مالیگاؤں دھماکہ اور ’ہندو دہشت گردی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالیگاؤں کے دھماکوں کے بعد ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں آجکل’ہندو دہشت گردی‘ کا ذکر زور شور سے ہورہا ہے۔ اور ان دھماکوں کی تفتیش کرنے والے ادارے کا دعوی ہے کہ اس سلسلے میں گرفتار شدہ ملزمان کی کڑیاں ناسک شہر تک جاتی ہیں۔ ناسک ہندوؤں کے ان پانچ مقدس مقامات میں سے ایک ہے جہاں ہر بارہ سال بعد کمبھ کا میلا منعقد کیا جاتا ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند جمع ہوتے ہیں۔ اور اس شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے رام گڑھ کا علاقہ جہاں حاضری دینے کی خواہش ہر عقیدت مند کے دل میں ہوتی ہے۔ میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے رام گڑھ پہنچا ہوں کہ ’ہندی دہشت گردی‘ کے بارے میں یہاں لوگ کیا سوچتے ہیں ۔ سادھو اور سادھوی رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس یہاں کے مندروں میں پوجا کرنے آرہے ہیں۔ کچھ لوگ دریائے وداوری کےمقدس پانی میں ڈبکی لگا رہے ہیں۔ لیکن پرامن چہروں پر اس وقت اضطراب دیکھا جاسکتا ہے جب ان سے ’ہندو دہشت گردی‘ پر سوال کیا جائے۔ کوئی جواب نہیں دیتا کیونکہ ان عقیدت مندوں کے مطابق ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں ایک شخص ایسا بھی ہے جو ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہے۔ لیکن اب ہندو گرفتار ہو رہے ہیں تو ہندوؤں او ر ہندو مذہب کو بدنام کرنے کے لیے ہندو دہشت گردی جیسی من گھڑت باتیں نکالی جا رہی ہیں۔
ہندو دہشت گردی کا استعمال یہاں میڈیا میں تقریباً روزانہ ہو رہا ہے اور شہر کی نچلی عدالت میں بھی، جہاں ان ملزمان کو پیش کیا جا رہا ہے جن پر مہاراشٹر کے مسلم اکثریت والے شہر مالیگاؤں میں بم دھماکہ کرنے کا الزام ہے۔ بھارت میں ایسا پہلی بار ہے کہ پولیس نے دس ہندوؤں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا ہو۔ شاید اس لیے یہ الفاظ لوگوں کو عجیب لگتے ہیں۔ عام ہندو تو یقین ہی نہیں کرتا کہ انکے درمیان بھی کچھ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو تشدد کے راستے کو اپنا سکتے ہیں۔ حالانکہ اگر آپ ایک عیسائی سے پوچھیں تو وہ کہے گا اڑیسہ اور کرناٹک میں عیسائیوں کے خلاف حملے دہشت کی مثالیں نہیں تو کیا ہیں۔ اگر مسلمان سے پوچھیں تو وہ سن دو ہزار دو میں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی مثال دے گا۔ اِن دونوں واقعات میں ہندو تشدد پسند افراد اور عناصر کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد ابھینو بھارت( نوجوان بھارت) نامی ایک غیر معروف تنظیم کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کا نصب العین ہے بھارت میں ہندوؤں کی حکمرانی۔ مہاراشٹر کی انسدادِ دہشت گردی کی پولیس کے مطابق ابھینو بھارت کے ارکان نے ناسک شہر کی بھونسالا ملٹری اکیڈمی میں ایک ملاقات کے بعد مالیگاؤں میں بم دھماکے کا منصوبہ بنایا تھا۔
