کشمیر: غیر یقینی مستقبل کی طرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں میں امر ناتھ شرائن کے حامی مظاہرین کی جانب سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کے بعد وادی میں گیارہ اگست سے شروع ہونے والی ’مظفرآباد چلو‘ تحریک کےمحض تین دن کے اندر تیس سے زیادہ افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے تھے۔ سرینگر کے ہسپتالوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ کشمیری نوجوان گولیوں کے زخم کے ساتھ زیر علاج تھے۔ شورش زدہ وادی کی فضا ایک بار پھر کشمیر کی آزادی کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ نوے کے عشرے کی علیحدگی پسندي کی تحریک کی یاد تازہ ہو گئی۔ حریت کانفرنس کے رہنما، سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک برسوں کے بعد اکٹھے نظر آئے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ ہندوستان کی وفاقی حکومت اپنے زیر انتظام دونوں خطوں میں اس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال سے سکتے میں آگئی ۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی سے جو تنازع پیدا ہوا اس نے رفتہ رفتہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا ۔ کشمیر میں زمین کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور وادی کے عوام شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کی مخالفت بنیادی طور پر اس وجہ سے کر رہے تھے کہ بورڈکے ارکان کا تعلق کشمیر سے نہیں ہے، اس لیے غیر کشمیریوں کے ہاتھ میں یہ زمین نہیں جانی چاہیئے ۔ وہ اسےایک بڑے ’گیم پلان‘ کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر وادی کی ہند نواز جماعتیں اور علیحدگی پسند دونوں ہی کم و بیش متفق نظر آئے۔ بائیس جون کو پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ’یہ ہندو اور مسلم کا معاملہ نہیں ہے یہ ہماری زمین کا معاملہ ہے۔‘ ہندوستان میں ذرائع ابلاغ نے یہ تاثر دیا کہ وادی کے مسلمانوں نے امر ناتھ جیسے بڑے مقدس مقام کے زائرین کو کچھ سہولیات فراہم کرنے کے لیے زمین دینے کی مخالفت کی۔ جواب میں جموں کے ہندوؤں نے وادی کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی ۔ دونوں خطوں کے درمیان گزشتہ بیس برس میں پیدا ہونے والی خلیج قطعی طور پر واضح تھی۔
چند ہفتے قبل تک حریت کے رہنما کشمیر کی صورتحال میں یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ امر ناتھ کے تنازعے کے درمیان وہ ایک بار پھر قیادت کا محور بنے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ سنیچر کو پوری وادی کشمیر میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیتی جلسے منعقد کیے گئے۔ پرانے دنوں کی طرح ہزاروں کشمیری اپنے کندھوں پر اپنے رہنماؤں کو اٹھائے ہوئے فلک شگاف نعروں کے ساتھ مظفرآباد روڈ کھولنے کا مطالبہ کر تے ہوئے اس طرح آگے بڑھ رہے تھے جیسے آج پھر کوئی دیوار برلن ٹوٹنے والی ہو۔ سرحد کے دوسری جانب پاکستان کی سیاست اپنے طویل بحران کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ برس قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی کے بعد سے پاکستان اپنی اندرونی سیاست کی پیچیدگیوں کے گرداب میں پھنسا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس مدت ميں بات چیت تو چلتی رہی لیکن یہ بات چیت مذاکرات برائے مذاکرات سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ بات چیت میں گزشتہ دو برس میں عملی طور پر کوئی پیش قدمی نہیں ہو ئی ہے۔ ہندوستان کے بھی سیاسی حالات کچھ ایسے رہے ہیں کہ کشمیر اس کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ لیکن اس مدت میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بہت اچھے رہے اور پرانے دنوں کی کشیدگی تحلیل ہو چکی تھی۔ صدر پرویز مشرف کے براہ راست اقتدار کے دور میں ان کی طرف سے جو مختلف تجاویز اور فارمولے سامنے آئے ان سے نہ صرف یہ کہ کشمیر کے سوال پر پاکستان کے مؤقف میں غیر معمولی لچک پیداہوئی بلکہ وہ کافی حد تک ہندوستان کے موقف کے نزدیک پہنچ گیا۔ مختلف تجاویز اور فارمولوں کے باوجود گزشتہ دو برس میں کشمیرکے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اعتماد سازی کے جو اقدامات پہلے کیے جا چکے تھے ان میں بھی اب خلل پڑنا شروع ہو چکا ہے۔ شورش زدہ وادی میں شدت پسند بھی بدلتے ہوئے حالات میں یا تو پیچھے ہٹ رہے ہیں یا تو ختم ہو رہے ہیں۔ وادی نیلم میں شدت پسندوں کی موجودگی کے خلاف اب مظاہروں کی خبریں آرہی ہیں۔
علیحدگی پسند رہنما اور کشمیر کے عوام اس مرحلے پر بے سمتگی، کنفیوژن اور یے یقینی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ وادی کا موجودہ رد عمل اسی ملی جلی کیفیت کا عکاس ہے۔ زمین کی منتقلی کے تنازعہ نے بے ساختہ مظاہروں اور اجتماعی احتجاج کا موقع ضرور فراہم کیا ہے لیکن اس کے کسی نتیجے پر پہنچنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ افتصادی ناکہ بندی ختم ہوتے ہی وادی میں اقتصادی سرگرمیاں پھر شروع ہو جائیں گی اور زندگی چند دنوں میں معمول پر آنے لگے گی۔ اگر حالات جلد معمول پر آگئے تو صوبے میں اکتوبر میں انتخابات ہونگے۔ اطلاع کے مطابق بیس سے زیادہ شدت پسند اور علیحدگی پسند رہنما انتخابات لڑنے کے لیے مختلف جماعتوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ بعض علیحدگی پسند جماعتیں بھی انتخابات میں حصہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ وہ پہلے کی طرح کشمیر پر اپنی توجہ دے سکے۔ خود ہندوستان میں بھی پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور آنے والے دنوں میں حکومت کی ساری توجہ انتخابات پر مرکوز رہے گی۔ امریکہ اور یورپی ممالک بھی افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کی مغربی سرحد کے حالات کے پیش نظر کشمیر کے سوال پر کو ئی نئی کشیدگی دیکھنا نہیں چاہیں گے۔ کشمیر کی اس صورتحال میں مستقبل قریب میں کسی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں۔ کشمیری رہنما محبوبہ مفتی نے کہا کہ امرناتھ کا تنازع مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف یہ یاد دلا رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے تنازع کو ہندوستان کی حکومت محض ایک انتظامی غلطی سمجھ رہی ہے جسے بقول اس کے غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا، جس کا فائدہ بی جے پی اور پی ڈی پی جیسی جماعتوں نے اٹھانے کی کوشش کی۔ اور اس افراتفری میں علیحدگی پسندوں کے ہاتھ ایک اچھا موضوع آ گیا ۔ امر ناتھ شرائن بورڈ جیسا کوئی معاملہ ہو سکتاہے کہ پھر کسی بے ساختہ ردعمل کا سبب بن جائے لیکن یہ کشمیر میں کسی بڑی تبدیلی کا موجب بن جائے فی الحال اس کے امکانات نہیں ہیں۔ حالات معمول پر آنے کے بعد کشمیر میں بے یقینی کی کیفیت میں شاید اور اضافہ ہو۔ |
اسی بارے میں انڈیا: مذہبی تنظیموں کی جمہوریت10 August, 2008 | انڈیا ہندو پاک: پھر پرانی ڈگر پر؟03 August, 2008 | انڈیا دھماکے: خفیہ اداروں کی بے بسی27 July, 2008 | انڈیا سیاسی افرا تفری اور کشمیر پربدلتا رجحان20 July, 2008 | انڈیا بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ13 July, 2008 | انڈیا منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||