گجرات دھماکے: تفتیش اور ملزمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ بدھ کو گجرات پولیس کے سربراہ پی سی پانڈے نے ایک نیوز کانفرنس میں سورت بم دھماکوں کا معاملہ بھی حل کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سورت میں نہ پھٹنے والے بم دھماکوں کے پیچھے بھی سٹوڈنٹ اسلامک مومنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کے انہی لوگوں کا ہاتھ تھا جو احمدآباد کے دھماکوں میں ملوث تھے۔ میڈیا کے بعض تجزیوں میں ان دھماکوں کے اسرار اور ان کی تفتیش کے بارے میں شکوک ظاہر کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جو لوگ پولیس کی تفتیش پر شک کر رہے ہیں وہ بقول ان کے دہشت گردوں اور ملک کے غداروں کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ احمدآباد کے بم دھماکوں کے الزام میں سیمی کے مبینہ کارکنوں کی گرفتاری کے بعد اب جے پور کی پولیس بھی یہ دعوٰی کر رہی ہے کہ اس نے بھی مئی کے جے پور کے بم دھماکوں کا معاملہ حل کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان واقعات میں بھی ممنوعہ سیمی کے کارکن ملوث تھے۔ اگر ذہن پر ذرا زور دیں تو یاد آئے گا کہ جے پور کے دھماکوں کے فورا بعد پولیس نے ان واقعات میں بنگلہ دیش کی دہشت گرد تنظیم حرکت الجہاد اسلامی یعنی حوجی کا نام لیا تھا۔ جے پور اور دیگر شہروں میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کے خلاف زبردست مہم چھیڑ دی گئی تھی اور کئی صوبوں میں ’مشتبہ حوجی کارکنوں‘ کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔ تاہم کچھ ہی دنوں میں حرکت الجہاد کا نام میڈیا سے غائب ہو گیا۔ ممنوعہ تنظیم سیمی پر پابندی کی توسیع کا مقدمہ دلی ہائی کورٹ میں تھا اور عدالت نے چھ جولائی کو سیمی پر سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا۔ خصوصی عدالت کا کہنا تھا کہ سیمی پر پابندی جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے کیوں کہ اس کے پاس سیمی کو ممنوعہ قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی دوران حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور اسی مدت میں جولائی کے تیسرے ہفتے میں احمدآباد میں سلسلےوار بم دھماکے ہوئے اور پولیس نے اتر پردیش ، گجرات ، ممبئی ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور دیگر ریاستوں کے درجنوں مبینہ سیمی کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ پولیس یہ بھی دعوٰی کر رہی ہے کہ ماضی کے بم دھماکوں میں بھی سیمی کا ہی ہاتھ تھا جس کی وہ گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے ملزمان کے بارے میں روزانہ میڈیا کو طرح طرح کی خبریں جاری کی جانے لگیں۔ مثلا یہ کہ سیمی نے کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور گجرات کے جنگلوں ،درگاہوں اور مسجدوں میں دہشت گردی کی ٹریننگ دی۔ بم کس نے بنائے ، اس کی پلاننگ کہاں ہوئی ، کئی ملزموں کو ’ماسٹر مائنڈ‘ اور ’کنگ پن‘ جیسے زمرے میں رکھا گیا۔ ظاہر ہے کہ پولیس ابھی تفتیش کے درمیانی مرحلے میں ہے اور اگر دھماکوں کی نوعیت دیکھیں تو یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ پولیس کو ان تمام ملزموں کے خلاف عدالت میں باضابطہ فرد جرم داخل کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ فرد جرم تیار کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ گودھرا کے واقعہ میں تو سوا سو مسلم ملزموں کے خلاف کم از کم سترہ بار فرد جرم تبدیل کرنی پڑی تھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ پولیس نےگجرات کے دھماکوں کو حل کرنے کے جو دعوے کیے ہیں وہ اب تک کی اطلاع کے مطابق صرف ملزموں کے ’اقبالیہ بیان‘ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ آئیے تفتیش کے ایک اور پہلو پر نظر ڈالیں۔ احمدآباد کا بم دھماکہ دہشتگردی کا غالبا پہلا ایساواقعہ ہے جس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے سراغ کی واضح کڑی موجود ہے۔ دھماکوں سے محض چند منٹ پہلے ممبئی کے ایک علاقے میں مقیم ایک امریکی شہری کین ہیووڈ کے کمپیوٹر یا ان کے وائی فائی انٹرنیٹ نظام کے ذریعے انڈین مجاہدین کے نام سے میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں ان دھماکوں کی ذمے داری قبول کی گئی تھی۔ ظاہر ہے جس نے بھی یہ پیغام بھیجا ہے وہ ان دھماکوں کے بارے میں پہلے سے جانتا تھااور اس بھیانک واقعہ کا حصہ تھا۔
دھماکوں کے سلسلے میں یہ اب تک کا سب سے بڑا سراغ ہے۔ پولیس کی خصوصی ٹیم اس واقعے کی تفتیش کر رہی تھی۔ کین ہیووڈ کے جھوٹ کی جانچ کرنے والے کئی ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں۔ پولیس ان کے جوابات سے مطمئن نہیں تھی اور بغیر اجازت ان کے ملک سے باہر جانے پر روک لگا دی گئی تھی۔ ہوائی اڈوں کو باضابطہ الرٹ جاری کیے گئے تھے۔ کین ہیووڈ سے پوچھ گچھ کے لیے ان کا نارکو ٹسٹ ہونے والا تھا۔ لیکن جب پولیس پندرہ اگست کی صبح ان کے گھر پر گئی تو پتہ چلا کہ وہ ملک سے جا چکے ہیں۔ ان کا ملک سے چلا جانا اتنا ہی پراسرار ہے جتنا کہ ان کے انٹرنیٹ سے بھیجے گئے پیغام کے سراغ پر پولیس کی خاموشی۔ یہ خاموشی ہندوستانی میڈیا نے بھی ایک ہفتے قبل کانپور میں بم بناتے وقت مبینہ طور پر بجرنگ دل کے دو کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے پر اختیار کی ہے۔اس علاقے سے بڑی مقدار میں ایسے دھماکہ خیز مادے برآمد ہوئے ہیں جو بعض تفتیش کاروں کے مطابق بنگلوراور بعض دوسرے مقامات کے دھماکوں سے ملتے ہیں۔ پہلے کی طرح اس بار بھی بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے مسلمانوں کے رشتے دار ان کے بےقصور ہونے اور انہیں پھنسائے جانے کا دعوی کر رہے ہیں اور پولیس نے تفتیش کی جو روش اور جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اس سے ان مسلمانوں کے ذہن و دماغ میں پلنے والے شکوک کو صرف تقویت ملے گی۔ |
اسی بارے میں انڈیا: مذہبی تنظیموں کی جمہوریت10 August, 2008 | انڈیا ہندو پاک: پھر پرانی ڈگر پر؟03 August, 2008 | انڈیا دھماکے: خفیہ اداروں کی بے بسی27 July, 2008 | انڈیا سیاسی افرا تفری اور کشمیر پربدلتا رجحان20 July, 2008 | انڈیا بائیں محاذ، بی جے پی اور بی ایس پی ساتھ ساتھ13 July, 2008 | انڈیا منموہن ناکام وزیراعظم، بدعنوانی میں کمی06 July, 2008 | انڈیا پراسرا قتل اور پاک قیدیوں کی ہلاکتیں15 June, 2008 | انڈیا انتخابی مہم کا آغاز، مایاوتی کی سیاسی مایا08 June, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||