’کارروائی کریں ورنہ آپشن کھلے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا تو بھارت کے پاس سبھی متبادل کھلے ہیں۔ مسٹر مکھرجی مختلف ممالک میں مامور بھارتی سفیروں کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو آج دلی میں شروع ہوا ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رشتوں میں بڑھتی ہوئی تلخی کے پیش نظر اس اجلاس کو اہم مانا جارہا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ اجلاس سے کل خطاب کریں گے۔ اس درمیان بھارت میں امریکی سفیر ڈیوڈ سی ملفرڈ نے بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرم سے ملاقات کی ہے اور شدت پسندی سے نمٹنے میں انڈیا کے ساتھ تعاون کی بات کہی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بیان بازياں تلخ ہوچکی ہیں۔ بھارت بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ ممبئی حملوں کے پیچھے بعض پاکستانی شدت پسند عناصر ہیں اور ان کے خلاف پاکستان سختی سے کارروائی کرے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کی تفتیش میں بھارت کو وہ ہر ممکن تعاون دینے کے لیے تیار ہے لیکن بھارت اس بات کے پختہ ثبوت فراہم کرے کہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا تو بھارت کے پاس سارے متبادل کھلے ہیں اور وہ کوئی بھی کڑا قدم اٹھا سکتا ہے۔ اتوار کو وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نےکولکتہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو کئی بار ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ’پاکستان متضاد بیانات دیتا رہا ہے، اسے کافی ثبوت دیے جاچکے ہیں اور اب متضاد بیانات اور انکار کرنے کے بجائے اسلام آباد کو کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘ پرنب مکھرجی نے کہا کہ پاکستان اپنا وہ وعدہ پورا کرے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی سر زمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ادھر اتوار کو ہی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے جموں میں کہا تھا کہ پاکستان کو منہہ توڑ جواب دینے کی ہندوستان کے پاس پوری صلاحیت ہے۔ | اسی بارے میں ’سبھی راستے کھلے رکھنے کا حق‘20 December, 2008 | انڈیا انڈیا: فوجی، سیاسی قیادت کا اجلاس20 December, 2008 | انڈیا سرینگر : چناؤ سے قبل تناؤ19 December, 2008 | انڈیا بھارت کے قانون پر ایمنسٹی کی تشویش19 December, 2008 | انڈیا انتولے: مستعفی ہونے کی پیشکش19 December, 2008 | انڈیا مسعود اظہر ملک میں نہیں: پاکستان18 December, 2008 | انڈیا پہلے کارروائی پھر بہتر تعلقات: انڈیا16 December, 2008 | انڈیا براؤن اچانک انڈیا کے دورے پر 13 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||