BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2008, 20:58 GMT 01:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خلاف ورزی فنی نوعیت کی تھی‘

پاکستان کی فضائیہ حرکت میں آئی اور بھارتی طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کیا: ترجمان فضائیہ
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستانی حدود کی جو خلاف ورزی کی گئی ہے وہ فنی نوعیت کی غلطی ہے۔

انہوں نے یہ بات اتوار کو لاہور پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے حدود کی خلاف ورزی کے واقعہ کے فوری بعد انہوں نے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ سے بات کی تھی اور ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ خلاف ورزی فنی نوعیت کی غلطی ہے اور یہ فنی غلطی ایک معمول ہوتی ہے۔

ان کے بقول جب طیارہ بڑی رفتار میں رخ موڑتا ہے تو اس وقت طیارہ تیز رفتاری کی وجہ سے کسی کی حدود میں کچھ میل اندر تک آجاتا ہے جو ایک فنی غطلی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے اور اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی جائے گی تو پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور عوام کو اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 فاٹا میں کچھ لوگ متبادل حکومت کی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی کوششوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کی برطانوی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے اور گورڈن براؤن یہ چاہتے ہیں کہ بھارت میں دھماکوں کے بعد شاخت کیے گئے افراد تک ان کی رسائی دی جائے تا کہ برطانیہ اور بھارت ان سے پوچھ گچھ کر سکے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم سے کہا کہ ابھی کوئی ثبوت نہیں پہنچے ہیں، جب ثبوت فراہم کیے جائیں گے اس وقت اس کی بات کریں گے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی بھارت یا کسی دوسرے ملک کے کہنے پر نہیں کی بلکہ اس کارروائی کا مطالبہ اقوام متحدہ نے کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کی قرارداد آج کی نہیں بلکہ یہ معاملہ سن دو ہزار ایک سے چل رہا ہے اور اب اس پر عمل درآمد ہوا ہے۔ان کے بقول سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد جماعت الدعوۃ کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے وہ امریکہ ، بھارت یا برطانیہ میں کسی کا مطالبہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کے علاوہ دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا ہے بلکہ اس معاملہ پر تمام جماعتوں سے رابطہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کی قرارداد کی روشنی میں کی گئی ہے، حکومت کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ان کے بقول حکومت تحقیقات کر رہی ہے اور اس کے مکمل ہونے سے پہلے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان نہ تو دہشت گردی کے حق میں ہے اور نہ ہی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

ایک سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فاٹا میں کچھ لوگ متبادل حکومت کی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی کوششوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

کچھ ہوا حاصل ۔ ۔ ۔
کیا دعوۃ پر پابندی بھارت کے لیے کافی ہو گی؟
ذکی الرحمان لکھوی ذکی لکھوی کون؟
ذکی الرحمٰن لکھوی نے اب تک کیا کیا؟
جماعتہ الدعوۃ کے دفاتر سیل بندحکومتی کارروائی
جماعتہ الدعوۃ کے دفاتر سیل بند
جماعت الدعوۃ پولیس نہیں آئی
مرکز طیبہ،’ کئی دنوں سے پولیس نہیں آئی‘
اجمل امیر قصاباجمل کا ’اقبالی بیان‘
ممبئی حملوں میں بچ جانے والے ملزم کا بیان
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد