کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں آزادی پسند عوامی تحریک کی نئی لہر کے پس منظر میں سترہ نومبر کی پولنگ میں ’اچھی شرح‘ ریکارڑ کی گئی۔ اب عوامی اور سیاسی حلقوں میں اس سوال پر بحث ہو رہی ہے کہ نئی دلّی اور علیحدگی پسندوں کے درمیان ’سیاسی زور آزمائی‘ کے اس تازہ راؤنڈ میں کس کی فتح ہوئی؟ اپنی اپنی سطح پر حکومت اور حُریت کانفرنس دونوں ہی الیکشن کے انعقاد کو اپنی اپنی ’فتح‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ جہاں صوبائی گورنر نے پولنگ کی ’اچھی شرح‘ کو ووٹروں کی طرف سے جمہویت پر اعتماد کے اظہار اور سیاسی بیداری سے تعبیر کیا وہیں علیحدگی پسند ایک مخصوص استدلال کی بنیاد پر الیکشن کے پہلے مرحلے کو اپنی اخلاقی فتح کہتے ہیں۔ پچھلے پندرہ روز سے اپنے گھر میں نظر بند کیے گئے علیٰحدگی پسند رہنما سجاد غنی لون نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’میں انکار نہیں کرتا کہ لوگ ووٹ ڈالنے نکلے، لیکن حقیقیت یہ ہے کہ وہ مقامی مسائل کے لیے نکلے۔ کہیں انہوں نے سرکار نواز بندوق برداروں کے خلاف ووٹ دیا، اور کہیں انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ ووٹ ڈالیں گے تو فوج کے ظلم سے انہیں نجات ملے گی۔‘ مسٹر لون نے کہا کہ اگر حکومت ہند کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ لوگ علیحدگی پسندوں کے خلاف ہیں تو اسے تمام گرفتار شدہ لوگوں کو رہا کر کے ایک متوازی بائیکاٹ مہم کی اجازت دینی چاہیے۔’اس کے بعد بھی اگر لوگ ووٹنگ میں حصہ لیتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ووٹ ہمارے نظریے کے خلاف تھا۔‘
کشمیریوں کا ایک تیسرا طبقہ بھی ہے جو ان انتخابات کو حکومت اور حریت کانفرنس دونوں کی شکست سے تعبیر کرتا ہے۔ کالم نگار ایم اے جاوید کہتے ہیں ’بانڈی پورہ میں جب ووٹنگ ہو رہی تھی تو پوری وادی کی طرح وہاں بھی ہڑتال تھی۔ اس ہڑتال کا مطلب ہے کہ وہ آزادی کی تحریک کے ساتھ ہیں، اور ان کی ووٹنگ کا مطلب ہے کہ انہیں حریت کانفرنس کی غیر ضروری بائیکاٹ پالیسی بھی منظور نہیں۔ اس طرح نہ حکومت جیتی نہ حریت، جیت تو بہرحال لوگوں کی ہوئی۔‘ غیر جانبداری عوامی حلقوں میں یہ خیال زور پکڑ رہا ہے کہ حریت کانفرنس کو انتخابات اور مسئلہ کشمیر کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے۔ معروف اُردو روزنامہ چٹان کے مدیر اعلیٰ طاہر محی الدین اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اگر لوگوں سے یہ کہا گیا ہوتا کہ ان کے ووٹ ڈالنے سے مسئلہ کشمیر حل ہونا ہے تو یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو آپ نے دیکھا۔ دراصل اس میں حریت والوں کے لیے بھی سبق ہے۔ انہیں پچھلے بیس سال سے جاری بائیکاٹ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔‘ |
اسی بارے میں ’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘12 November, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : بھائی بہن میں مقابلہ11 November, 2008 | انڈیا سرینگر: انتخابی امیدوار غائب 07 November, 2008 | انڈیا ’کشمیری انتخاب میں حصہ نہ لیں‘27 October, 2008 | انڈیا کشمیر، پولیس کی فائرنگ میں ہلاک 26 October, 2008 | انڈیا کشمیر: یواین ڈے پرہڑتال،گرفتاریاں24 October, 2008 | انڈیا یہ الیکشن آسان نہیں: عمرعبداللہ22 October, 2008 | انڈیا کشمیرالیکشن : حریت کا بائیکاٹ 19 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||