| | ناری من ہاؤس میں اکثریت یہودیوں کی ہے۔ |
ممبئی کے ناری من ہاؤس میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد این ایس جی کے کمانڈوز کے ساتھ فوٹو تو کئی لوگ کھنچوا رہے تھےلیکن یہ کمانڈوز جس کے ساتھ فوٹو کھنچوا رہے تھے وہ تھے حنیف شیخ۔ حنیف ناری من ہاؤس کے باہر ہی باسکن رابن کی دوکان پر آئس کریم بیچتے ہیں لیکن جب ناری من ہاؤس پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا تو اس کے بعد پولیس اور کمانڈوز کو چپے چپے کی خبر دینے اور ناری من ہاؤس تک لے جانے کا کام حنیف نے ہی کیا۔ اتوار کو لوگوں کے آئس کریم کے آرڈر لیتے ہوئے ہم سے بات کرتے ہوئے حنیف کہتے ہیں: ’ اصل میں یہیں کا رہنے والا ہوں۔ میرے کو سبھی بلڈنگز کے بارے میں پتہ ہے۔ اس لیے جب پولیس آئی تو لوگوں نے میرا نام ہی بتایا۔ ‘ ناری من ہاؤس ایک پتلی گلی میں تین چار عمارتوں کے درمیان واقع ہے۔ پہلے حنیف پولیس کو وہاں لے کر گئے اور اسکے بعد کمانڈوز کو بھی۔ حنیف بتاتے ہیں ’پولیس تو رات میں ہی یہاں تھی۔ بعد میں صبح کو کمانڈوز آئے۔ میں نے انہیں عمارت کا نقشہ بناکر دکھایا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے ساتھ لیکر گئے۔ ہم لوگ نیچے تھے اور شدت پسند تیسری اور چوتھی منزل پرتھے۔ ‘  | | | حنیف ناری من ہاؤس کی ہر بلڈنگ کو جانتے ہیں۔ | حنیف بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے بچے کو باہر نکالنے میں مدد کی اور آس پاس کی عمارتوں سے بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا کام کیا۔ لیکن کیا تباہ کن گولی باری سے حنیف کو ڈر نہیں لگا، وہ کہتے ہیں ’ڈر کیوں نہیں لگے گا۔ لیکن کمانڈوز نے مجھے بتایا تھا میں انکی ذمہ داری ہوں۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ دو کمانڈوز ہمیشہ انہیں گھیرے رہتے تھے۔ کمانڈوز کے کام کے بار ے میں حنیف بتاتے ہیں ’انہوں نے بہت زبردست کام کیا۔ شدت پسند لفٹ میں تھے اور الگ الگ منزلوں میں جاکر گولیاں چلا رہے تھے۔ کمانڈوز کو یہ پتا تھا اور انہوں نے لفٹ اڑا دی۔ ‘ ناری من ہاؤس جب خالی کرایا گیا تو کمانڈوز کی تصویریں ہر ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں لیکن حنیف کہیں نہیں دکھائی دیے، کیا حنیف کو اس بات کا افسوس ہے۔ حنیف کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو معلوم ہے میں نے کیا کام کیا میرے لیے یہ کافی ہے۔ |