BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں دھماکہ، تین گرفتار

مالیگاؤں(فائل فوٹو)
انتیس ستمبر کو عید سے دو روز قبل مالیگاؤں میں دھماکہ ہوا تھا
مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں انتیس ستمبر کو ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے ہندو جاگرن منچ نامی تنظیم کے تین اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔انہیں لے کر مہاراشٹر انسداد دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) ناسک پہنچا ہے جہاں انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

عدالت نے انہیں تین نومبر تک پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے اس وقت ناسک میں ہیں انہوں نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ہندو جاگرن منچ کے تین اراکین کے ساتھ اس وقت ناسک عدالت جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پولیس کے پاس مالیگاؤں اور موڈاسا دھماکوں میں ہندو جاگرن منچ کے ہونے کے پختہ ثبوت موجود ہیں۔

انتیس ستمبر کو عید سے دو روز قبل مالیگاؤں کے بھکو چوک اور گجرات کے موڈاسا علاقے میں چند منٹ کے وقفہ سے دو بم دھماکے ہوئے تھے۔مالیگاؤں دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور پچھتر سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ موڈاسا میں ایک نوجوان ہلاک اور دس زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے جس ہندو سخت گیر تنظیم کے تین اراکین کو گرفتار کیا ہے ان میں ایک عورت بھی شامل ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار شدہ خاتون کا نام پرگیہ سنگھ ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ وشوہندو پریشد کی خواتین ونگ درگا واہنی کی ممبر ہے اور اس سے قبل وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی ممبر تھی۔اس کے بعد وہ سادھوی بن گئی ہے۔

پولیس نے ان ملزمین کو ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے گرفتار کیا ہے جبکہ سادھوی کو گجرات کے شہر سورت سے گرفتار کیا ہے۔ تنظیم کا دفتر مدھیہ پردیش کے اندور میں ہے۔

خاتون بھی ملوث
 گرفتار شدہ خاتون کا نام پرگیہ سنگھ ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ وشوہندو پریشد کی خواتین ونگ درگا واہنی کی ممبر ہے اور اس سے قبل وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی ممبر تھی۔اس کے بعد وہ سادھوی بن گئی ہے
پولیس

مالیگاؤں بم دھماکوں کے لیے پولیس کی مدد اس موٹر سائیکل نے کی جس پر بم نصب کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق وہ موٹر سائیکل پرگیہ کی تھی جس نے پولیس تفتیش میں یہ کہہ دیا تھا کہ اسے اس نے کسی کو دو سال پہلے فروخت کر دیا تھا۔

موٹر سائیکل میں بم نصب کرنے سے پہلے پرگیہ نے نمبر پلیٹ اور دیگر ثبوت مٹانے کی کوشش کی تھی لیکن فارینسک لیباریٹری نے پولیس کی اس میں مدد کی۔

ہندو سخت گیر تنظیم کا نام بم دھماکوں میں پہلی مرتبہ نہیں آیا ہے۔گزشتہ کئی برسوں سے ان پر بم سازی اور بم دھماکے کرنے کے الزامات عائد ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل چھ اپریل سن دو ہزار چھ میں ناندیڑ میں آر آر ایس کیڈر کے ایک شخص راج کونڈوار کے گھر زبردست بم دھماکہ ہوا تھا۔جس میں راج کے بیٹے لکشمن سمیت بجرنگ دل کے تین اراکین کی موت ہو گئی تھی۔یہ سب گھر میں بم سازی کر رہے تھے۔

آگے کی سوچ
 اگر دیانتداری کے ساتھ سن دو ہزار چھ کے دھماکوں کی تفتیش کی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آسکتی ہے کہ ان دھماکوں میں بھی ہندو سخت گیر تنظیموں کا ہی ہاتھ ہو
مالیگاؤں کل جماعتی تنظیم کے ترجمان، مولانا عبدالحمید ازہری

ان دھماکوں کے سلسلہ میں گرفتار ملزمین کے نارکو ٹیسٹ میں انہو ں نے قبول کیا تھا کہ انہوں نے پربھنی ، جالنہ اور پورنا کی مساجد میں بم دھماکے کیے تھے۔انہوں نے نارکو ٹیسٹ میں یہ بھی قبول کیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے یہ دھماکے کیے تھے۔

مالیگاؤں کی کل جماعتی تنظیم کے ترجمان مولانا عبدالحمید ازہری نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اے ٹی ایس نے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے صحیح تفتیش کی۔

انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں کے عوام شروع سے کہتے آئے ہیں کہ یہاں دھماکے ہندو تنظیموں نے کرائے ہیں اس کے لیے انہوں نے پولیس اور حکومت کو ثبوت بھی دیے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر دیانتداری کے ساتھ سن دو ہزار چھ کے دھماکوں کی تفتیش کی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آسکتی ہے کہ ان دھماکوں میں بھی ہندو سخت گیر تنظیموں کا ہی ہاتھ ہو۔ سن دو ہزار چھ میں مالیگاؤں کے بڑا قبرستان اور دیگر چار مقامات پر شب برات کو دھماکےہوئے تھے جس میں اسی سے زائد افراد ہلاک اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

مالیگاؤں بم دھماکوں میں ہندو تنظیم کے ملوث ہونے پر راجیہ سبھا میں بھی ہنگامہ ہوا جہاں سی پی آئی ایم کی ممبر برندا کرات نے بتایا کہ مالیگاؤں بم دھماکوں میں ہندو سخت گیر تنظیم ملوث ہے اور انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے جلد ہی نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے اور ایک خاص فرقہ کو بدنام کرنے لگ جاتے ہیں۔جس کے بعد بی جے پی ممبران نے ہنگامہ شروع کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد