دھماکے: سابق فوجیوں سے تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی انسداد دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) مالیگاؤں اور سورت بم دھماکوں کے سلسلہ میں دو سابق فوجی افسران سے تفتیش کر رہا ہے۔ان میں ایک میجر جنرل ہیں اور دوسرے فوجی جوان ہیں دونوں پونے کے رہنے والے ہیں۔ اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے نے اس معاملہ میں کسی بھی طرح کی تصدیق کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ انہیں آج ناسک کے ہالی ڈے کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ مالیگاؤں اور سورت کے شہر موڈاسا بم دھماکوں میں آر ڈی ایکس کا استعمال کیا گیا تھا اس لیے اے ٹی ایس شروع سے اس بات کی تفتیش کر رہی تھی کہ ہندتوا وادی تنظیم ہندو جن جاگرن منچ کو بم بنانے کے لیے کس نے آر ڈی ایکس فراہم کیا اور بم بنانے کی تربیت کس نے دی؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کے ان دو سابق افسران کو اے ٹی ایس نے پونے سے حراست میں لیا تھا اور ان سے گزشتہ کئی دنوں سے تفتیش کی جا رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فوجی جنرل گرفتار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی شعلہ بیان تقریر سے بہت متاثر ہوئے تھے۔سادھوی نے اڑیسہ میں سوامی لکشمانند کے قتل پر تقریر کی تھی۔اے ٹی ایس نے شعلہ بیان سادھوی کی مذہبی تقاریر کی کئی کسیٹس جمع کی ہیں۔ اے ٹی ایس نے چوبیس اکتوبر کو ہندو جن جاگرن منچ کے تین اراکین کو بم دھماکوں کے سلسلہ میں گرفتار کیا تھا۔سادھوی وشو ہندو پریشد کی خواتین ونگ درگا واہنی کی رکن بھی ہیں۔
سادھوی پرگیہ پولیس کی کڑی نگرانی میں تھی اور ان کے موبائیل فون بھی ٹیپ کیئے جا رہے تھے۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ سادھوی نے اپنے گرفتار ساتھی کے ساتھ چار سو منٹ تک موبائیل پر گفتگو کی تھی اور پولیس نے اس گفتگو سے بہت سے ثبوت اکٹھا کیے۔ انہیں اس سے بم دھماکہ کی مبینہ سازش کا بھی پتہ چلا ہے۔ اے ٹی ایس کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے شام لال ساہو کامرس گریجویٹ ہیں جن کی اپنی موبائیل کی دکان ہے جبکہ دیگر ملزم شیو نارائن سنگھ بی ایس سی گریجویٹ ہیں۔اے ٹی ایس کو شبہ ہے کہ ان دونوں نے مبینہ طور پر بم بنائے ہوں گے۔اے ٹی ایس کے مطابق مالیگاؤں میں بم بنانے سے قبل ملزمین نے ایک سے زیادہ مرتبہ مالیگاؤں کا دورہ بھی کیا تھا۔ اے ٹی ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔اے ٹی ایس کی ٹیم مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں موجود ہے۔اب تک جتنی گرفتاریاں ہوئی ہں وہ سب اندور شہر کے رہنے والے ہیں۔ اس دوران سادھوی کی گرفتاری کے بعد سے ملک بھر کی سخت گیر ہندو تنظیموں نے اعتراض کرنا شروع کر دیا ہے۔وہ اسے سیاسی مفاد سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ریاست مہاراشٹر میں حزب اختلاف سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر نتن گڈکری کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ہندو تنظیم کسی بھی طرح کے بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہے۔جبکہ ایسے سیکڑوں معاملات ہیں جن میں مسلم شدت پسند ملوث ہیں۔ دوسری جانب اوما بھارتی نے بھی سادھوی کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پرگیہ محض ایک سادھوی ہیں ان کا کسی بھی دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ | اسی بارے میں مالیگاؤں دھماکہ، تین گرفتار24 October, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا گجرات، مہارشٹر میں دو دھماکے29 September, 2008 | انڈیا کشمیریوں کو بری کرنے کا حکم08 September, 2008 | انڈیا کولکتہ میں بم دھماکہ چار ہلاک03 August, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا جےپور:مشتبہ شخص کا خاکہ جاری15 May, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||