 | | | ’مہمانوں کا ایک گروپ رات بھر ایک کمرے میں چھپا رہا لیکن صبح پولیس کے کہنے پر ان میں سے کچھ باہر جانے والوں پر دہشگردوں نے گولیاں برسا دیں‘ |
ممبئی میں گزشتہ ماہ دہشت گردی کے حملوں کے دوران ایک ہوٹل میں پھنس کے رہ جانے والے مہمانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے انہیں ’غلط‘ ہدایات دی تھیں اور ہو سکتا ہے کہ ان سے ہلاک شدگان کی تعداد آج اور بھی زیادہ ہوتی۔ ممبئی میں بی بی سی نیوز کے ایڈیم مائینوٹ کے مطابق دہشگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک بچ جانے والے شخص نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے مہمانوں کے ایک گروپ سے جو تاج ہوٹل میں تھا یہ کہا کہ ہوٹل کی عمارت سے نکل جانا محفوظ ہوگا۔ لیکن ہوٹل میں پھنسے ہوئے مہمانوں پر شدت پسندوں نے اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ہوٹل سے باہر نکل رہے تھے۔ تاہم اس کارروائی کےانچارج پولیس کے ایک سینیئر افسر نے اپنے افسروں کے خلاف ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ممبئی کے ایک ممتاز گائناکالوجسٹ ڈاکٹر پراشانت منجیشکر اس وقت تاج ہوٹل میں سینکڑوں دوسرے مہمانوں کی طرح موجود تھے جب شدت پسندوں نے وہاں دھاوا بولنے کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔  | مجھے کچھ شبہہ سا پڑ گیا تھا  میں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا لیکن میرے آگے بیس یا تیس افراد جو اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگے، سب کے سب مارے گئے  ڈاکٹر پراشانت |
سہمے ہوئے مہمان ہوٹل کے ایک کمرے میں چھپ گئے اور انتظار کرنے لگے۔ اگلی صبح وہاں پولیس افسر پہنچے اور انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ہوٹل سے باہر چلے جانے میں خطرہ نہیں ہے کیونکہ مسلح افراد ہوٹل کے کسی اور فلور پر کونے میں دبکے ہوئے ہیں۔ پولیس کے کہنے پر کئی لوگ وہاں سے چل پڑے لیکن ڈاکٹر پراشانت وہیں رکے رہے۔ وہ کہتے ہیں: ’مجھے کچھ شبہہ سا تھا کہ پولیس والے ان لوگوں کو اسی راستے سے بھیج رہے ہیں جہاں دہشت گرد موجود ہونے چاہیئیں۔ چنانچہ میں نے وہاں سے جانے سے انکار کر دیا لیکن میرے آگے بیس یا تیس افراد جو اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگے، سب کے سب مارے گئے۔‘ ایک ڈریس ڈیزائنر شلپا کا کہنا ہے کہ ان کی آنٹی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کے ایک کزن بری طرح زخمی ہوئے کیونکہ انہوں نے پولیس کی ہدایات مانتے ہوئے ہوٹل سے باہر جانے کی کوشش کی۔ شلپا نے پولیس کے طرزِ عمل کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ’انہیں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی حق نہیں تھا۔‘ |