بھارت نےشواہد نہیں دیئے: انٹرپول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹر پول کے سیکریٹری جنرل رونالڈ کے نوبل نے کہا ہے کہ تاحال ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت نے انہیں کوئی شواہد یا ثبوت فراہم کیے ہیں اور نہ ہی مدد مانگی ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو وزارت داخلہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتائی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں میں ملوث کسی پاکستانی کا نام بھارتی حکومت نے انہیں تاحال نہیں دیا اور شاید بھارتی حکومت سمجھتی ہو کہ فی الوقت تحقیقات میں انٹر پول کو شامل کرنا مناسب نہیں ۔ ’مجھے لگتا ہے کہ بھارتی پولیس انٹر پول کو معلومات فراہم کرنے کےلیے تیار ہے لیکن بھارت کی حکومت ابھی اس بارے میں تیار نہیں۔‘ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ممبئی حملوں کے بارے میں ہمیں بھی اتنی ہی معلومات ہے جتنی کہ آپ کو۔۔ ہمیں ٹی وی اور انٹرنیٹ سے ہی معلومات ملی ہے۔۔ ہم نے کئی روز قبل انٹر پول کی ٹیم بھارت بھیجی تاکہ جلد شواہد حاصل کیے جاسکیں۔۔ لیکن بھارتی حکومت نے تاحال کچھ نہیں بتایا اور اگر بھارت معلومات فراہم کرتا تو یہ عمل آسان اور تیز ہوجاتا۔‘
پانچ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے ہوئے رونالڈ نوبل نے پاکستانی سیکورٹی ایجنسیز کی دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام میں تعاون کو سراہا اور کہا کہ دنیا کی کسی پولیس نے اتنا انٹرپول کو مجرموں کو پکڑنے میں معلومات فراہم نہیں کی جتنی کہ پاکستان نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور جتنا دہشت گردی کا شکار پاکستان ہے اتنا دنیا کا کوئی ملک نہیں ہے۔ ’سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو بھی قتل کردیا گیا اور گزشتہ سولہ ماہ میں خود کش اور دیگر دہشت گردی کے حملوں میں پندرہ سو افراد مارے جا چکے ہیں۔‘ انٹر پول کے سربراہ نے کہا کہ ’میری رائے کے مطابق دہشت گردی کے شکار ملک پاکستان کو دنیا کے تعاون کی ضرورت ہے اور نہ کہ مذمت کی۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں میں بھارت کی جانب سے معلومات ملنے کے بعد پاکستان نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے وزارت داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت نے تاحال پاکستان کو سرکاری یا غیر سرکاری طور پر کوئی ثبوت مہیا نہیں کیے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے مشترکہ تفتیش میں غیر مشروط تعاون کی پیشکش دوہرائی اور کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں اس لیے مجرموں کو انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ایک سوال پر رحمان ملک نے بتایا کہ اجمل قصاب کا نام سامنے آنے کے بعد انہوں نے کمپیوٹرائیزڈ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نادرا سے معلومات حاصل کی لیکن ان کے ڈیٹا بینک میں اس نام کے متعلق کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ ممبئی حملوں کے زندہ گرفتار ہونے والے مبینہ ملزم اجمل قصاب کی جانب سے قانونی مدد کے لیے موصول ہونے والے خط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ماہرین اس خط کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ لشکر طیبہ اور جماعتہ دعوۃ کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کیا ثبوت ملے ہیں تو مشیر داخلہ نے کہا کہ لشکر طیبہ تو پہلے سےکالعدم جماعت ہے لیکن جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق کی گئی ہے۔ ’ہم نے بعض افراد کے نام ملک سے باہر جانے والے افراد پر پابندی والی فہرست میں ڈالے ہیں، کچھ اکاؤنٹ منجمن کیے ہیں، کچھ گرفتاریاں بھی کی ہیں اور بعض جرائد پر پابندی بھی عائد کی ہے۔‘ رحمان ملک نے کہا کہ ملکی مفاد کے تحت جو بھی ضروری ہوا وہ اقدامات اٹھائیں گے اور کسی کی بھی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انٹر پول کے سیکریٹری جنرل سے مختلف ممالک میں قید غیر قانونی تارکین وطن اور ہیومن سمگلرز سمیت مختلف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری سمیت مختلف معاملات میں تعاون بڑھانے کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی میں انٹرپول کی تفتیش22 December, 2008 | انڈیا ’کارروائی کریں ورنہ آپشن کھلے ہیں‘22 December, 2008 | انڈیا دہشتگردی مخالف نیا قانون – ضرورت یا دباؤ؟20 December, 2008 | انڈیا ’پولیس کی غلطی سے جانیں گئیں‘21 December, 2008 | انڈیا پاک فضائیہ چوکس، مولن اسلام آباد میں 22 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||