’پولیس کئی دنوں سے مرکز کی طرف نہیں آئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف ملک بھر میں کارروائی کی خبریں میڈیا پر نشر ہو رہی تھیں تو پھر پولیس کی درجنوں گاڑیاں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جماعت الدعوۃ کے مرکز طیبہ کے باہر تعینات ہوگی، ذہن میں یہ تصور لیے جمعہ کے روز جب میں لاہور سے تیس کلومیٹر دور مرکز طیبہ پہنچا تو وہاں صورتحال غیر متوقع طور پر معمول کے مطابق نظر آئی۔ مرکز طیبہ کے مرکزی داخلی راستہ پر صرف ایک چوکیدار تھا جبکہ مقامی لوگوں اور مرکز کے رہائشیوں کی آمدو رفت جاری تھی ۔تاہم مجھے گیٹ پر انتظار کرنے کو کہا گیا۔ اس دوران چوکیدار فہاد اللہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پولیس کئی دنوں سے مرکز کی طرف نہیں آئی ہے۔ پچیس سے تیس منٹ تک انتظار کرنے کے بعد مرکز طیبہ کے انتظامی امور کے انچارج ابواحسان دروازے پر آئے اور آمد کا مقصد پوچھنے کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ مرکز کے اندر قائم الدعوۃ ماڈل سکول ، کالج ، طلباء کا ہوسٹل اور مدرسہ ویران تھے تاہم ایک وسیع باورچی خانے میں سب سے زیادہ سرگرمی تھی۔ وہاں بڑے بڑے دیگچوں میں کھانا پکانے کے علاوہ عید کے چوتھے روز بھی قربانی کے جانور ذبحہ کیے جا رہے تھے اور گوشت مرکز کے رہائشیوں اور مقامی آبادی کے لوگوں میں تقسیم کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ ہسپتال بھی معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔ اور چند لڑکے ہوسٹل کی صفائی کرتے نظر آئے۔ مرکز میں لوگو کی کم تعداد کے بارے میں ابو احسان نے کہا کہ یہاں مستقل طور پر ساڑھے چار سو کے قریب لوگ رہایش پذیر ہیں لیکن عید کی چھٹیوں کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے آبائی علاقوں میں گئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مرکز خالی خالی نظر آ رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کو دوبارہ سکول اور مدرسہ کھل جائیں گے تو سولہ سو سے زائد طلباء آپ کو مرکز میں نظر آئیں گے۔ اس دوران ابو احسان کے موبائل فون پر مسلسل مرکز کے سکول اور مدرسہ میں زیر تعیلم طلباء کے والدین کی فون آتے رہے اور وہ انہیں مطمئن کرتے رہے کہ ٹی وی چینل اور اخبارات پر آنے والی خبروں کے برعکس یہاں حالات پر سکون ہیں اور سوموار سے تمام تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہو جائیں گی لہذا آپ بچوں کو بے خوف ہو کر بھیج دیں۔ ابو احسان نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ستر ایکڑ پرمحیط مرکز کا دورہ کروایا اور اس دوران انہوں نے متعدد بار کہا کہ یہاں کبھی بھی کسی قسم کی عسکری تربیت کا انتظام نہیں تھا اور نہ ہوگا اور عسکری تنظم لشکر طیبہ کا ہمارے ساتھ نام جوڑ کر صرف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انیس سو بانوے سے یہاں خالصتاً تعلیمی اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے ۔اور اب تو مرکز میں ہم نے کاشت کاری بھی شروع کی دی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سننے میں آیا ہے کہ گذشتہ رات تین سے چار گاڑیوں میں پولیس والے آئے تھے اور مرکز کا چکر لگانے کے بعد واپس چلے گئے ۔لیکن ہمارے کسی ساتھی نے پولیس والوں کو دیکھا نہیں کہ وہ کب آئے اور کب واپس چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی تھا ہی نہیں تو پولیس والوں کو ملنا کیا تھا۔ اس لیے شاید وہ رات کی پچھلی پہر سکول اور ہوسٹل کے بند دروازے دیکھ کر واپس چلے گئے ہوں۔ اور اگر دوبارہ بھی آتے ہیں تو انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مرکز کے اندر موجود لوگوں کی تصاویر اتارنا ممنوع تھا اور اس دوران کسی فرد سے بات بھی ابو احسان کی موجودگی میں کرنے کی اجازت تھی اور مرکز کے اندر رہائشیوں کے ساتھ بات چیت میں تقریباً ایک جیسے جوابات سامنے آئے کہ یہاں کبھی کچھ غلط ہوا ہی نہیں تو پھر حکام کی طرف سے کارروائی کا کیا جواز بنتا ہے۔
ابو احسان سے اجازت لینے کے بعد جب باہر نکلا تو بازار میں متعدد دوکان داروں نے ماچس فروخت کرنے سے انکار کیا کہ اسلام میں نشہ کرنا ناجائز ہے لہذا آپ کو سگریٹ کے لیے ماچس فروخت نہیں کی جا سکتی ہے ۔ اس دوران ایک ڈاکٹر نزاکت علی کے کلینک میں جا کر معلوم کیا کہ مرکز کی حدود کتنی ہے اور یہاں پر کیا چیزین ممنوعہ ہیں۔ ڈاکٹر نزاکت علی نے بتایا کہ مرکز طیبہ نگل ساہدناں گاؤں میں ہے جو ضلع شیخوپورہ کا سب سے بڑا گاؤں بلکہ اب آبادی کے لحاظ سے قصبہ بن چکا ہے ۔ جہاں بیس ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں ۔اور اس علاقے میں مرکز کا پورا نام مرکز طیبہ الدعوۃ ارشاد پکارا جاتا ہے۔ واضع رہے کہ مرکز کے داخلی دورازے کے باہرصرف جامعہ الدعوۃ اسلامیہ تحریر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت الدعوۃ کے فلاحی کاموں کی وجہ سے مرکز طیبہ کا مقامی آبادی پر کافی گہرا اثر ہے اور یہاں آباد زیادہ تر لوگ جماعت الدعوۃ سے منسلک ہیں ۔ ڈاکٹر نزاکت علی نے بتایا کہ جماعت الدعوۃ کی وجہ سے معاشرہ بہت ساری برائیوں سے بچا ہوا ہے اس لیے ہمارے گاؤں میں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کریک ڈاؤن، اشرف کا خاندان روپوش 12 December, 2008 | پاکستان الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن، مظفرآباد میں مظاہرہ12 December, 2008 | پاکستان کیا دعوۃ پر پابندی کچھ کر سکے گی؟ 13 December, 2008 | پاکستان نظر بندی کے احکامات وصول، کارروائی جاری13 December, 2008 | پاکستان فیصلہ کسی صورت قبول نہیں: حافظ11 December, 2008 | پاکستان جماعت الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ01 July, 2007 | پاکستان عالمی ذمہ داری پوری ہوگی:گیلانی11 December, 2008 | پاکستان رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک11 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||