’ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرینگر سے پچاسی کلومیٹر دُور واقع دردپورہ گاؤں کا نام وسط ایشیائی درد نسل کے نام پر پڑا ہے۔ لیکن قریب ڈیڑھ ہزار کنبوں پر مشتمل اِس پچھڑے گاؤں میں اٹھارہ سالہ شورش کے دوران ساڑھے تین سو سے زائد خواتین کا سُہاگ اُجڑ گیا اور دردپورہ واقعی درد کی داستان بن کے رہ گیا۔ مسلح شورش کے دوران فوج اور عسکریت پسندوں کے عتاب کا نشانہ بننے والے اس پسماندہ گاؤں کے لوگوں نے ووٹنگ کو زندہ رہنے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ دردپورہ میں تین کمروں کے چھوٹے سے مکان میں اپنے چھہ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر شاہ مالی درد کی اس داستان کا ایک باب ہے۔ شاہ مالی کی عمر چالیس سال ہے، لیکن وہ پچپن سال کی دِکھتی ہیں۔ شاہ مالی کے خاوند محمد عبداللہ بٹ کو اُنیس سو پچانوے میں نامعلوم بندوق برداروں نے اپنے ہی گھر کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا۔ بعدازاں قلّتِ روزگار کی وجہ سے اس کا بڑا بیٹا مشتاق احمد کام کی تلاش میں پنجاب چلا گیا، جہاں وہ لاپتہ ہوگیا۔ حکومت نے شاہ مالی کے نام ایک لاکھ روپے کی امداد منظور تو کر لی تھی لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس رقم کا خطیر حصہ بِچولیوں نے کھا لیا۔ کپوارہ میں ہو رہے انتخابات سے شاہ مالی بہت بددل ہیں لیکن وہ ووٹ ڈالتی رہی ہیں اور اس بار بھی ووٹ ڈالیں گی۔’ ہم دل سے ووٹ نہیں ڈالتے ۔ ہر بار یہ اُمید ہوتی ہے کہ یہ لوگ (سیاسی اُمیدوار) ہماری حالات بہتر کرنے میں ہماری مدد کرینگے۔‘ میڈیا کے سوالوں سے اُکتا چُکیں شاہ مالی کہتی ہیں ’ میری قسمت دیکھو، خاوند قتل ہوگیا، بیٹا لاپتہ ہوگیا، اور اب میں ٹی وی پر تماشہ بن گئی ہوں۔ کس لیے؟ مجھے تو لوگ طعنہ دینے لگے ہیں، کہ میں اکثر ٹی وی پر ہوتی ہوں۔ مہربانی کر کے چلے جاؤ۔‘ تقریباً اٹھارہ ہزار نفوس پر مشتل دردپورہ گاؤں کپوارہ سے چوبیس کلومیڑ کی دُوری پر واقع ہے۔ گاؤں کے دونوں جانب صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی فوج کے دو بڑے کیمپ ہیں۔ نیاری اور لون ہرے مقامات پر واقع ان کیمپوں سے فوج اکثر اس علاقے میں گشت کرتی ہے۔
گاؤں کے معروف سماجی کارکن محمد عبداللہ میر کے مطابق یہ گاؤں فوج اور عسکریت پسندوں کے عتاب کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ میر کہتے ہیں’گاؤں میں تین سو پنسٹھ بیوائیں ہیں جن کے خاوند اکثر فوج کے ہاتھوں مارے گئے جبکہ بعض کو عسکریت پسندوں نے بھی قتل کردیا۔‘ شورش کے دوران گاؤں پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کرتے ہوئے میر کہتے ہیں’میرا بھی تین بار تشدد کیا گیا۔ فوج نے مجھے زندہ دفن کرنے کی کوشش کی۔ میرے چاچا مولوی محمد صادق میر کو، جو جامع مسجد دردپورہ کے امام تھے، فوج نے قریبی گاؤں سے گرفتار کر کے شالی کوٹنے کی مشین میں بم سے اُڑا دیا۔ اسی طرح ہمارے گاؤں کے سب سے معروف سماجی کارکن ماسٹر علی محمد کو بھی سولہ سال قبل بازار سے گرفتار کر کے لاپتہ کردیا گیا۔‘ میر نے بتایا کہ دردپورہ کے لوگ گزشتہ برسوں میں ہوئے انتخابات میں بائیکاٹ کیا کرتے تھے۔’ لیکن بعد میں ہم نے دیکھا کہ کامیاب ہونے والا اُمیدوار انتقام کے طور پر اس علاقے کو نظرانداز کرتا تھا۔ اس بار تو ہم ووٹ ڈالینگے۔ اور پھر ووٹنگ اور تحریک آزادی کا کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے احتجاج بھی کیا۔ چار لڑکوں کو بازار میں مار پڑی۔ کل اگر پھر احتجاج کی ضرورت پڑی تو ہم پیچھے نہیں رہینگے۔‘ دردپورہ میں غُربت کی اہم وجہ سینچائی کے اسباب کی غیر موجودگی ہے۔ میر کا کہنا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے گاؤں والوں کے پاس بہت کم زمین ہے۔ قریب دس ہزار کنال کی کُل زمین کو سیراب کرنے کے لئے سینچائی کی محض ایک سکیم کے لئے مقامی لوگ چالیس سال سے مطالبہ کر رہے ہیں۔
میر کہتے ہیں’اس بار سبھی امیدوار کہتے ہیں، ووٹ ڈالوں پانی ملے گا۔ ہم تو مجبور ہیں۔ ایک بار پھر ووٹ ڈالینگے۔ امید ہے اس بار ہمارے کھیتوں کو پانی ملے گا۔‘ گاؤں میں صرف ڈیڑھ سو نوجوان ایسے ہیں جو کالج سطح کی تعلیم (گریجویشن ) مکمل کرچکے ہیں۔ عبداللہ میر کے مطابق یہ سبھی نوجوان بے روزگار ہیں اور اب مجبوراً مختلف سیاسی اُمیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔’انہیں کچھ پیسے ملتے ہیں اور یہ وعدہ کہ اگر امیدوار کو اقتدار ملا تو سرکاری نوکری بھی ملے گی۔‘ زراعت سے یہاں کے باشندوں کا گزارہ نہیں ہوتا لہٰذا اکثر نوجوان سردیوں میں مزدوری اور کمیشن کے عوض شال فروشی کے لیے ہندوستانی پنجاب اور ملک کی دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ مقامی لوگ کہتے ہیں’ سردیوں میں تو صرف یہاں عورتیں ہوتی ہیں۔‘ شاہ مالی نے کہا کہ ’زمین سیراب ہوتی تو مشتاق پنجاب نہ جاتا، وہاں لاپتہ نہ ہوجاتا۔‘ یہاں کے لوگوں کو علیٰحدگی پسندوں سے بھی شکایت ہے۔ وہ کہتے ہیں علیحدگی پسند رہنماؤں نے انہیں فراموش کر دیا۔ عبداللہ میر کے مطابق جب بیواؤں کی تعداد گاؤں میں بڑھنے لگی تو حریت کانفرنس نے پچاس روپے فی کس معاوضہ کا اعلان کیا، جسے مقامی لوگوں نے’ قربانیوں کی تذلیل سمجھ کر ٹھکرا دیا۔‘ تاہم یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض این جی اوز نے بیواؤں کی بحالی میں قابل ذکر کام کیا ہے۔ | اسی بارے میں ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا کشمیر: مظاہرین پر فائرنگ، 2 ہلاک22 November, 2008 | انڈیا سری نگر میں ’غیر اعلانیہ کرفیو‘21 November, 2008 | انڈیا کشمیر میں 55 فیصد پولنگ17 November, 2008 | انڈیا کشمیر میں پہلےمرحلے کی پولنگ شروع17 November, 2008 | انڈیا کشمیریوں نے ووٹ کیوں ڈالا ؟ 17 November, 2008 | انڈیا عثمان مجید سے انٹرویو17 November, 2008 | انڈیا کشمیر:انتخابات سے قبل زندگی معطل16 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||