ہندو پاک: پھر پرانی ڈگر پر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ مہینے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کمپوزٹ ڈائلاگ کا پانچواں دور شروع ہوا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے جب چند دنوں قبل کابل میں ہندوستانی سفارت خانے ميں دھماکہ ہوا تھا اور ہندوستان نے اس دھماکے کے لیے صاف طور پر پاکستان کی خفیہ سروس پر الزام عائد کیا تھا۔ پاکستان کو یہ خدشہ تھا کہ ہندوستان کہیں مذاکرات ہی نہ منسوخ کردے۔ مذاکرات شروع ہوئے۔ کسی کو بھی اس مرحلے کی بات چيت سے کوئی امید بھی نہيں تھی کیوں کہ ہندوستان کی حکومت جوہری معاہدے کے سوال پر پارلیمنٹ ميں اعتماد کے ووٹ کا سامنا کررہی تھی اور وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی ساری توجہ حکومت بچانے پر مرکوز تھی۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران ہند-پاک تعلقات میں ہر محاذ پر بہتری آئی ہے اور غالبا اتنے اچھے تعلقات پہلے کبھی نہيں رہے۔ کشمیر کے حالات میں بتدریج بہتری آرہی تھی۔ لیکن تعلقات میں بہتری کا جوعمل گئی برسوں سے چل رہا تھا اس میں گذشتہ دو برس سے رکاوٹ آنی شروع ہوگئی ہے۔ ممبئی کی ٹرینوں، سمجھوتہ ایکسپریس اور حیدآباد اور دلی ميں بم دھماکوں کے لیے عموما پاکستان کی بعض شدت پسند تنظیموں کا نام سامنے آیا تھا۔ ان دھماکوں کے باوجود تعلقات میں تلخی نہیں پیدا ہوئی لیکن مذاکرات میں پیش رفت کاعمل ضرور سست ہوگيا۔ گزشتہ برس مارچ میں پاکستان کے چیف جسٹس کی معذولی کے بعد پاکستان میں پیدا ہونےو الے سیاسی بحران سے مذاکراتی عمل مزید متاثر ہوا۔ ایک عرصے سے دونوں ہی حکومتیں اپنی اپنی اندورنی سیاست میں پھنسی ہوئی ہیں۔ اس طرح مذاکرات کا عمل بھی حالات کا شکار ہے۔ گذشتہ دو برس سے بات چیت میں عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں جو اضافی فیصلے کیے گئے تھے ان کو یا تو ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا ہے یا پھر ڈمپ کردیے گئے ہیں۔ اور یہی وجہ رہی کہ ابھی تک بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے اور کئی مشکل صورتحال کے باوجود تعلقات میں آئی بہتری پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ لیکن اب ایک بار پھر حالات بدلتے ہوئے لگ رہے ہیں۔ کابل دھماکہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کا سبب بن رہا ہے۔ اب پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان اس کے قبائیلی علاقوں میں شورش کو ہوا دے رہا ہے۔ اسی دوران اچانک کنٹرول لائن پر سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جارہا ہے۔ فضا میں پرانے دنوں کی کشیدگی اور تلخی کی بو محسوس کی جاسکتی ہے۔ بنگلور، احمدآباد اور سورت کے بم دھماکوں میں اگر خفیہ ایجینسیوں کو پاکستانی ہاتھ نظر آیا تو یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوگی۔
پاکستان کی حکومت اب بھی اندرونی سیاسی پیچیدگیوں ميں پھنسی ہوئی ہے اور فوری طور پر وہاں سیاسی استحکام کے آثار نہيں ہيں۔ ادھر ہندوستان میں بھی حکومت پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں میں ہے۔ ہند پاک تعلقات موجودہ حالات میں دونوں ملکوں کی ترجیحات ميں شامل نہيں ہے۔ خدشہ صرف اس بات کا ہے کہ کہیں دونوں ممالک ایک بار پھر سرد جنگ کے دنوں میں واپس نہ چلے جائیں۔ دنیا میں اس وقت شاید صرف شمالی کوریا اور جنوبی کوریا ہی ایسے دو ممالک ہيں جنہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی طرح اپنے اوپر کشیدگیوں اور تلخیاں مسلط کر رکھی ہيں۔ ایک دوسرے شہریوں کی ہر طرح کی مشکلات کھڑی کر رکھی ہيں۔ لیکن اب وہاں بھی تبدیلیاں شروع ہوگئی ہيں۔ ہندوستان اور پاکستان کو بہت جلد یہ سمجھنا ہوگا کہ جس دنیا میں وہ رہتے ہيں وہ بہت پہلے بدل چکی ہے۔ |
اسی بارے میں کولمبو: گیلانی، منموہن ملاقات آج02 August, 2008 | آس پاس ’امن کا عمل دباؤ کا شکار‘ 21 July, 2008 | انڈیا دلی میں ہند پاک مذاکرات شروع 21 July, 2008 | انڈیا پرنب پاکستان کے دورے پر13 January, 2007 | انڈیا ثقافتی فروغ پر پاک انڈیا بات چیت 01 June, 2006 | انڈیا پاک بھارت مذاکرت 27 جون سے01 June, 2004 | انڈیا اپنی منزل ایک ہے : منموہن سنگھ20 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||