لیکن اس اکیڈمی کے سیکریٹری دیواکر کلکرنی اس الزام کو رد کرتے ہیں۔ گرفتار شدہ دس افراد میں سے ایک کا بھارتی فوج سے تعلق ہے جبکہ تین ایسے ہیں جو کبھی بھارتی فوج میں تھے لیکن وہ بعد میں اکیڈمی سے واسبتہ ہو گئے تھے۔ لیفٹیننٹ کرنل پرساد سریکانت پروہت بھارتی فوج کی خفیہ برانچ میں کام کرتے تھے۔ اس اکیڈمی کے کرنل (ریٹائرڈ) رائیکار کرنل پروہت کے اچھے دوست تھے اور چھ ماہ پہلے ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق کرنل رائیکار کی وجہ سے ہی ابھینو بھارت کو اکیڈمی میں مجلس کرنے کی اجازت دی گئی۔ مسٹر کلکرنی کہتے ہیں کہ ’میٹنگ کی اجازت ضرور دی گئی تھی لیکن اس میں کیا باتیں زیر بحث آئیں اس کا ہمیں علم نہیں۔ کرنل رائیکر کو معلوم نہیں تھا کہ ابھینو بھارت کا نصب العین کیا ہے اور وہ اس میٹنگ میں یہ پوچھنے کے لیے گئے تھے کہ میٹنگ میں شامل لوگوں کو چائے پانی کی ضرورت ہے یا نہیں۔‘ پولیس نے اس اکیڈمی کے دو افراد سے بم دھماکے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی تھی جن میں سے ایک کرنل رائیکر تھے۔ اس کے وجہ یہ تھی کہ ان کے کمپیوٹر میں ابھینیو بھارت کے اغراض و مقاصد کو محفوظ کیا گیا تھا۔ مسٹر کلکرنی اس کا جواب یوں دیتے ہیں: ’ان دونوں افراد نے ابھینیو بھارت کے اغراض و مقاصد کو ڈاؤن لوڈ ضرور کیا تھا لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ان سے اتفاق بھی رکھتے تھے۔‘ بھونسالا ملٹری اکیڈمی انیس سو سینتیس میں قائم کی گئ تھی۔ یہاں ہندو مذہب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ یہاں کے تربیت یافتہ طالبِ علم بھارتی وزارتِ دفاع کے کالج نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں داخلہ حاصل کرنے میں عام طور پر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پولیس نے اس اکیڈمی کو اس کیس کے سلسلے میں اب تک کلین چٹ نہیں دی (لاتعلق قرار نہیں دیا)۔ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر دس گرفتار شدہ افراد میں سے ایک ہیں۔ ان کی دو بہنوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزام بالکل غلط ہے کہ وہ بم دھماکے میں شامل تھیں۔ ان کی گرفتاری نے ہندو سیاسی تنظیمو کو کافی ناراض کیا ہے۔ شو سینا کی ناسک شاخ کے صدر دتا گائکواڑ کہتے ہیں کہ یہ ہندوؤں کے خلاف ایک سازش ہے۔’اگلے سال کے عام انتخابات کے پیش نظر حکومت ہندوؤں کو دہشت گردی سے جوڑ کر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔‘ بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کا بھی الزام ہے کہ پولیس حکومت کے دباؤ میں گرفتاریاں کر رہی ہے۔ لیکن تفتیشی ٹیم کے سربراہ ہیمنت کڑکڑے نے اس الزام کو غلط بتایا۔ ’ہماری تیم کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا کام کر رہی ہے۔ اور ہم گرفتار شدہ افراد کے خلاف تمام ثبوت جلدی ہی عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔‘ ’ہندو دہشت گردی‘ کا وجود ایک حقیقت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن کچھ ہندو یہ کہنے لگے ہیں کہ اگر’ کوئی ہندو اپنے تحفظ کے لیے کوئی پرتشدد قدم اٹھاتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔‘ | اسی بارے میں ملزم سادھو سے تعلق نہیں: سہنا 17 November, 2008 | انڈیا ’کرنل سمجھوتہ دھماکہ میں ملوث‘15 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، آچاریہ کاریمانڈ13 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: کانپور سے ملزم گرفتار12 November, 2008 | انڈیا ہندو رہنما سےپوچھ گچھ کی درخواست10 November, 2008 | انڈیا کرنل پروہت، سی بی آئی کی تفتیش07 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں دھماکہ، فوجی کرنل گرفتار05 November, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: ملٹری سکول پر شک01 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||