی کے باشندوں نے اقتصادی ناکہ بندی کا الزام عائد کیا اور تجارت کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا رخ کرنے کی کوشش کی۔ انتخابات سے قبل اس واقعہ نے سیاست دانوں کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں۔ لیکن جب ووٹنگ کا دن آيا تو ووٹرز نے بھاری تعداد ميں ووٹ ڈال کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

آسام، جےپور، احمدآباد، بنگلرو ، مالیگاؤں اور دلی میں بم دھماکے ہوئے لیکن ممبئی پر ہوئے حملے نے ملک کو ہلا دیا۔

وقفے وقفےسے دھماکےہوتے رہے اور ان کے پیچےے کبھی سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا یاسیمی کا ہاتھ بتایا گیا تو کبھی دکن مجاہدین کا۔ان حالات میں مسلمانوں اور ملک کے سکیولر طبقوں نے الزام عائد کرنا شروع کیا کہ دہشتگردی کے نام پر انہيں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ دارالعلوم دیو بند نے دہشتگردی کے خلاف فتوی جاری کر کے دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

لیکن دھماکے ہوتے رہے اور دلی دھماکوں کے چند روز بعد ہی دلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں پولیس نے ایک مبینہ مڈبھیڑ ميں دو مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا۔ بہت سے حلقوں نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن حکومت انکار ہی کرتی رہی۔

ریاست اڑیسہ ميں سخت گیر ہندو نظریہ والی تنظیم وشو ہند پریشد اور بجنرگ دل کے لوگوں نے عسائیوں پر حملے کیے تو دوسری طرف ممبئی کے انسداد دہشتگردی دستے کے چیف ہیمنت کرکرے نے مالیگاؤں‎ دھماکوں کے سلسلے میں سادھوی پرگیا سنگھ اور فوج کے ایک موجودہ کرنل کوگرفتار کر لیا تو ان کی حمایت میں بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی بھی میدان میں اتر آئے۔

ممبئی حملے میں ہیمنت کرکرے کی ہلاکت سے قبل انکا کہنا تھا کہ وہ اس کیس کے آخری مرحلے میں ہیں اور جلد ہی اس کی تفصیلات عام کریں گے۔

دو ہزار آٹھ میں اگر ہند پاک تعلقات کی بات کریں تو ممبئی حملوں سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف گامزن نظر آ رہے تھے۔دونوں نے جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیر کی سرحد تجارت کے لیے کھولی۔

چھبیس نومبر کی رات جب ممبئی پر حملہ تو پاکستان کے وزیر خارجہ ہندوستان میں ہی تھے۔ لیکن ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات تلخ ہو گئے۔

 کشمیری ووٹرکشمیریوں کا تذبذب
کشمیری قوم تذبذب کا شکار کیوں ہوئی
سرکردہ سیاستدان
کشمیر کے اہم سیاسی چہروں پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد