سیاسی افرا تفری اور کشمیر پربدلتا رجحان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی افرا تفری کا عالم ہندوستان میں جوہری معاہدے پر منموہن سنگھ حکومت اور بائیں باوزو کی جماعتوں میں اختلافات ابتدا سے ہی تھے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ باياں محاذ حکومت سے کبھی بھی حمایت واپس لے سکتا ہے۔ لیکن حکمراں کانگریس اور حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی دونوں ہی بڑی جماعتیں پارلیمنٹ میں اعتماد کی تحریک کے لیے تیار نہیں تھیں۔ گھبراہٹ میں دونوں ہی جماعتیں اب ایک دوسرے کی صفوں میں شب خوں مارنے کی کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس وقت دارالحکومت دلی میں سیاسی افرا تفری کا عالم ہے۔ کافی عرصے بعد اندر کمار گجرال اور دیوے گوڑا کے زمانے کی طرز کی سیاسی سرگرمیاں دلی میں واپس لوٹی ہیں۔ وقت سے پہلے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیے جانے سے پارلیمنٹ کے عملے کو بھی صفائی ستھرائی سے لے کر اعتماد کی تحریک پر بحث تک کی تیاریاں ہنگامی طور پر کرنی پڑی ہیں۔اعلی سرکاری افسر بھی اس وقت سانس روکنے بیٹھے ہیں کہ دیکھیے پارلیمنٹ میں کیا ہوتا ہے۔ کشمیر کے بارے میں بدلتا رجحان
ایک سروے کے مطابق ہندوستان اور پاکستان دونوں کی اکثریت اس بات کے لیے تیار ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دینا چاہیے۔ ورلڈ پبلک اوپینئن کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اگر کشمیریوں کی اکثریت آزادی کا انتخاب کرتی ہے تو ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی اکثریت اس آزادی کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ جائزہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف ممکنہ حل کے بارے میں کیا گيا تھا۔ کشمیر کے سوال پر دونوں حلقوں میں ممکنہ حل کے بارے میں لوگوں نے کھلے پن کا اظہار کیا ہے۔ جن لوگوں کا سروے کیا گيا ہے ان ميں 75 فیصد پاکستانی جموں و کشمیر کی آزادی کو تسلیم کرنے یا آزاد کرنے کے حق میں ہيں۔ پچاس فیصد ہندوستانیوں نے اس کی مخالفت کی جبکہ دیگر پچاس فیصد نے کہا کہ یہ کم از کم قابل قبول ہے یا اس سوال کا جواب نہیں دیا ۔ جموں و کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے کی تجویز زیادہ قابل قبول نہيں ہے۔ پاکستان میں 52 فیصد اس کے خلاف ہيں۔ ہندوستان ميں 48 فیصد نے اس کی مخالفت کی جبکہ 58 فیصد نے اس کا یا تو جواب نہيں دیا یا اسے کسی حد تک قابل قبول کہا۔ گجرات کا دوسرا پہلو
گجرات کا جب ذکر آتا ہے تو عموماً فسادات اور گودھرا کے واقعات فوراً ذہن میں آجاتے ہيں۔ لیکن ان تنازعات کے درمیان گجرات وزیر اعلی نریندر مودی کی قیادت میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں گجرات کی انتظامہ کو ملک کی سب سے بہترین اور باصلاحیت انتظامیہ قرار دیا گيا۔ گجرات صوبہ سرمایہ کاری کے لحاظ سے ہندوستان کے اولین صوبوں میں سے ہے۔ گزشتہ دنوں اسٹیٹ پٹیرولیم کارپوریشن نے صوبے کے کرشنا گوداوری بیسین میں قدرتی گیس کے ایک بڑے ذخیرے کو دریافت کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی نریندر مودی نے کارپوریشن کے جائزے کے مطابق بتایا کہ اس ذخیرے میں تقریبا سو ارب ڈالر مالیت کی گیس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں گجرات پیٹرولیم کارپوریشن صوبے کی توانائی کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کا اہل ہوگا۔ جعلی دواؤں کے لیے عمر قید
ہندوستان میں جعلی دواؤں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت نے جعلی دوائيں بنانے اور انہيں فروخت کرنے والوں کو عمر قید تک کی سزادینے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں کابینہ جعلی دواؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ موجودہ قانون کے تحت جعلی دوائيں بنانے کے جرم ميں پکڑے بانے والے پانچ سال کی قید اور دس ہزار تک کا جرمانہ کیا جاتا تھا۔ لیکن ترمیم شدہ قانون میں یہ سزا بڑھانے کر عمر قید کرنے اور جرمانہ دس لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ مجوزہ قانون میں کئي ایسے معاملات کو غیر ضمانتی زمرے ميں رکھا گیا ہے جن ميں پہلے ضمانت مل جاتی تھی۔ میدانی بیت الخلا میں ہندوستان سب سے آگے دنیا ميں تقریبا ایک ارب بیس کروڑ افراد اب بھی رفع جاجت کے لیے کھلی جگہوں کا استعمال کرتے ہيں اور ہندوستان میں ایسے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صفائی ستھرائي اور پینے کے صاف پانی کی سپلائی سے متعلق عالمی تنظیم صحت کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں تقریبا 67 کروڑ افراد کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے لیے جاتے ہيں۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گيا ہے کہ پوری دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ 1990 میں یہ تعداد 24 فیصد تھی جو 2006 میں گھٹ کر 18 فیصد ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ہندوستان ميں حالات میں کچھ بہتری آئي ہے لیکن ابھی اس ضمن میں بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ |
اسی بارے میں بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ13 July, 2008 | انڈیا منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا کانگریس کی انتخابی تیاری، پرنب کا چین دورہ01 June, 2008 | انڈیا بنگلہ دیشیوں کی مصیبت اور پی ایم کے دوست25 May, 2008 | انڈیا عدلیہ میں شفافیت، کم عمری میں جام 04 May, 2008 | انڈیا وزیر اعظم کے طیارے کو خطرہ، اناج کی قلت27 April, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||