انتولے: مستعفی ہونے کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی پارلیمان میں ایک بار پھر اقلیتی امور کے وزیر عبدالرحمن انتولے کے بیان پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنا موقف پارلیمان اجلاس کے خاتمے سے پہلے بتا دے گي۔ لیکن تمام طرح کی نکتہ چینیوں کے باوجود عبدالرحمن انتولے اپنے بیان پر اٹل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انہوں سچ کہا ہے۔ ’ کون ہندوستانی ہے جس کےذہن میں یہ بات نہیں ہے۔‘ مسٹر انتولے سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس قدر تنقید کے بعد استعفی دے دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے نا تو انکار کریں گے اور نا ہی تصدیق کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان کا موقف یہ ہے کہ اگر پارٹی کو ان کے بیان سے نقصان پہنچا ہے تو وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنا استعفی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پاس بھیجا ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا ہے۔ مسٹر انتولے کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور ہندوستانی ہیں اور انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان کے جواب ملنے چاہیں اور اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ ادھر حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انتولے نے ایک غیرذمہ دارانہ بیان دیا ہے جس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا اور اس بیان کے بعد انہیں اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما شاہ نواز حسین کا کہنا ہے ’ایک منٹ بھی انتولے جیسے وزیر کو برداشت نہیں کر سکتے انہیں فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے اور کانگریس کو اس بات کے لیے معافی مانگنی چاہیے کہ ایسے وزیر کو انہوں نے کابینہ میں رکھا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’انتولے اب دوسری غلطی یہ کر رہے ہیں کہ جب پورا ملک دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اس وقت انتولے فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے پاکستان کا فائدہ اٹھایا۔ اس معاملے میں ہندو مسلم کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔‘ اس کے جواب میں انتولے نے کہا ’بد قسمتی سے اگر پاکستان کو میرے بیان فائدہ پہنچے گا بھی تو میری وجہ سے نہیں میڈیا کے وجہ سے، معاف کرنا لیکن میں کہوں گا کہ میرے بیان کو میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔‘ مسٹر انتولے نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا تھا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشت گردی کا شکار ہوئے یا اس کے علاوہ کچھ اور ہے، وہ نہیں جانتے لیکن ان کی موت کی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘ انتولے نے کہا تھا کہ کرکرے مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا تھا کہ یہ دھماکے غیرمسلموں نے کیے تھے۔ | اسی بارے میں ’کارروائی کا منصوبہ نہیں‘16 December, 2008 | انڈیا ’ضروری جانکاری تفتیش کے بعد‘ 13 December, 2008 | انڈیا پہلے کارروائی پھر بہتر تعلقات: انڈیا16 December, 2008 | انڈیا بہتر سکیورٹی نظام، بل منظور ہوگیا17 December, 2008 | انڈیا انتولے کے بیان پر ہنگامہ18 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||