’خلاف ورزی فنی نوعیت کی تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستانی حدود کی جو خلاف ورزی کی گئی ہے وہ فنی نوعیت کی غلطی ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو لاہور پہنچنے کے بعد ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے حدود کی خلاف ورزی کے واقعہ کے فوری بعد انہوں نے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ سے بات کی تھی اور ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ خلاف ورزی فنی نوعیت کی غلطی ہے اور یہ فنی غلطی ایک معمول ہوتی ہے۔ ان کے بقول جب طیارہ بڑی رفتار میں رخ موڑتا ہے تو اس وقت طیارہ تیز رفتاری کی وجہ سے کسی کی حدود میں کچھ میل اندر تک آجاتا ہے جو ایک فنی غطلی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے اور اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی جائے گی تو پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور عوام کو اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم سے کہا کہ ابھی کوئی ثبوت نہیں پہنچے ہیں، جب ثبوت فراہم کیے جائیں گے اس وقت اس کی بات کریں گے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی بھارت یا کسی دوسرے ملک کے کہنے پر نہیں کی بلکہ اس کارروائی کا مطالبہ اقوام متحدہ نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کی قرارداد آج کی نہیں بلکہ یہ معاملہ سن دو ہزار ایک سے چل رہا ہے اور اب اس پر عمل درآمد ہوا ہے۔ان کے بقول سلامتی کونسل کی قرارداد کے بعد جماعت الدعوۃ کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے وہ امریکہ ، بھارت یا برطانیہ میں کسی کا مطالبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کے علاوہ دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا ہے بلکہ اس معاملہ پر تمام جماعتوں سے رابطہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کی قرارداد کی روشنی میں کی گئی ہے، حکومت کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ان کے بقول حکومت تحقیقات کر رہی ہے اور اس کے مکمل ہونے سے پہلے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان نہ تو دہشت گردی کے حق میں ہے اور نہ ہی دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایک سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فاٹا میں کچھ لوگ متبادل حکومت کی قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسی کوششوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں صورتحال کی سنجیدگی کی ایک مثال 13 December, 2008 | پاکستان ’یو این دہشتگرد قرار دے سکتا تھا‘12 December, 2008 | پاکستان پاکستان، بھارت، امریکہ، مفادات کی جنگ میں03 December, 2008 | پاکستان ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان مشترکہ تفتیش کی دوبارہ پیشکش 08 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||