BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 08:50 GMT 13:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں پہلےمرحلے کی پولنگ شروع

کشمیر انتخابات
پولنگ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں گی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرکے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کی صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہوئی ہے۔چاراضلاع کی10 نشستوں کے لیے ہونے والے اس الیکشن کے خلاف کئی جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور مظاہرین اور سکیورٹی دستوں میں تصادم کی بھی خبریں ہیں۔

پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جاری رہے گی۔پولنگ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں اور جن علاقوں میں پولنگ ہو رہی ہے وہ فوج کی چھاؤنی لگتے ہیں۔

ریاست میں علیحدگی پسندوں کی ریلیوں کو روکنے کے لیے غیراعلانیہ کرفیو نافذ ہے جبکہ نیشنل کانفرنس نےانتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔

ریاست میں چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ کرائی جائے گی۔

سری نگر سے پچپن کلو میٹر دو بانڈی پورہ کی تین نششستوں کے لیے بھی ووٹ پڑ رہے ہیں جہاں سکیورٹی دستوں نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسوگیس استعمال کی اور لاٹھی چارج کیا ہے۔ شہر میں کئی مقامات پر پتھراؤ کے بھی واقعات ہوئے ہیں۔

جموں سے نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق پونچھ ضلع کے ایک پولنگ سٹیشن میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات پانچ اہلکاروں کو انتخابی ضابطء اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرگرفتار کیاگیا ہے۔

بانڈی پورہ
مرحلے کی پولنگ میں پونچھ، باندیپورہ، گڑگل اور لیہہ میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

پولیس کے لاٹھی چارج سے معروف سماجی کار کن پرویز امروز زخمی ہوگئے ہیں جنہیں پولیس نےگرفتار کر لیا ہے۔ وہ ایک مبصر کی حیثیت سے پولنگ کا جائزہ لینے گئے تھے۔ ان کے ساتھ چند مزید لوگوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

پہلے مرحلے کی پولنگ میں پونچھ، بانڈی پورہ ، گرگل اور لیہہ میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات انتہائی سخت ہیں اور صرف پونچھ میں ہی نیم فوجی دستوں کی اسی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

بانڈی پورا کے صدرکوٹ بالا اور وارڈ نمبر تین میں بھی لوگوں نے انتخابات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس مظاہرے میں شامل ایک خاتون ثمینہ کا کہنا تھا’ہمارے بچوں کو حال ہی میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور یہ قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔‘

کئی پولنگ مراکز پر لوگوں کو ووٹ ڈالتے دیکھا گیا ہے اور اس دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان بھی تصادم ہوئے ہیں۔

بانڈی پورہ میں واحد خاتون امیدوار غوثیہ اسلام نے انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا اور الزام عائد کیا کہ پولنگ بوتھوں پر دھاندلی ہورہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’پولنگ ایجنٹوں کو رشوت دیکر دھاندلیوں کے لیے پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا‘۔

نیشنل کانفرنس نے انتخابات ملتوی کرنے کی اپیل کی ہے

اس دوران سخت سکیورٹی کے سبب علیحدگی پسندوں کی الیکشن مخالف مارچ کی کال کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق دن کے ساڑھے گیاہ بجے تک تقریباً چار فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔

بانڈی پورہ میں چپے چپے پر فوج اور نیم فوجی تعنیات ہیں تاہم ہڑتال کے سبب تمام بازار اور دکانیں بند ہیں اور کوئی سرگرمی نہیں ہے۔

سری نگر سے نامہ نگار الطاف حیسن کے مطابق جولائی اگست میں آزادی کے حق میں ہونے والے مظاہروں اورحکومت کی جوابی کارروائی کے پس منظر میں علیحدگی پسند جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے انتخابی مہم کافی پھیکی رہی ہے۔

زیادہ تر علیحدگی پسند رہنما یا تو گرفتار ہیں یا انہیں نظر بند کردیا گیا ہے۔ جو جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان میں سے نیشنل کانفرنس نے بے روزگاری دور کرنے اور علیحدگی پسند تحریک کے دوران ہلاک ہونے والوں کے کنبوں کی مالی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے خود مختاری اور گریٹر جموں اور کشمیر کا نعرہ بلند کیا۔

ادھر کانگریس نے ترقی، صاف شفاف حکومت اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کے ہندو اکثریت والے علاقے کو نظر انداز کیے جانے کا الزام لگایا۔

آج ایک سو دو امیدواروں کے انتخابی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ سب سے زیادہ بائیس امیدوار سوناواڑی حلقے سے میدان میں ہیں۔

غیر متوقع طور پر موسم کی پہلی برفباری ہوجانے کی وجہ سے ریاست میں عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

بھاری برفباری کی وجہ سے بہت سی سڑکیں بند ہوگئی ہیں

ریاستی ناظم مسعود سامون نے بی بی سی کوبتایا ’سکیورٹی اداروں کو امن و امان میں بگاڑ کا خدشہ تھا اس لیے وادی میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، جس کی رُو سے چار سے زائد افراد ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ کرفیو کہیں پر نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ سید علی شاہ گیلانی نے جمعہ کو لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لال چوک کے ٹی آر سی گراونڈ میں جمع ہوجائیں، جہاں وہ نئی دلّی سے واپسی پر خطاب کرینگے۔ میرواعظ عمر فاروق نے بھی بانڈی پورہ جاکر الیکشن کے خلاف مہم کا اعلان کیا تھا۔

علیحدگی پسندوں کی کال کے پیش نظر سرینگر، اننت ناگ اور بارہمولہ اضلاع میں نیم فوجی عملے کی بھاری تعداد کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

ادھر نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے ایک بیان میں الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی خرابی کے باعث انتخابات کو اگلے سال مارچ یا اپریل تک موخر کردے۔

کشمیری امیدوار
گھرگھر جا کر ووٹروں سے استدعا
فائل فوٹوکشمیرمیں انتخاب
آخرحکومت الیکشن سےکیوں کترا رہی ہے؟
وادی میں کرفیو(فائل فوٹو)کرفیو کے اثرات
کشمیر میں انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
اسی بارے میں
’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘
12 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد