BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں چھٹے مرحلے کی ووٹنگ

فائل فوٹو
کشمیر میں اب تک بائیکاٹ کی اپیل کا زیادہ اثر نہیں دیکھا گیا
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات اور سخت سردی میں انتخابات کا چھٹا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

انتخابات کے اس مرحلے میں وادی کشمیر اور جموں خطوں کے سولہ انتخابی حلقوں کےلیے دو سو اکہتر اُمیدوار میدان میں اترے ہیں۔

اس مرحلے میں قسمت آزمائی کرنے والوں میں سابق وزرائے اعلیٰ غلام نبی آزاد اور مفتی محمد سعید بھی شامل ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق علیحدگی پسندوں کی کال پر الیکشن مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے نیم فوجی عملہ اور پولیس کے تیس ہزار اضافی جوانوں کو ایک ہزار دو سو اڑسٹھ پولنگ بوتھوں پر خصوصی ڈیوٹی کےلیے تعینات کیا گیا ہے۔

ضلع اسلام آباد اور کولگام کی دس سیٹوں کے لیے ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں بدھ کو صبح سویرے شدید سردی کے باوجود لوگوں کو بجبہاڑہ، دیوسر، کولگام، شانگس اور ڈورو وغیرہ میں گرم ملبوسات پہنے کشمیری ووٹروں کو پولنگ بوتھوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

ووٹر کا درد
 سیلاب آتا ہے تو حریت والے بیان تک نہیں دیتے۔ یہاں آتا کون ہے۔ جو ووٹ مانگتے ہیں وہ بھی نہیں آتے۔ لیکن ہم مجبور ہیں۔ ووٹ ڈالنا ہی پڑتا ہے
محمد عبداللہ ، شہری

شانگس حلقے میں ووٹ ڈالنے کےلیے نکلنے والے ایک ساٹھ سالہ شہری، محمد عبداللہ نے بتایا ’سیلاب آتا ہے تو حریت والے بیان تک نہیں دیتے۔ یہاں آتا کون ہے۔ جو ووٹ مانگتے ہیں وہ بھی نہیں آتے۔ لیکن ہم مجبور ہیں۔ ووٹ ڈالنا ہی پڑتا ہے۔‘

اس دوران اسلام آباد کے بٹہ پورہ گاؤں میں بعض نوجوانوں نے الیکشن مخالف مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

دریں اثناء پولیس کے مطابق مشتبہ عسکریت پسندوں نے مومن آباد علاقہ میں ایک بارودی سرنگ کو نصب کیا تھا جسے پولیس نے صبح آٹھ بجے ناکارہ بنا دیا۔ اُدھر ڈورو حلقے کے منزمو گاؤں میں لوگوں نے ووٹنگ مشین میں خرابی پر انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اسی دوران پچھلے پانچ مراحل کی طرح آج بھی سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔

چوبیس دسمبر کو انتخابات کا آخری مرحلہ شروع ہوگا جس میں سرینگر اور جموں کے اکیس انتخابی حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے جائيں گے۔

اسی بارے میں
ہند- پاک کشیدگی کی طرف
01 December, 2008 | انڈیا
’رخنہ موسم ڈال سکتا ہے‘
12 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد