انڈیا امریکہ جوہری معاہدہ منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ایوان نمائندگان کی جانب سے ہندامریکہ سویلین جوہری معاہدے کو منظوری ملنے کے بعد اس قسم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی وزیر خارجہ کانڈو لیزا رائس ہندوستان آ سکتی ہیں۔ ایوان نماندگان کی منظوری کے بعد جوہری معاہدے کو فیصلہ کن مرحلے کے لیے امریکی سنیٹ میں پیش ہونا ہے جس کے بعد امریکہ کے صدر جارج بش اس بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے باقاعدہ دستخط کریں گے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم اقوام متحدہ کے اجلاس کے لیے نیویارک میں تھے، ایوان نماندگان سے منظوری کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انڈیا دنیا کے جوہری ممالک کی فہرست میں نیا مقام حاصل کرنے جا رہا ہے۔ نیویارک کے بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ فرانس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ یورپی یونین کے اجلاس میں حصہ لینے کے لیےگئے ہیں۔ فرانس سے بی بی سی کے نامہ نگار آکاش سونی نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم کے ساتھ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے کہا ہے کہ کانڈو لیزا رائس کے ہندوستان کے دورے کا منصوبہ پہلے سے ہی طے تھا۔ ن کا کہنا تھا ’ ہاں ان کے جلدی ہندوستان آنے کی امید ہے۔ اس دورے کے دوران ہم باہمی تعلقات پر بات چیت کریں گے۔‘ ایوان نماندگان نے 298-117 ووٹوں سے یہ بل منظور کیا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس ہفتے ہی ایسے سینٹ میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر جارج بش نے سینٹ سے جلد سے جلد اس بل پر ووٹنگ کرنے کو کہا ہے۔ سنیٹ کا آخری سیشن اکتوبر میں ختم ہو رہا ہے۔ 1974 میں انڈیا کی جانب سے جوہری بم دھماکہ کرنے کے بعد امریکہ نے انڈیا پر جوہری سازو سامان کی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس معاہدے کے بعد ہندوستان پر عائد چونتیس برس پرانی پابندی ختم ہو جائے گی اور وہ امریکہ سمیت ديگر ممالک سے جوہری سازو سامان کی تجارت کر سکے گا۔ چونکہ یہ سویلین جوہری معاہدہ ہے اس لیے ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا۔لیکن اس معاہدے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کیا جانے والا یہ معاہدہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے سبب وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنے ملک میں حزب اختلاف اور بائیں بازو کی جماعتوں سے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ |
اسی بارے میں منموہن سنگھ فرانس کے دورے پر28 September, 2008 | انڈیا ’تمام مسائل کا حل بات چیت سے‘26 September, 2008 | انڈیا ہند امریکہ معاہدے کے حق میں ووٹ24 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||