کشمیر میں 55 فیصد پولنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع طور پر بڑی تعداد میں لوگوں نے پولنگ کے عمل میں حصہ لیا ہے۔ چیف انتخای افسر بی آر شرما کے مطابق مجموعی طور پر چونسٹھ فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ ریاست میں چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ کرائی جائے گی اور پہلے مرحلے کی پولنگ میں پیر کو پونچھ، بانڈی پورہ، کارگل اور لیہہ میں دس نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ پولنگ پیر کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام چار بجے تک جاری رہی۔بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق پیر کو جن علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے وہاں پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ پیر کو ہونے والے انتخابات میں ایک سو دو امیدواروں کے انتخابی مستقبل کا فیصلہ ہوا۔ سب سے زیادہ بائیس امیدوار سوناواڑی حلقے سے میدان میں تھے۔ پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جن علاقوں میں پولنگ ہوئی وہ فوج کی چھاؤنی معلوم ہوتے تھے۔ ریاست میں علیحدگی پسندوں کی ریلیوں کو روکنے کے لیے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔ صرف پونچھ میں ہی نیم فوجی دستوں کی اسّی کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں جبکہ بانڈی پورہ میں چپے چپے پر فوج اور نیم فوجی تعینات تھے اور ہڑتال کے سبب تمام بازار اور دکانیں بند رہیں۔ الیکشن کے خلاف کئی جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور مظاہرین اور سکیورٹی دستوں میں تصادم کی بھی خبریں ہیں۔ سری نگر سے پچپن کلومیٹر دو بانڈی پورہ میں سکیورٹی دستوں نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسوگیس استعمال کی ہے اور لاٹھی چارج کیا ہے۔ شہر میں کئی مقامات پر پتھراؤ کے بھی واقعات ہوئے ہیں۔ بانڈی پورہ کے صدرکوٹ بالا اور وارڈ نمبر تین میں بھی لوگوں نے انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس مظاہرے میں شامل ایک خاتون ثمینہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بچوں کو حال ہی میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور یہ قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی‘۔ بانڈی پورہ میں واحد خاتون امیدوار غوثیہ اسلام نے انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا اور الزام عائد کیا کہ پولنگ بوتھوں پر دھاندلی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’پولنگ ایجنٹوں کو رشوت دیکر دھاندلیوں کے لیے پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا‘۔
جموں سے نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق پونچھ ضلع کے ایک پولنگ سٹیشن میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات پانچ اہلکاروں کو انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرگرفتار کیاگیا ہے۔ سری نگر سے نامہ نگار الطاف حیسن کے مطابق جولائی اگست میں آزادی کے حق میں ہونے والے مظاہروں اورحکومت کی جوابی کارروائی کے پس منظر میں علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے انتخابی مہم کافی پھیکی رہی ہے۔ زیادہ تر علیحدگی پسند رہنما یا تو گرفتار ہیں یا انہیں نظر بند کردیا گیا ہے۔ جو جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان میں سے نیشنل کانفرنس نے بےروزگاری دور کرنے اور علیحدگی پسند تحریک کے دوران ہلاک ہونے والوں کے کنبوں کی مالی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے خود مختاری اور گریٹر جموں اور کشمیر کا نعرہ بلند کیا۔ ادھر کانگریس نے ترقی، صاف شفاف حکومت اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کے ہندو اکثریت والے علاقے کو نظر انداز کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔ |
اسی بارے میں ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : بھائی بہن میں مقابلہ11 November, 2008 | انڈیا سرینگر: انتخابی امیدوار غائب 07 November, 2008 | انڈیا ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا کشمیر، پولیس کی فائرنگ میں ہلاک 26 October, 2008 | انڈیا کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں24 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||