الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن، مظفرآباد میں مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے کراچی، لاہور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد سمیت دوسرے شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس تنظیم کے دفاتر اور دیگر ادارے سربمہر کئے جارہے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف سینکڑوں افراد نے مظفرآباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعہ کو جماعۃ الدعوۃ کی لاہور میں واقع مسجد میں جماعۃ الدعوۃ کے نظر بند امیر حافظ محمد سعید کے بیٹے طلحہٰ سعید نے کہا ہے کہ ان کا خیراتی ادارہ ’جماعۃ الدعوۃ‘ اپنے اوپر بندش ختم کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرے گا۔ یاد رہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ’رہنما‘ حافظ سعید سمیت چار افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے تھے اور پاکستان کی فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوۃ پر یہ کہہ کر پابندی لگای دی تھی کہ دراصل یہ لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو جماعۃ الدعوۃ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے ہدایات جاری کر دی تھی۔ طلحہٰ سعید نے جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’الدعوۃ پاکستان میں فلاحی کام کر رہا ہے، لیکن اب یہ کام رک گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس (بندش) کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے۔‘
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بتایا ہے کہ شہر میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران جماعۃ الدعوۃ کی آٹھ عمارتوں کو سربمہر کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے کسی کارکن یا عہدیدار کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے صرف اس تنظیم کے دفاتر اور دوسری املاک کو سربمہر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں جماعۃ الدعوۃ کی جن آٹھ عمارتوں کو سربمہر کیا گیا ہے ان میں تنظیم کے دفاتر، مدارس، سکول اور لائبریری وغیرہ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق جماعۃ الدعوۃ کے ارکان اور عہدیداروں کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ داخل نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سندھ کے صوبائی سیکریٹری داخلہ عارف احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اب تک کی کارروائی کی تفصیل بتانے سےگریز کیا تھا تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر سربمہر کیے جا رہے ہیں۔ ’میں اس کارروائی سے انکار نہیں کر رہا، بلاشبہ یہ کارروائی جاری ہے اور جلد ہی مکمل کرلی جائے گی۔‘
جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر نے ٹیلی فون پر بی بی سی کرتے ہوئے بتایا کہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر سمیت دیگر رہنماؤں کی نظربندی اور تنظیم کے دفاتر کو سربمہر کرنے کے اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ ان کے بقول اس ضمن میں باضابطہ درخواست جلد ہی عدالت میں دائر کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے تنظیم کے خلاف کرنے میں غیرمعمولی جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔ مریدکے سے ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ مریدکے میں واقع جماعۃ الدعوۃ کے مرکز کے انچارج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کو چھاپوں اور دفاتر سیل ہونے کی خبریں تو آ رہی ہیں لیکن ان کے پاس تعداد نہیں ہے۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ جماعۃ الدعوۃ کے خلاف کارروائی میں ایک کو گرفتار کیا گیا ہے اور ایک نظر بند ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نظر بند ہیں جبکہ راولپنڈی میں واقع عسکری ولاز سے کرنل ریٹائرڈ نذیر احمد کو جمعرات کی شب گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں جماعۃ الدعوۃ کا دفتر سیل کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہی کے سیکٹر آئی ایٹ میں مسجد قباء پر چھاپہ مارا گیا اور دستاوازات قبضے میں لیے۔ تاہم اس مسجد کو سیل نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی شیخ زبیر احمد نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ان کو جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر سیل کرنے کے احکامات ملے ہیں گرفتاری کرنے کے نہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ انٹیلیجنس بیورو اور سپیشل برانچ میں قائم مذہبی سیل کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ ان افراد کی فہرست تیار کریں جن کا جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر میں آنا جانا تھا۔ سکھر سے ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کو ڈی پی او حیدر آباد غلام نبی میمن نے بتایا کہ حیدر آباد میں جماعۃ الدعوۃ کے دو دفاتر اور ایک کلینک سیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا ان دفاتر میں کوئی موجود نہیں تھا۔
سکھر کے ڈی پی او شرجیل کھرل نے بتایا کہ جماعۃ الدعوۃ کا ایک دفتر سیل کیا گیا اور دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ اس کے علاوہ الرشید ٹرسٹ کا دفتر بھی سیل کیا گیا ہے۔ کشمیر میں کارروائی مظفرآباد شہر میں پولیس نے رات گئے جماعۃ الدعوۃ کا مرکزی دفتر اور سکول سربہر کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک گاڑیوں کی مرمت کے لئے قائم کی گئی ورکشاپ بھی سیل کی گئی جو جماعت کے زیر انتظام چلتی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دفتر اور اسکول میں کوئی رکن موجود نہیں تھا البتہ عینی شاہدین کے مطابق ورکشاپ سے جماعۃ الدعوۃ کے چار کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اس کی تصدیق کی لیکن تعداد بتانے سے گریز کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ضلع میرپور میں بھی تنظیم کا دفتر اور اس تنظیم کے زیر انتظام چلنے والی ڈسپنسری اور سکول پر بھی تالے ڈال دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا کہ کشمیر کے اس علاقے کے دیگر اضلاع میں بھی جماعۃ الدعوۃ کے دفاتر اور دیگر ادارے سیل کیے جارہے ہیں۔ درین اثنا مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری امتیاز نے کہا کہ کشمیر کے اس علاقے کے جماعت الدعوۃ کے سربراہ عبدالعزیز علوی کو کل رات گھر میں نطر بند کرنے کا جو حکم دے دیا گیا تھا وہ آج واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم ان کو پیشگی اطلاع کے بغیر اپنے آبائی قصبے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یاد رہے آٹھ اکتوبر سن دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے بعد اس تنظیم کے کارکنوں نے علاقے امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔ تنظیم کے عہدیداروں کے مطابق امدادی کاموں کے بعد وہ لوگوں کی بحالی اور تعمیر میں بھی مدد فراہم کر رہے تھے اور متاثرہ علاقوں میں فلاحی کاموں میں مصروف تھے۔ |
اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||