کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے بائیکاٹ کی کال کے باوجود تمام دس انتخابی حلقوں میں حکام کے مطابق اوسطاً پچپن فیصد پولنگ ریکارڑ کی گئی۔ سرینگر سے پچپن کلومیٹر دُور واقع بانڈی پورہ میں گو کہ علیحدگی پسندوں کی کال پر کاروباری سرگرمیاں ٹھپ تھیں، لیکن تقریباً تمام پولنگ بوتھوں پر لوگوں کو چھوٹی بڑی قطاروں میں ووٹ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس موقع پر اکثر ووٹروں سے جب پوچھا گیا کہ آخر وہ ووٹ کیوں ڈالتے ہیں، تو ان کا استدال تھا کہ ووٹ ڈالنے کا مطلب آزادی کے مطالبے سے دستبرداری نہ لیا جائے۔ بانڈی پورہ کے نوجوان عاقب نے ووٹ ڈالنے کے فوراً بعد بتایا ’میں نے ووٹ اس لیے ڈالا کہ کہیں کوئی غلط آدمی یہاں سے نہ چُنا جائے اور وہ بعد میں ہمیں روزگار، بجلی پانی اور سڑک کی سہولیات دینے کی بجائے ہمارا استحصال کرے‘۔
یہ پوچھنے پر کہ کیا ان کا ووٹ آزادی کے مطالبہ کے خلاف تھا؟ عاقب کہتے ہیں کہ،’ہم لوگوں نے ہی تو احتجاج کے دوران مار کھائی۔ ہمارے ہی بھائی مرے۔ آزادی تو ایک لمبا سفر ہے۔ الیکشن میں حکومت چُنتے ہیں مسئلہ کشمیر کا فیصلہ نہیں کرتے‘۔ ہتھیار ڈالنے کے بعد فوج سے وابستہ ہونے اور بعدازاں میدانِ سیاست میں کودنے والے سابق عسکریت پسند عثمان عبدالمجید نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ ان کا کہنا تھا ’ہم تو کسی نعرے کو نہیں مانتے۔ کوئی سیاست نہیں ، کوئی فضول نعرہ نہیں۔ میرا صرف ایک نعرہ ہے وہ ہے ڈیویلپمنٹ (تعمیرو ترقی)، اور اسی پر میں ووٹ مانگتا ہوں‘۔ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں بھاری تعداد میں فوج تعینات رہنے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں میں نفسیاتی طور ووٹنگ کی طرف میلان رہتا ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ شہروں کے برعکس گاؤں میں مقامی مسائل زیادہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو ان مسائل کے ازالے کے لیے وسیلہ درکار ہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنے مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس دوران حکومت اور چناؤ انتظامیہ اطمینان کا اظہار کر رہی ہے کہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے بائیکاٹ مارچ کی کال کے باجود ’تسلی بخش‘ شرح سے ووٹ پڑے۔ لیکن علیحدگی پسند اس رائے کو یکطرفہ کہتے ہیں۔ حریت کے دونوں دھڑوں کی حمایت یافتہ رابطہ کمیٹی کے رہنما ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ’اگر جمہوریت کا مطلب اظہار رائے کی آزادی ہے تو یہ الیکشن غیر قانونی ہیں کیونکہ ایک ماہ پہلے ہی تمام حریت رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور بعض کو گھروں نظر بند رکھا گیا ہے‘۔ لیکن لوگوں نے علیحدگی پسندوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے بجائے پولنگ بوتھوں کا رُخ کیوں کیا؟ اس سوال کے جواب میں حریت کانفرنس رہنما اور رابطہ کمیٹی کے شریک چیئرمین میر واعظ عمر کا کہنا تھا کہ ’ آپ فوج کی موجودگی اور ہماری گرفتاری کو ایک ساتھ دیکھیں۔ گریز میں تو آبادی سے زیادہ فوج ہے۔ لوگ اپنی حفاظت کے لئے بھی ووٹ ڈالتے ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ بانڈی پورہ کے تین اسمبلی حلقوں کے لیے چناؤ لڑنے والے سبھی اُنیس امیدواروں کا نعرہ حریت کانفرنس کے خلاف نہیں تھا۔ پی ڈی پی امن عمل اور ہند و پاک تعلقات ، کانگریس تعمیر و ترقی جبکہ ضلع کی واحد خاتون اُمیدوار غوثیہ اسلام نے’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ ان کی پارٹی کا نام ’غریب نواز پارٹی‘ ہے۔ |
اسی بارے میں ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : بھائی بہن میں مقابلہ11 November, 2008 | انڈیا سرینگر: انتخابی امیدوار غائب 07 November, 2008 | انڈیا ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا کشمیر، پولیس کی فائرنگ میں ہلاک 26 October, 2008 | انڈیا کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں24 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||