BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2008, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ووٹ پڑے تو؟

بیشتر لوگ سابق جہادیوں کے کہنے پر ووٹنگ پر مائل ہوئے
امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیے کے بعد کشمیر میں عام طور پر یہ رائے تھی کہ لوگ ووٹنگ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور ٹرن آؤٹ ماضی کے مقابلے میں کم ہوگا۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انتخابات میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کو کوئی بڑی انتخابی ریلی کرنے کا موقع نہیں دیا گیا حتیٰ کہ بعض حلقوں میں لوگوں نے انتخابی امیدوار کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔

مگر اسکے برعکس ووٹ پڑے اور خاصا ٹرن آؤٹ رہا جو سب کے لیے باعث حیرانی ہے۔ خاص طور پر بانڈی پورہ میں جہاں آزادی کی تحریک نہ صرف زوروں پر رہی ہے بلکہ حالیہ ہفتوں میں بھارت مخالف بڑے جلوس بھی نکلے۔

ووٹ کیوں پڑے؟ کچھ وجوہات عیاں ہیں جن کو لوگ جذبات میں آکر شاید بھول جاتے ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ ملیٹینسی سے متاثرہ بانڈی پورہ میں اگر کوئی انتخابی سرگرمی دیکھ گئی تو وہ سابق شدت پسند عثمان مجید کی تھی جنہوں نے تحریک سے ناطہ توڑ کر سرنّڈر کرنے والے شدت پسندوں کی صف میں شمولیت اختیار کی ۔وہ ’پاکستان کی کشمیر مخالف اندرونی پالیسی‘ کو عوام کے سامنے لائے جس میں ان کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تربیت سےمسلح ہونے تک کی ساری داستان شامل ہے۔علاقے میں پہلے کچھ خوف پھرکچھ ان کے اثر رسوخ نے ماحول میں کافی تبدیلی پیدا کی اور آہستہ آہستہ وہ بیشتر لوگوں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے پر مائل کرگئے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا لوگوں نے انہیں ہی ووٹ ڈالے۔

بیس سال سے جاری مسلح تحریک اور اسکے خلاف ’کاؤنٹر انسرجنسی آپریشنز‘ کے دوران عام لوگوں نے کافی مصائب جھیلے ہیں

بیس سال سے جاری مسلح تحریک اور اسکے خلاف ’کاؤنٹر انسرجنسی آپریشنز‘ کے دوران عام لوگوں نے کافی مصائب جھیلے ہیں۔ جب عام شہریوں کا زندہ رہنا مشکل ہوجائے تو ان کے لۓ وہ امیدوار مسیحا سے کم نہیں ہوتاجو انہیں یہ آکر کہہ دے کہ اگر انہیں ووٹ دیا جائے تو اُنہیں کوئی فوجی یا شدت پسند تنگ نہیں کرے گا۔

پاکستان کی ’یوٹرن‘ اور صدر زرداری سے منسوب ’کشمیری دہشت گردی‘ کے حالیہ بیان نے کشمیر میں پاکستان کے خلاف منفی سوچ پیدا کر دی ہے اور بیشتر کا ماننا ہے کہ مسلح تحریک کو جلا بخش کر کشمیر کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ پاکستان نواز کشمیری رہنماؤں کی اس وقت کافی سبکی ہوئی جو اب بھی الحاق پاکستان کی تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں جب ریاستی انتخابات پر پاکستان نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی حالانکہ اس سے پہلے جب بھی انتخابات ہوئے ہیں تو ایک آدھ رسمی بیان سامنے ضرور آتا رہا ہے۔

گذشتہ چھ برسوں پر محیط پی ڈی پی اور کانگریس کی اتحادی حکومت کے دوران آزادی پسند رہنماؤں کی موجودگی برائے نام رہی اور اپنے چھوٹے چھوٹے محلوں تک ان کی تحریک محدوو تھی مگر امرناتھ شرائن بورڈ کے قضیے کا فائدہ اٹھاکر وہ عوامی مظاہروں کو اپنے کھاتے میں ڈال کر یہ مان کے چلے کہ حالات کے بدلتے ہی ان کی اہمیت بحال ہوگئی اور لوگ ان کی بائیکاٹ کال پر لبیک کہیں گے حالانکہ انہوں نے ابھی تک لوگوں کو کنفیوثن میں رکھا ہے کہ آزادی سے ان کی کیا مراد ہے۔

اس طرح کے کنفیوثن میں اگر لوگوں کو محسوس ہورہا ہے کہ ووٹ پڑنے سے ان کی مشکلات میں ذرا کمی آئیگی تو کیا اس پر حیران ہونا چاہے؟۔

اسی بارے میں
کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟
19 November, 2008 | انڈیا
کشمیر میں 55 فیصد پولنگ
17 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد