BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 December, 2008, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنگ نہیں کارروائی چاہیے‘
 من موہن سنگھ
من موہن سنگھ دہلی میں اخبارنویسوں سے بات کر رہے تھے
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ جنگ تو کوئی نہیں چاہتا لیکن پاکستان کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔

دلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو کارروائی پر مجبور کرنے کے لیے اور دباؤ ڈالے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ مسئلہ جنگ کا نہیں ہے مسئلہ دہشتگردی اور پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے کے لیے جو سرزمین کا استعمال ہوتا ہے اس کا ہے اور جنگ کوئی نہیں چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان شدت پسندی ڈھانچے کو ختم کرے اور یہی ہمارا مطالبہ ہے۔ اور میرے خیال سے یہی بھارت اور پاکستان کی عوام کے مفاد میں ہے کہ شدت پسندوں کی مشینری کو اب بغیر وقت ضائع کیے ختم کردیا جائے۔‘

وزیر اعظم من موہن سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف اقوام متحد کی کئی قراردادیں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان پر عمل کرے۔

ادھر وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ جنگ کے ماحول کا تاثر پیدا کیا جائے یا پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے ایک دوسرے پر انگلی اٹھائی جائے بلکہ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا اگر پاکستان نے کارروائی نہیں کی تو پھر بھارت اپنے تمام متبادل راستوں پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔

اس دوران ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالرحمن انتولے کے ’اینٹی ٹیررازم سکواڈ‘ کے چیف ہیمنت کرکرے کی موت سے متعلق بیان پر حکومت نے منگل کو لوک سبھا میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ہیمنت کرکرے کی موت میں کوئی سازش نہیں تھی۔

 حکومت نے ممبئی حملوں میں مارے گئے پولیس افسر، ہمینت کر کرے، ان کاؤنٹر سپیشلسٹ وجے سلاسکر اور ایڈشنل کمشنر اشوک کامٹے کو اشوک چکر کا اعزاز دینے کے لیے نام زد کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ پی چدمبرام نے لوک سبھا میں صفائی دینے کے لیے ایک بیان پڑھنے کی کوشش کی لیکن حزب اختلاف کی جانب سے شور شرابے کی وجہ سے بیان پڑھے بغیر ہی پیش کر دیا گیا۔

بعد میں اس مسئلے پر وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے اس سے متعلق تفصیلی بیان دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ہیمنت کرکرے یا دوسرے پولیس افسروں کی موت میں کسی سازش کا شک وشبہ ہے۔ اس کے بعد خود مسٹر انتولے نے بھی ایک بیان دیا تو اب اس معاملے پر مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ادھر عبد الرحمان انتولے نے اپنے بیان کو تو واپس نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی شک نہیں تو ظاہر ہے انہوں نے تفتیش کی ہوگی اس لیے وہ ان کے بیان سے مطمئن ہیں۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی حکومت کے اس بیان سے مطمئن نہیں ہے اور وہ اب بھی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

عبد الرحمان انتولے نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا تھا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے اور ان کی موت کی تفتیش ہونی چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشتگردی کا شکار ہوئے یا پھر دہشت گردی اور اس کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔

انتولے نے کہا تھا کہ کرکرے مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تفتیش میں ثابت کیا تھا کہ یہ دھماکے غیرمسلموں نے کیے تھے۔ اس بیان کے بعد سے ہی ان کے خلاف زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔

ادھر حکومت نے ممبئی حملوں میں مارے گئے پولیس افسر، ہمینت کر کرے، ان کاؤنٹر سپیشلسٹ وجے سلاسکر اور ایڈشنل کمشنر اشوک کامٹے کو اشوک چکر کا اعزاز دینے کے لیے نامزد کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد