’ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندستانی اور پاکستانی کھلاڑیوں نے بالی وڈ کی فلم’وکٹری‘ میں مل کر کام کیا لیکن فلم کی موسیقی کےاجراء کی تقریب میں پاکستانی کرکٹرز شریک نہیں ہوئے۔ شعیب ملک ، سہیل تنویر، راؤ افتخار، کامران اکمل اور وقار یونس دنیا کے ان تقریباً ساٹھ موجودہ اور سابق کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس فلم میں اداکاری کی ہے۔ ادھر مہیش بھٹ کی بیٹی پوجا سن سینتالیس سے قبل کے لاہور میں سیٹ ایک محبت کی داستان پر فلم کجرارے بنا رہی ہیں اور ان کی اس فلم کی ہیروئن پاکستانی اداکارہ مونا لیزا ہیں۔ فلم کی شوٹنگ اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ کہانی نویس جاوید صدیقی اور نغمہ نگار گلزار کی پاکستانی فلمساز شہزاد رفیق کے ساتھ بننے والی فلم کیا اب کبھی بن بھی سکے گی؟ خود صدیقی کہتے ہیں کہ ’پتہ نہیں‘۔ ذرائع ابلاغ میں شائع خبر کے مطابق پاکستانی حکومت نے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کو ہندستان جانے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستانی مزاحیہ فنکار شکیل صدیقی اور کاشف وطن واپس لوٹ گئے۔ مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا نے ٹی وی چینلز اور فنکاروں کو دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستانی فنکاروں کو اپنے شو میں نہ بلائیں۔ حکومت ہند کے فیصلے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ انڈین پریمیئر لیگ کو فکر ہے کہ مئی میں ہونے والے میچوں میں کیا وہ گیارہ پاکستانی کھلاڑی کھیل سکیں جن کے آئی پی ایل کے ساتھ کانٹریکٹ ہیں۔ آئی پی ایل کے ذرائع کے مطابق شاید حکومت پاکستان انہیں انڈیا آنے کی اجازت نہ دے۔
چھبیس نومبر کے ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک تعلقات کا منظر نامہ ہی بدل گیا۔چھ برسوں سے دونوں ملکوں کے فنکاروں کی جانب سے امن و محبت کے لیے جو کوششیں ہو رہی تھی، ان پر جیسے پانی پھر گیا۔ ایک غیر یقینی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ان رشتوں کو بنانے میں برسوں لگ گئے لیکن دس حملہ آور اور تین دن کی خونریزی نے سب کچھ بدل دیا۔ باہمی رشتے استوار کرنے کی جدوجہد کرنے والے فلمساز مہیش بھٹ ان حالات سے بہت افسردہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں’اگر ہم نے اپنے رشتوں کو توڑ دیا اور گھڑی کی سوئی گھما کر واپس وہیں لے آئے جہاں سے شروعات کی تھی تو یہ سمجھ لیجیے کہ دہشت گردوں کا مشن کامیاب ہو جائے گا۔ان کا پیٹ دوسروں کی جان لینے سے نہیں بھرتا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دونوں علاقے جنگ کی آگ میں جھلستے رہیں۔‘ لیکن جاوید صدیقی مانتے ہیں کہ ’جہاں سے ہم نے اچھے رشتوں کی شروعات کی تھی ، ہمارے رشتے اس وقت سے بھی زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ایک غیر یقینی کی فضا بن چکی ہے۔جمود طاری ہے اور پتہ نہیں یہ کب ختم ہو۔‘ ہندستان اگر غلام علی جیسے فنکاروں کو اپنی سر زمین پر سننے سے محروم ہو گیا ہے تو پاکستان بھی جگجیت سنگھ کی سحر انگیز آواز نہیں سن پائے گا۔ بھٹ کہتے ہیں کہ جب امریکہ نے گیارہ ستمبر کے حادثہ کے بعد عراق پر حملہ کرنے کا اعلان کیا تو ہالی وڈ کے فنکاروں نے متحد ہو کر اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ ’ہمیں بھی اگر آپسی رشتوں کی ٹوٹی ڈور کو ایک بار پھر جوڑنا ہے تو یہاں اور وہاں دونوں جگہ کے فنکاروں کو پہل کرنی ہو گی۔‘ لیکن صدیقی مانتے ہیں کہ پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ خود اس مسئلے کا شکار ہے جس کا’ ہم ہندستانی شکار ہوئے ہیں، اس لیے اگر پاکستان چاہتا ہے کہ ایک بار پھر تعلقات استوار ہوں اور عوام میں عدم اعتماد کی جو فضا قائم ہوئی ہے وہ ختم ہوجائے تو پاکستان کو پوری ایمانداری کے ساتھ اقدامات کرنے چاہئیں۔ ورنہ ان رشتوں میں آئی دراڑ ایک خلیج بن چکی ہے اور اس مرتبہ اس کا اتنی جلد بھرنا ممکن نہیں لگتا۔‘ اس کے برعکس مہیش بھٹ مانتے ہیں کہ یہ رشتہ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔دونوں ممالک کے رشتوں میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں عوام کا بھروسہ جیتنے کی ضرورت ہے اور اس لیے فنکاروں کو وہ بولی نہیں بولنی چاہئے جو فوج اور حکومت کی غمازی کرتی ہو۔ |
اسی بارے میں پاکستانی فنکاروں کو دھمکی 05 December, 2008 | فن فنکار ۔۔۔ اور اب فلموں کا ’حملہ‘12 December, 2008 | فن فنکار ’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘23 December, 2008 | انڈیا دنیا پاکستان پر دباؤ بڑھائے: مکرجی22 December, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||