BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کی گرفتاری پر تفتیش: اینٹونی
مالیگاؤں دھماکہ
دھماکے میں عید کے لیے خریداری کرنے والے لوگ ہلاک ہوئے تھے
ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے مالیگاؤں بم دھماکے معاملے میں فوج کے ایک موجودہ لیفٹینٹ کرنل کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اے کے انٹونی نے کہا کہ لیفٹنٹ کرنل سری کانت پروہت کی مالیگاؤں بم دھماکے کے سلسلے میں گرفتاری پر فوج میں تشویش ہے اور فوج اے ٹی ایس اور آئی بی کے ساتھ پورا تعاون کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی فوج کے ذریعے ابھی تک کوئی تفتیش نہیں کی جا رہی ہے حالانکہ گرفتاری پر فوج میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے۔ اینٹونی کا کہنا تھا کہ اگر تفتیش میں لیفٹینٹ کرنل سری کانت پروہت کو قصوروار پایا جاتا ہے تو فوج اس کی مناسبت سے پختہ قدم اٹھائے گی۔

مہاراشٹر انسداد دہشت گردی عملے (اے ٹی ایس) نے بدھ کو مالیگاؤن بم دھماکے کے مقدمے میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل سری کانت پروہت کو گرفتار کیا تھا۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے اس گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ کرنل پروہت کو بدھ کی شام ناسک عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اے ٹی ایس نے مالیگاؤں بم دھماکے کے سلسلہ میں اس سے پہلے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور فوج کے ایک سابق میجر رمیش اپادھیائے کو گرفتار کیا تھا اور انہیں سے تفتیش کے دوران کرنل پروہت کا نام سامنے آیا تھا۔ فوج سے اجازت طلب کرنے کے بعد سے گزشتہ کئی دنوں سے ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق کرنل پر مبینہ طور پر فوجی اسلحہ اور ڈپو سے آر ڈی ایکس فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزمان کا ملک میں ہونیوالے دیگر بم دھماکوں میں تو کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکے کے ذریعہ ملک میں ’ہندتوا‘ کے شدت پسند چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔

دو سال قبل ناندیڑ میں آر ایس ایس کے ممبر کونڈوار کے گھر میں بم بناتے ہوئے دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد زخمی افراد کے نارکو ٹیسٹ میں یہ راز افشاں ہوا تھا کہ پربھنی پورنا اور جالنہ کی مساجد میں انہیں لوگوں نے دھماکے کیے تھے۔ اس واقعے کی تفتیش کی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد