BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 September, 2008, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری علیحدگی سے جوہری کلب کی طرف

ہند امریکہ معاہدے کے مکمل نفاذ میں اب صرف ایک مرحلہ باقی ہے ۔ اسے امریکی کانگریس میں منظور کیا جانا ہے ۔
متنازعہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کو جوہری سازو سامان فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ (این ایس جی) کی منظوری ملنےکے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کے ترقی یافتہ جوہری کلب میں شامل ہو گیا ہے۔

اس منظوری سے ہندوستان دنیا کا واحد ملک بن گیا جسے جوہری عدم توسیع کے معاہدے ’این پی ٹی‘ اور ’سی ٹی بی ٹی‘ پر دستخط کیے بغیر پوری دنیا میں جوہری سازو سامان اور ٹیکنالوجی کی تجارت کی اجازت مل گئی ہے۔

یہ امر کافی دلچسپ ہے کہ پینتالیس ملکوں کے جوہری گروپ نے ہند امریکہ معاہدے کو اتفاق رائے سے منظوری دی جب کہ ملک کے اندر سیاسی جماعتوں کے اندر اس معاہدے پر شدید اختلافات ہیں۔

حزب اختلاف کی حماعت بی جے پی نے اسے ’ملک کے اقتدار اعلٰی سے سمجھوتہ ‘ قرار دیا تو وہیں بائیں بازو کی جماعتیں بھی اسے’امریکی سامراجیت کے آگے گھٹنے ٹیکنے‘ کے مترادف بتا رہی ہیں۔

اس کے برعکس جوہری سائنسدانوں، توانائی کے اداروں اور حکومت اور میڈیا میں اس بات پر خوشی ظاہر کی جا رہی ہے کہ ہندوستان کے خلاف تین عشرے سے زیادہ عرصے جاری جوہری پابندی اب ختم ہونے کو آ رہی ہے ۔

معاہدے سے ناخوش
 حزب اختلاف کی حماعت بی جے پی نے اسے ’ملک کے اقتدار اعلی سے سمجھوتہ ‘ قرار دیا تو وہیں بائین بازو کی جماعتیں بھی اسے ’امریکی سامراجیت کے آگے گھٹنے ٹیکنے ‘ کے مترادف بتا رہی ہیں

ہند امریکہ معاہدے کے مکمل نفاذ میں اب صرف ایک مرحلہ باقی ہے ۔ اسے امریکی کانگریس میں منظور کیا جانا ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے شاید یہ معاہدہ اسی مہینے ایوان میں پیش کر دیا جائے اور اس کی منظوری میں کو‏ئی بڑی دقت پیش آنے کی توقع نہیں ہے۔

اس معاہدے کے نافذ ہوتے ہی ہندوستان امریکہ، فرانس، روس، برطانیہ، کینیڈا جاپان اور کئی دیگر ممالک سے کم از کم بیس جوہری ری ایکٹروں اور ایندھن کی خریداری پر بات چیت شروع کر دے گا۔

ہندوستان میں اقتصادی ترقی کے ساتھ بجلی کی مانگ میں سپلائی سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں اس وقت پندرہ ایٹمی ری ایکٹر موجود ہیں لیکن یورینیم کی کمی کے سبب ان سے دو ہزار میگا واٹ سے بھی کم بجلی پیدا ہو پا رہی ہے۔

اس معاہدے کے نفاذ سے آ‏‏ئندہ دس برس میں جوہری ری ایکٹروں سے تیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ جوہری توانائی کے محکمے مطابق سنہ 2050 تک ایٹمی ری ایکٹروں سے دو لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔

طویل مدتی منصوبے کے تحت اس صدی کے وسط تک ہندوستان کی بجلی کی ضروریات کا 26 فیصد جوہری ٹیکنالوجی سے پورا کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی طرف پہلا اہم قدم ہے۔

پیدوار
 ملک میں اس وقت پندرہ ایٹمی ری ایکٹر موجود ہیں لیکن یورینیم کی کمی کے سبب ان سے دو ہزار میگا واٹ سے بھی کم بجلی پیدہ ہو پا رہی ہے ۔ اس معاہدے کے نفاذ سے آ‏‏ئندہ دس برس میں جوہری ری ایکٹروں سے تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدہ کی جا سکے گی

ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس کی مجموعی داخلی پیداوار صرف پانچ برس میں دوگنی ہوگئی ہے لیکن سڑکوں، جدید بندرگاہوں، سٹوریج اور سب سے اہم بجلی کی کمی کے سبب اس ترقی کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ چین اگر آج ہندوستان سے برسوں آگے چل رہا ہے تو صرف اس لیے کہ اس نے ترقی کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل آج سے تیس برس پہلے شروع کر دیا تھا۔ اور وہاں جو منصوبے بنائے گئے وہ حال کی ضروریات کے مطابق نہیں بلکہ مستقبل کے تقاضوں کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں جو جدید ڈھانچے تیار ہو رہے ہیں وہ امریکہ اور یورپ سے برسوں آگے ہیں۔

ہندوستان میں بجلی کی کتنی قلت ہے اس کا اندازہ صرف اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر جیسی ترقی یافتہ صنعتی ریاست میں بھی صنعتوں کے لیے روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی سپلا ئی بند کرنی پڑتی ہے۔ کانپور جیسے صنعتی شہر بجلی اور دوسری سہولیات کی کمی کے سبب’تباہ‘ ہوگئے اور نوئیڈا اور غازی آباد جیسے علاقوں میں صنعتی یونٹ چلائے رکھنے کے لیے ہر برس ہزاروں کروڑ روپے جنریٹر ڈیزل پر صرف ہوتے ہیں۔

جوہری معاہدے کا این ایس جی سے منظوری ملنا بظاہر وزير اعظم کے عزم کا ترجمان ہے

مستقبل میں ترقی کا سب سے زیادہ انحصار اس بات پر ہو گا کہ کس ملک کے پاس توانائی کے کتنے ذرائع ہیں۔ اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ تحقیق توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش پر کی جا رہی ہے۔ ہندوستان بھی توانائی کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران ، ترکمانستان ، اور کئی دیگر ملکوں سے قدرتی گیس کی خریداری کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

امریکہ اور چین کی طرح ہندوستان بھی مستقبل کے لیے توانائی کی سپلائی کو محفوظ کر لینا چاہتا ہے۔ اتنی شدید سیاسی مخالفت کے باوجود امریکہ سے جوہری اشتراک کا معاہدہ کرنا مستقبل کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

پینتیس برس کی جوہری تنہائی کے دوران بہترین ری ایکٹرز ، بہترین سیاست دانوں اور بہترین جوہری تحقیقی اداروں کی موجودگی کے باوجود پندہ جوہری ری ایکٹروں سے دو ہزار میگا واٹ سے بھی کم بجلی پیدا کی جا سکی ہے۔ ہندوستان اس سے زیادہ کیا کھو سکتا ہے۔

رہی بات مزید جوہری دھماکے کرنے کی تو ہندوستانی سائنسدانون نے بم بنانے کے تمام تجربے پہلے ہی کر لیے ہیں اور ہندوستانی قیادت کو یہ پتہ ہے کہ مستقبل میں جوہری بموں کی نہیں جوہری تونائی کی ضرورت ہوگی۔

گجرات دھماکے، تفتیش کرتی پولیسدلی ڈائری
احمدآباد کے بعد سورت دھماکوں کےحل کا دعوٰی
مارچدِلّی ڈائری
کشمیر:ماضی سے غیر یقینی مستقبل کی طرف
 فائل فوٹودِلّی ڈائری
ہندوستان میں مسلمانوں کی کشمش مزید گہری
ہندوستان پاکستان کے رشتے (فائل فوٹو)دلی ڈائری
ہند -پاک رشتے: پھر پرانی ڈگر پر؟
دھماکے کےبعد کی تصویردلی ڈائری
دھماکوں سے نمٹنے میں خفیہ ادارے بے بس
دِلّی ڈائری
سیاسی افرا تفری اور کشمیر پر بدلتا رجحان
ہندوستانی طیارےدِلّی ڈائری
سی بی آئی پر نکتہ چینی، امریکہ میں فضائی مشق
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد