کریک ڈاؤن، اشرف کا خاندان روپوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے رہنماء حافظ سعید کے ساتھ جن دوسرے رہنماؤں کےنام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیے ہیں ان میں ایک محمد اشرف آرائیں چھ برس پہلے فوت ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے خلاف شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران سندھ کے ساحلی ضلع بدین کے شہر گولاڑچی سے محمد اشرف آرائیں کا خاندان روپوش ہوگیا ہے۔ محمد اشرف آرائیں کا شمار کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ اشرف آرائیں کے بارے میں ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ گیارہ جون دو ہزار دو میں اسیری کے دوران سول ہسپتال حیدر آباد میں فوت ہوگئے تھے۔ انہیں آخری مرتبہ کراچی کے شیرٹن ہوٹل کے قریب بم حملوں کے بعد دسمبر دو ہزار ایک میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سینٹرل جیل حیدرآباد میں اسیری کے دوران وہ بیمار ہوگئے، انہیں ہتھکڑیوں سمیت سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا مگر وہ فوت ہوگئے۔انہیں گولاڑچی کے قاسم شاہ قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔ ضلع بدین کا شہر گولاڑچی لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کا اندرون سندھ میں گڑھ مانا جاتا ہے جہاں ان کے سکول، مدرسہ اور لائبریری قائم ہیں۔ جماعت الدعوۃ کے حالیہ صوبائی امیر انور آرائیں کا تعلق بھی گولاڑچی سے ہے۔ ان کی گرفتاری کے لیے گولاڑچی میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ محمد اشرف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے بزرگ ہندوستان سے ہجرت کرنے کے بعد لاڑکانہ میں رہائش پذیر تھے جہاں سے انیس سو پینسٹھ میں انہوں نے دوبارہ ہجرت کی اور گولاڑچی میں رہائش اختیار کرلی۔ محمد اشرف شروع سے ہی مذہبی رجحان رکھنے والے تھے۔ان کے خاندان کے پاس گولاڑچی میں چند ایکڑ زرعی زمین بھی ہے۔ محمد اشرف کے دو بیٹے پرویز اور ارشاد گولاڑچی میں رہتے ہیں جبکہ ان کے تیسرے بیٹے عطا دبئی منتقل ہوگئے ہیں۔ ان کے بیٹے پرویز نے مقامی میڈیا کو جمعرات کے دن بتایا تھا کہ ان کے والد چھ برس قبل فوت ہوچکے ہیں۔ ان کی فوت کے سرٹفیکٹ بھی ان کے پاس ہیں اور اب ان کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان کے خاندان کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔ محمد اشرف آرائیں کی بیوہ نے بھی مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کے شوہر بیگناہ تھے اور ان کا کسی دہشتگرد تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔ جماعت الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن اور گولاڑچی میں پولیس چھاپوں کے سلسے کے بعد محمد اشرف آرائیں کے خاندان کے تمام افراد رات کو نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے ہیں اور ان کا کسی رشتہ دار سے رابطہ نہیں رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||