انڈیا اور فرانس کا جوہری معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور فرانس نے منگل کو ایک ایسے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں انڈیا کو فرانسیسی جوہری ری ایکٹرز کی فروخت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس معاہدے پر بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورۂ فرانس کے دوران ان کی فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی سے ملاقات کے دوران اتفاق رائے ہوا۔ اگرچہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ ’ توانائی اور تحقیق کے میدان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے دوطرفہ تعاون کی بنیاد بنے گا‘۔ تاہم فرانسیسی صدر کے ایک معاون کا کہنا ہے کہ’ ابھی ہم حکومتی سطح پر بات کر رہے ہیں اور صنعتکاروں کی سطح پر تعاون بعد میں ہو گا‘۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت فرانس بھارت کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے نیوکلیئر سازو سامان کے علاوہ یورپی پریشرائزڈ ری ایکٹر کا جدید ترین ماڈل بھی فراہم کرے گا۔ فرانس امریکہ کے بعد دنیا میں جوہری توانائی پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ فرانس سے یہ معاہدہ بھارت کے لیے ایک خوشخبری ہے کیونکہ بھارت کو اپنی تیزی سے ترقی کرتی صنعت کے لیے توانائی کی کمی کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا امریکہ جوہری معاہدہ منظور29 September, 2008 | انڈیا ہند امریکہ معاہدے کے حق میں ووٹ24 September, 2008 | انڈیا جوہری علیحدگی سے جوہری کلب کی طرف 07 September, 2008 | انڈیا معاہدے کی منظوری پر سیاسی ردعمل06 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||