ہندو رہنما سےپوچھ گچھ کی درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشتگردی عملہ ( اے ٹی ایس ) مالیگاؤں بم دھماکے کے سلسلہ میں اترپردیش کے ایک اعلیٰ سیاسی رہنما سے تفتیش کرنا چاہتا ہے جس کے لیے آج اے ٹی ایس کے وکیل اجے مسر نے ناسک عدالت میں اپیل داخل کر کے مذکورہ لیڈر سے تفتیش کی اجازت طلب کی ہے۔ اجے مسر نے بی بی سی کو بتایا کہ مالیگاؤں دھماکے میں گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران لیڈر کا نام سامنے آیا ہے لیکن وہ ابھی رہنما کا نام بتانے سے قاصر ہیں۔ اے ٹی ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لیڈر سخت گیر ہندو نظریات کے حامل ہیں اور سیاست میں ان کی اچھی پہنچ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کا نام سامنے آنے سے عدالت سے اجازت ملنے کے باوجود تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اے ٹی ایس نے اب تک جتنے بھی ملزمان کو گرفتار کیا ہے ان کا کسی نہ کسی طرح ہندو سخت گیر موقف والی تنظیموں سے رابطہ رہا ہے۔ سادھوی پرگیہ سمیر کلکرنی بی جے پی کی اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے سرگرم رکن تھے۔ رمیش اپادھیائے ابھینو بھارت کے رکن اور اجے ایکناتھ راہیرکر خزانچی ہیں۔ شروع میں گرفتاری کے بعد تمام ہندو تنظیموں نے خاموشی اختیار کی لیکن بعد میں سب ہی کھل کر سامنے آئے اور سبھی تنظیموں نے سادھوی پرگیہ اور دیگر گرفتار ملزمان کی حمایت میں بیانات دینے شروع کر دیے۔ آج ناسک عدالت میں مالیگاؤں دھماکے کے پانچ ملزمان سابق میجر رمیش اپادھیائے، ابھینو بھارت سخت گیر ہندو تنظیم ممبر سمیر کلکرنی ، اجے راہیرکر، جگدیش مہاترے اور راکیش دھاوڑے کو پیش کیا گیا۔عدالت نے سبھی ملزمان کو سترہ نومبر تک عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔ دریں اثناء اے ٹی ایس کی ٹیم لیفٹیننٹ کرنل سری کانت پروہت کے نارکو ٹیسٹ کے لیے انہیں بنگلور فارینسک لیباریٹری لے کر گئی ہے جہاں ان کے سترہ ٹیسٹ ہوں گے جن میں برین میپنگ، پولی گراف اور سائیکالوجی پروفائلنگ ٹیسٹ شامل ہیں۔ کرنل پروہت پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ناسک کے بھونسلا ملٹری سکول میں پچاس سے زیادہ افراد کو تربیت دی تھی۔فیگر ملزمان کو مبینہ طور پر بم بنانے کی بھی تربیت دی۔انہوں نے مبینہ طور پر اسلحہ بھی سپلائی کیا تھا ان پر فنڈ اکٹھا کرنے کا بھی الزام ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکے کے ملزمان سے تفتیش کے دوران اے ٹی ایس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں فنڈ کہاں سے مہیا کیا جاتا رہا ہے۔ اے ٹی ایس کے مطابق ملزمان کو حوالہ کے ذریعہ بھی دس لاکھ روپیہ دیے گئے تھے۔ ایک طرف اے ٹی ایس گرفتار ملزمان سے ناندیڑ اور دیگر بم دھماکوں کے سلسلہ میں بھی تفتیش کر رہی ہے وہیں سماجی رضاکار تیستا سیتلواد اب ناندیڑ بم دھماکے کے سلسلہ میں سی بی آئی کی تفتیشی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اے ٹی ایس نےناندیڑ بم دھماکے کے سلسلہ میں جو رپورٹ تیار کی تھی اسے سی بی آئی نے بہت نرم اور بہت کچھ ردوبدل کے ساتھ عدالت میں چارج شیٹ کے طور پر پیش کیا تھا جس کی وجہ سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوئی اور اگر سخت کارروائی اس وقت ہو جاتی تو شاید یہ دھماکے نہیں ہوتے۔ | اسی بارے میں مالیگاؤں دھماکہ، فوجی کرنل گرفتار05 November, 2008 | انڈیا فوجی کی گرفتاری پر تفتیش: اینٹونی07 November, 2008 | انڈیا کرنل پروہت، سی بی آئی کی تفتیش07 November, 2008 | انڈیا جے پور دھماکے: حرکت الجہاد پر شک 14 May, 2008 | انڈیا ’ہمیں بھی پوٹا لگا کر جیل میں بند کر دیں‘12 December, 2007 | انڈیا اکثریت نقل مکانی کرناچاہتی ہے 04 December, 2006 | انڈیا وہ ہيں کہاں؟28 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||