کشمیر: الیکشن کا چوتھا مرحلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انتخابات کے چوتھے مرحلے کے تحت جموں اور کشمیر کے اٹھارہ حلقوں میں اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سات اور وسطی ضلع بڈگام کے پانچ حلقے شامل ہیں۔ پچھلے تین مراحل کی طرح ہی آج بھی علیحدگی پسندوں کی طرف سے الیکشن مخالف ریلی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے جواب میں حکام نے سرینگر سمیت دیگر بڑے قصبوں میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ کر دیا۔ ضلع بڈگام میں پولنگ مجموعی طور پُرامن رہی اور لوگوں نے اچھی تعداد میں ووٹنگ میں حصہ لیا۔ البتہ عسکری تنطیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئے بُگ اور اس سے ملحقہ بعض بستیوں میں لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے کچھ علاقوں میں بائیکاٹ کا خاصا اثر پایا گیا۔ حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی کے آبائی قصبہ سوپور اور اس سے ملحقہ کچھ دیہات میں لوگوں نے بائیکاٹ کیا اور الیکشن مخالف مظاہرے کیے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں کم از کم تین فوٹو جرنلسٹوں سمیت سات شہری زخمی ہوگئے۔ اس دوران حریت کانفرنس کی حمایت یافتہ تاجروں اور وکلاء کی رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمینوں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ بارہمولہ اور بڈگام اضلاع کے بغیر پورے کشمیر میں بغیر اعلان کے کرفیو نافذ رہا۔ واضح رہے کہ بارہمولہ اور بڈگام کے بارہ انتخابی حلقوں میں ہو رہے انتخابات میں ہندنواز سیاست کے کئی نامور رہنماؤں کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا کشمیر: مظاہرین پر فائرنگ، 2 ہلاک22 November, 2008 | انڈیا سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘21 November, 2008 | انڈیا کشمیر میں 55 فیصد پولنگ17 November, 2008 | انڈیا کشمیر میں پہلےمرحلے کی پولنگ شروع17 November, 2008 | انڈیا کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا عثمان مجید سے انٹرویو17 November, 2008 | انڈیا کشمیر:انتخابات سے قبل زندگی معطل16 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||