BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2008, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں: ملٹری سکول پر شک

بھونسلا ملٹری سکول
بھونسلا ملٹری سکول
انسداد دہشت گردی کے عملے نے ناسک میں واقع بھونسلا ملٹری سکول کے رجسٹرار اور منتظم سابق ملٹری کمانڈنٹ سیلیش رائیکر اور پی ٹی انسٹرکٹر راجن گیدھانی کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے۔

ریاست مہاراشٹر میں انسداد دہشت گردی یا انٹی ٹیرورِزم سکواڈ (اے ٹی ایس) کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکے کی سازش مبینہ طور پر اسی ملٹری سکول میں رچی گئی تھی۔

اے ٹی ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق میجر رمیش اپادھیائے، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سمیر کلکرنی سمیت تقریبا سات افراد نے بھونسلا ملٹری سکول میں میٹنگ کی تھی۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ اسی لیے سکول کے رجسٹرار رائیکر اور گیدھانی سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب سکول انتظامیہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ’ابھینو بھارت‘ نامی تنظیم نے ان سے ایک کمرہ میٹنگ کرنے کے لیے کرائے پر لیا تھا لیکن اس کے بعد اس میٹنگ میں کیا ہوا اس کا سکول سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور میجر اپادھیائے ابھینو بھارت نامی تنظیم کے رکن ہیں جن کی صدر ہیمانی ساورکر ہیں جنہوں نے سادھوی اور میجر کی گرفتاری پر کہا تھا کہ ’وہ دونوں سچے ہندو ہیں جو کسی بھی طرح کی ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔‘

اے ٹی ایس کے مطابق مذکورہ تنظیم بھی بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کی طرز پر سخت گیر ہندو موقف پر عمل پیرا ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد مدھیہ پردیش میں سخت گیر ہندوؤں نے رکھی تھی۔

اے ٹی ایس نے اب تک فوج کے جتنے بھی افسران سے تفتیش کی ہے، سب فوج کی انٹیلیجنس کا حصہ رہے ہیں۔ سابق میجر اپادھیائے جو اس وقت پولیس حراست میں ہیں فوج کی انٹیلییجنس میں کام کر چکے ہیں۔

فوج کے موجودہ کرنل جن سے اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے وہ بھی ملٹری انٹیلیجنس کا حصہ رہ چکے ہیں۔ بھونسلا ملٹری سکول کے منتظم اور رجسٹرار وائیکر بھی ملٹری انٹیلیجنس کا حصہ تھے۔

اے ٹی ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیگاؤں دھماکے ایک بہت بڑی سازش کا حصہ ہیں اور اس کی پرتیں کھلنے میں وقت لگے گا۔

اے ٹی ایس کی تفتیش میں ناسک کے جس ملٹری سکول کا نام ابھر کا سامنے آیا ہے اس کا پورا نام سینٹرل ہندو ملٹری ایجوکیشن سوسائٹی ہے جس کی بنیاد آزادی سے قبل انیس سو سینتیس میں بی ایس مونجی نے رکھی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد