BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2008, 17:39 GMT 22:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتولے: مستعفی ہونے کی پیشکش
انتولے
انتولے کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی کو ان کے بیان سے نقصان پہنچا ہے تو وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں
ہندوستان کی پارلیمان میں ایک بار پھر اقلیتی امور کے وزیر عبدالرحمن انتولے کے بیان پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنا موقف پارلیمان اجلاس کے خاتمے سے پہلے بتا دے گي۔ لیکن تمام طرح کی نکتہ چینیوں کے باوجود عبدالرحمن انتولے اپنے بیان پر اٹل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انہوں سچ کہا ہے۔ ’ کون ہندوستانی ہے جس کےذہن میں یہ بات نہیں ہے۔‘

مسٹر انتولے سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس قدر تنقید کے بعد استعفی دے دیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے نا تو انکار کریں گے اور نا ہی تصدیق کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق ان کا موقف یہ ہے کہ اگر پارٹی کو ان کے بیان سے نقصان پہنچا ہے تو وہ مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنا استعفی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے پاس بھیجا ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا ہے۔

مسٹر انتولے کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور ہندوستانی ہیں اور انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان کے جواب ملنے چاہیں اور اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انتولے نے ایک غیرذمہ دارانہ بیان دیا ہے جس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا اور اس بیان کے بعد انہیں اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما شاہ نواز حسین کا کہنا ہے ’ایک منٹ بھی انتولے جیسے وزیر کو برداشت نہیں کر سکتے انہیں فوری طور پر مستعفی ہونا چاہیے اور کانگریس کو اس بات کے لیے معافی مانگنی چاہیے کہ ایسے وزیر کو انہوں نے کابینہ میں رکھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’انتولے اب دوسری غلطی یہ کر رہے ہیں کہ جب پورا ملک دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اس وقت انتولے فرقہ وارانہ رنگ دے رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے پاکستان کا فائدہ اٹھایا۔ اس معاملے میں ہندو مسلم کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔‘

اس کے جواب میں انتولے نے کہا ’بد قسمتی سے اگر پاکستان کو میرے بیان فائدہ پہنچے گا بھی تو میری وجہ سے نہیں میڈیا کے وجہ سے، معاف کرنا لیکن میں کہوں گا کہ میرے بیان کو میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔‘

مسٹر انتولے نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا تھا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشت گردی کا شکار ہوئے یا اس کے علاوہ کچھ اور ہے، وہ نہیں جانتے لیکن ان کی موت کی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

انتولے نے کہا تھا کہ کرکرے مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا تھا کہ یہ دھماکے غیرمسلموں نے کیے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ کرکرے جیسا افسر تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل یا ناریمان ہاؤس جانے کے بجائے کاما ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا؟ انتولے نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ہی گاڑی میں تین اعلیٰ پولیس افسران کیوں گئے جبکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر انہیں وہاں جانے کی اجازت کس نے دی تھی؟

اسی بارے میں
انتولے کے بیان پر ہنگامہ
18 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد