انتولے کے بیان پر ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور عبدالرحمن انتولے کے اینٹی ٹیررازم سکواڈ کے چیف ہیمنت کرکرے کی موت سے متعلق بیان پر جمعرات کو لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔ حالانکہ انتولے نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی کی جانب کوئی اشارہ نہیں کر رہے تھے لیکن ہمینت کرکرے کی موت کی تفتیش ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض رہنما ان کے بیان سے سخت ناراض ہیں۔ جمعرات کے روز لوک سبھا کے سیشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ انتولے پاکستان کے اشاروں پر چل رہے ہیں اور اس طرح کا بیان دے کر انہوں نے پاکستان کو موقع دے دیا ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اننت کمار کا کہنا تھا کہ کرکرے کی موت جیسے حساس معاملے پر جس طرح سے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے انتولے کو اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہیے۔ گورکھپور سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمان آدتیہ ناتھ یوگی کا کہنا تھا کہ اتنولے کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی انتولے کے بیان پر صفائی دیں۔ بعض ممبر پارلیمان کا کہنا تھا کہ انتولے کا بیان ایک قومی شرم کا باعث ہے اور ہیمنت کرکرے کی موت کی از ثرنو تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہیمنت کرکرے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بنے تھے۔ انتولے نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے کہا کہ انہیں ہیمنت کرکرے کی موت پر شبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکرے دہشت گردی کا شکار ہوئے یا پھر دہشت گردی اور اس کے علاوہ کچھ اور، وہ نہیں جانتے لیکن ان کی موت کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ انتولے نے کہا تھا کہ کرکرے مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا تھا کہ یہ دھماکے غیرمسلموں نے کیے تھے۔ انتولے نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ کرکرے جیسا افسر تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل یا ناریمان ہاؤس جانے کے بجائے کاما ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا؟ انتولے نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ہی گاڑی میں تین اعلیٰ پولیس افسران کیوں گئے جبکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر انہیں وہاں جانے کی اجازت کس نے دی تھی؟
حزب اختلاف نے انتولے کے بیان کے فورا بعد ہی پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتولے نے ایک اعلیٰ افسر کی شہادت پر انگلی اٹھائی ہے اس لیے وہ معافی مانگیں لیکن انتولے اپنے بیان پر اڑے رہے۔ البتہ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ یہ بیان انتولے کا اپنا ذاتی بیان ہے اور کانگریس اس سے متفق نہیں ہے۔ ہمینت کرکرے کی موت کے فوری بعد سے ہی ریاست مہاراشٹر کی مسلم اور چند سیکولر تنظیموں نے شبہ کا اظہار کیا تھا۔ ایڈوکیٹ امین سولکر نے ممبئی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی ہے جس میں انہوں نے کرکرے کی موت پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ اپنی عرضی میں انہوں نے کہا ہے کہ ہیمنت کرکرے کو ان کی موت سے قبل جان سے مارنے کی دھمکی کا فون موصول ہوا تھا۔ شیوسینا نے بھی انتولے کے بیان پر سخت لہجے میں تنقید کی ہے۔ شیوسینا لیڈر سنجے راؤت کا کہنا تھا کہ انتولے نے ہیمنت کرکرے جیسے افسر کی موت پر نکتہ چینی کر کے ان کی شہادت کی بے عزتی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہیمنت کو پاکستانی مبینہ دہشت گرد اجمل قصاب نے مارا ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔ |
اسی بارے میں سابق فوجیوں نے تربیت دی: کمشنر02 December, 2008 | انڈیا پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا ’قابل عمل‘اطلاع نہیں ملی:بحریہ 03 December, 2008 | انڈیا گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا دستی بم ’پاکستانی‘ کمپنی کے ہیں11 December, 2008 | انڈیا پاکستان کو لاشیں دینے کے لیے انٹرپول17 December, 2008 | انڈیا بہتر سکیورٹی نظام، بل منظور ہوگیا17 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||