فضائیہ الرٹ، مولن کا دورۂ پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے تناظر میں بھارت کے ساتھ زیادہ مفید رابطے پیدا کرے اور ایسے طریقے ڈھونڈے جس سے انتہا پسندی جیسے مشترکہ خطرے سے مل کر نمٹا جا سکے۔ ایڈمرل مائیک مولن افغانستان میں مزید تیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے سلسلے میں افغان صدر حامدکرزئی سے ملاقات کے بعد اسلام آباد پہنچے اور ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ان کا رواں ماہ میں پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ایڈمرل مولن نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جاسوس ادارے آئی ایس آئی کےسربراہ شجاع پاشا سے ملاقات کی۔ امریکی فوجی سربراہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جارحیت کے پیش نظر پاکستان کی فضائیہ نےملک کی فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں جنگی طیاروں کو نیچی پروازیں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ راجستھان سیکٹر میں بھارتی فوج کی نقل و حمل میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق انڈین آرمی نے راجستھان سیکٹر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور انڈین ایئر فورس اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے زیادہ متحرک ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نےامریکی فوجی سربراہ سے ملاقات میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی مشرقی سرحدوں پر کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی جرنیل کو بتایا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی مکمل پاسداری کی ہے ۔ مائیکل مولن نے قومی سلامتی کے مشیر محمود علی دارنی سے ملاقات کی ہے جس میں خطے کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے صدر مملکت کو فوج کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اسے ابھی تک بھارت کی طرف سے ممبئی حملوں کے کوئی شواہد یا معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ بھارتی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں میں گرفتار ہونے والے اجمل قصاب کی طرف سے لکھا ہوا خط دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کے حوالے کردیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اجمل قصاب نے اپنے خط میں پاکستان کے ہائی کمیشن سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پاک فضائیہ نے ایک اخباری بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فضائیہ کے طیاروں کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور سوموار کو ملک کے بڑے شہروں پر فضائیہ کے طیاروں کی پروازیں معمول کی نہیں تھیں۔ فضائیہ کے ترجمان ائیر کموڈور ہمایوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ موجودہ صورتحال کے پیشن نظر پاک فضائیہ نے ملک کی فضائی حدود کی نگرانی سخت کر دی ہے۔ ترجمان نے نگرانی سخت کئے جانے کے اس فیصلے کے پس پردہ محرکات کی تفصیل بتانے سے انکار کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ فضائی نگرانی کسی مخصوص اطلاع کی بنا پر کی گئی ہے یا یہ کہ کسی مخصوص علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ لاہور اور بعض دیگر شہروں میں بھی جنگی طیارے فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات میں شدت آ گئی ہے اور بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے خلاف جنگ سمیت ’تمام آپشنز‘ استعمال کرنے کی بھی بات کی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکر جی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا تو بھارت کے پاس سبھی متبادل راستے کھلے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ اور دیگر رہنماؤں کے اس طرح کے بیانات پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔ | اسی بارے میں انڈیا: حدود کی خلاف ورزی کا الزام13 December, 2008 | پاکستان بھارت حملہ کرنے والا تھا: پاکستان06 December, 2008 | پاکستان ’خلاف ورزی فنی نوعیت کی تھی‘14 December, 2008 | پاکستان پاکستانی علاقہ استعمال ہوا: رائس08 December, 2008 | پاکستان فضائیہ کی گاڑی پرحملہ، بارہ ہلاک12 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||