کشمیریوں کا تذبذب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر جن حالات سے گزر رہا ہے تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کی تمام قوموں میں کشمیری قوم تذبذب کا شکار ہے۔ کشمیری نوجوان ایک دن پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے ہیں اور دوسرے دن بھارتی آئین کے تحت ووٹ بھی ڈالتے ہیں۔ کشمیری بزرگ سبز پرچم دیکھ کر جذباتی ہوجاتے ہیں مگر فاروق عبداللہ کی بھارت نواز باتیں سننے کے لیے سخت سیکورٹی میں کئی گھنٹے انتظار بھی کرتے ہیں اس قوم کے نوجوانوں نے حال ہی میں امرناتھ شرائن بورڑ کو زمین کی منتقلی کے خلاف زمین آسمان ایک کردیا اور جب ووٹ ڈالنے کی باری آئی تو یہی نوجوان پہلا ووٹ ڈالنے پیش پیش رہے۔ وادی میں جب مسلح تحریک شروع ہوئی تو یہ سمجھا جانے لگا کہ بزرگ سیاست دانوں نے قوم کو منجھدھار میں ڈالا اور اب نوجوانوں نے قوم کو سنبھالہ دینے کے لۓ ہتھیار اٹھاکر جان کی بازی لگا دی ہے۔ پھر ان میں سے بعض نے ہتھیار پھینک دیئے اور چند مقامات پر ایسا اودھم مچایا کہ لوگ ان سے آج بھی خوف کھاتے ہیں۔ کشمیر کے سیاسی اکھاڑے میں جو کوئی داخل ہوتا ہے وہ ناکام ہوجاتا ہے یا اسے ناکام کر دیا جاتا ہے لیکن ناکام ہونا جیسے ایک شغل بن گیا ہے۔ پہلے بزرگ سیاست دانوں نے ایسے جلوے دکھائے کہ پوری قوم کافی عرصے تک سکتے میں رہی۔ پھر نئی نسل نے قوم کی باگ ڈور ہاتھ میں لی۔ بد نصیب قوم کی امید بندھ گئی کہ شاید اب منزل دور نہیں مگر انتخابی عمل میں نوجوانوں کا جوش دیکھ کر اب پوری قوم کے ہوش اڑگۓ۔ | اسی بارے میں ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا پینسٹھ فیصد سے زیادہ پولنگ23 November, 2008 | انڈیا ’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘30 November, 2008 | انڈیا کشمیر: الیکشن کا چوتھا مرحلہ07 December, 2008 | انڈیا کشمیر: پانچویں مرحلے کی ووٹنگ13 December, 2008 | انڈیا کشمیر میں چھٹے مرحلے کی ووٹنگ17 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||