انڈیا: مذہبی تنظیموں کی جمہوریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے نرمدا ضلع میں نرمدا سروور ڈیم، صوبے میں آبپاشی اور پینے کے پانی کا انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ صوبائی حکومت نے ڈیم کے مقام کو ایک تقریحی مقام میں تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیم اب ایک مقبول ’پکنک اسپاٹ‘ بن گیا ہے اور اسے دیکھنے کے لیے پورے صوبے سے لوگ یہاں آتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں باقی لوگوں کی طرح کچھ مسلم فیملیز بھی وہاں پکنک کے لیے گئیں۔ ان میں ایک فیملی غیر مقیم ہندوستانیوں کی بھی تھی جو برطانیہ سے آئے تھے۔ ان سبھی نے داخلہ ٹکٹ خریدا اور گیٹ کی طرف جانے لگے ۔ لیکن گیٹ کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی ان کو وہاں تعینات پولیس نے روک دیا۔ ان سے ان کا نام پوچھا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ مسلم ہیں تو ان سے ان کا بیک گراؤنڈ اور علاقے وغیرہ کی تفصیلات پوچھی گئیں۔ انہیں مسلم ہونے کے سبب اندر جانے سے روک دیا گیا۔ گزشتہ اتوار کو گجرات کے شہر گودھرا میں پولیس نے تین گھنٹے کے نوٹس پر شہر کے تمام اماموں اور مدرسوں کے مہتمم کو پولیس ٹاؤن طلب کیا۔ پچاس سے زیادہ امام اور مدرسین و مہتمم گھبرائے ہوئے پولیس کے سامنے حاضر ہوئے۔ وہاں پولیس نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھاتے ہیں، ان کے طلبا کہاں کہاں کے ہیں، ان کا بیک گراؤنڈ کیا ہے۔ مدرسے چلانے کے لیے فنڈ کہاں سے آتا ہے۔ مسجدوں میں کیا کیا ہوتا ہے وغیرہ۔ ان میں کئی سرکردہ مولانا بھی شامل تھے۔ ان سبھی سے اپنے دو دو فوٹو اور فون نمبر جمع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ چند ہفتے پہلے پونے میں ایک ہندو خاتون نے ایک کثیر منزلہ عمارت میں واقع اپنا اپارٹمنٹ اپنے ایک مسلم دوست کو فروخت کرنا چاہا۔ جیسے ہی اس کی خبرعمارت کے دیگر مکینوں کو ملی وہ اس کی مخالفت پر اتر آئے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی مسلم ان کی عمارت میں رہے خواہ وہ انہیں کے درجے اور حیثیت کا ہی کیوں نہ ہو۔ مخالفت اتنی بڑھی کہ انہیں اپنافلیٹ ایک مسلم کو فروخت کرنے کے لیے عدالت کا سہارا لینا پڑا۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں ہیں۔ ہندوستان میں یہ ایک بڑھتے ہوئے رحجان کی عکاس ہیں۔گجرات تو اس طرح کے واقعات کے لیے مشہور ہے ہی اب ممبئی سے لے کر کمیونسٹ کولکتہ تک، مسلمانوں کو اکثر غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں بار بار مسلمانوں کا نام آنے سے بڑے بڑے شہروں میں لوگ مسلمانوں کو کرائے پر مکان دینے سے گھبراتے ہیں۔ ان واقعات کاملازمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑا ہے اور مسلمانوں کی مشکلیں بڑھی ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی کے تنازعے نے بھی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا ہے اور زمین کی منتقلی کی مخالفت کو کشمیریوں کی نہیں بلکہ مسلمانون کی عمومی مذہبی عدم رواداری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اگر بنگلور اور احمدآباد اور سورت کے حالیہ بم دھماکوں میں مسلم تنظیمیں ملوث پائی گئیں تو یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں برادریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اس فرق کو دور کرنے میں اس وقت بعض مسلم مذہبی تنظیمیں ہی کلیدی رول ادا کر رہی ہیں۔ سول سوسائٹی اور جمہوری اداروں کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ کردار نظر نہیں آرہا ہے۔ جمہوری ہندوستان میں غیر جمہوری، قدامت پسند اور متعصب قرار دی جانے والی یہ مذہبی تنظییں اس وقت رواداری اور جمہہوریت کا پورا حق ادا کر رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں ہندو پاک: پھر پرانی ڈگر پر؟03 August, 2008 | انڈیا دھماکے: خفیہ اداروں کی بے بسی27 July, 2008 | انڈیا سیاسی افرا تفری اور کشمیر پربدلتا رجحان20 July, 2008 | انڈیا بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ13 July, 2008 | انڈیا منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ01 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||