صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | نیشنل سکیورٹی گارڈ کے اہلکار سنیل یادو تاج ہوٹل کے آپریشن میں زخمی ہوئے تھے |
ممبئی کے ہوٹل تاج میں شدت پسندوں سے زیادہ دیر تک مڈبھیڑ ہوئی اور اسی ہوٹل سے سب سے زیادہ لاشیں نکلی ہیں۔ اس ہوٹل پر حملے میں جو لوگ بچ نکلے انکا ممبئی کے مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ اشوک پورا انہیں میں سے ایک ہیں جو ممبئی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں۔ بی بی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موت کے منہ سے نکلے اور موت دیکھی کہ وہ کیا ہوتی ہے، کسی نے بچایا نہیں بس کسی طرح بچ گئے بھگوان کی دعا سے، تاج کے پیچھ سے راستہ تلاش کرکے نکلے۔ اشوک نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ تاج کی دوسری منزل پر تھے اور ان کی ڈیوٹی سی سی ٹی وی والے روم میں تھی۔ ’اچانک گولیوں اور دھماکوں کی آواز سے پتہ چلا کہ نیچے کچھ ہورہا ہے، میں نے سب دیکھا کہ کیسے وہ مہمانوں کو ایک روم سے لاکر ایک جگہ جمع کر رہے تھے اور لات سے دروازے توڑ رہے تھے۔‘ اشوک پوار کہتے ہیں کہ ایک دھماکہ ان کے بہت قریب ہوا جس کے کچھ چھرے انہیں لگے اور پھر دھویں سے پورا کمرا ایسا بھر گیا کہ سانس لینا مشکل تھا۔’ کوئی چارا نہیں تھا میں اس وقت سوچ رہا تھا کہ اب جان تو جانی ہی ہے یا تو گولی سے یا آگ لگنے سے مر جاؤں گا ، پھر میں چھپ کر دیوار سے چپکے چپکے نکلا، کہاں جارہا تھا اور کس طرف کچھ نہیں معلوم تھا بڑی مشکل سے صبح کے چار بجے میں پیچھے کی طرف کودنے میں کامیاب ہوا۔‘ اشوک کہتے ہیں کی رات کے بارہ بجے تک وہ فون پر گھر والوں سے بات کرتے رہے تھے۔ لیکن بعد میں ہمیں لگا کہ فون کی گھنٹی اور میری آواز ہی میرے لیے موت کا سامان بن سکتی ہے اس لیے فون آف کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رات ان کے ایسی قیامت خیز تھی کہ اسے چاہ کر بھی وہ بھول نہیں سکتے۔ ’دشمن کی پہچان اس کے ہتھیار سے ہی ہوتی ہے۔‘ نیشنل سکیورٹی گارڈ سنیل یادو تاج ہوٹل کے آپریشن میں زخمی ہوئے تھے جن کا بامبے ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ ان کے کولہے پر تین گولیاں لگی ہیں۔  | | | تاج ہوٹل کے ملازم اشوک پاور نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ ہوٹل کی دوسری منزل پر تھے | بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’صبح ہی سے ہم یرغمالیوں کو رہا کرانے میں لگے تھے اور رات ہوتے ہوتے اتنا دھواں بھر گیا تھا کہ کچھ نہیں دکھ رہا تھا لیکن ہم نائٹ ویزن سے کام کر رہے تھے۔‘ سنیل یادو کا کہنا ہے کہ چھٹی منزل سے تیسری منزل پر پہنچتے پہنچے رات ہوکئی تھی۔ ’ہم جب تیسری منزل پر پہنچے تو ایک بیرونی ملک کی خاتون یہ کہکر مجھے لپٹ گئیں کہ مجھے بچا لو اتنے میں کہیں سے کئی راؤنڈ کی فائرنگ ہوئی اور میرے جسم سے چھیلتی ہوئی نکلیں لیکن اس خاتون کو کئی گولیاں اس کے پیٹ میں لگ گئیں۔‘ سنیل کا کہنا تھا کہ پھر ان کے دوسرے ساتھیوں نے ان کی مدد کی اور پھر انہیں ہسپتال میں پتہ چلا کہ ان کے ہپ میں گولی لگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے نیچے کی منزل پر کچن کے پاس کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ ’ان لوگوں نے ہوٹل کے اسٹاف کو مار کر اتنی لاشیں زینے پر ڈال رکھی تھیں کہ وہ راستہ پوری طرح بند تھا اس لیے ہوٹل میں موومنٹ کی بڑی مشکل تھی، ہمیں پہلے سے ان کا حلیہ اور یہ بتایا گیا تھا کہ وہ کس رنگ کے کپڑوں میں تھے لیکن وہ کبھی اس روم تو کبھی اس چھت سے فائرنگ کرتے رہتے تھے اس لیے پتہ نہیں چل پارہا تھا کہ کتنے لوگ ہیں اور کون ہیں دشمن کی پہچان تو اس کے ہتھیار سے ہوپاتی ہے۔‘ بامبے ہسپتال میں ایسے کئی زخمی ہیں جو کئی روز تک تاج یا اوبرائے میں زندگی کے مشکل ترین لمحے گزارے ہیں۔ ان کے جس پر لگے زخم تو بھر جائیں کے لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے وہاں جو دیکھا اور سنا وہ وہ کبھی نہیں بھول سکتے۔ |