مالیگاؤں دھماکہ، کرنل سے تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مالیگاؤں بم دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں ممبئی انسداد دہشت گرد کا عملہ ممبئی کے ایک ہوٹل میں ایک فوجی لیفٹینٹ کرنل سے تفتیش کر رہے ہیں۔ کرنل کے ساتھ ملٹری کے دو جوان بھی ہیں۔ ممبئی اے ٹی ایس کے اعلی افسران اس معاملہ میں بالکل خاموش ہیں لیکن باوثوق ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فوج نے کرنل کو تفتیش کے لیے اے ٹی ایس کے حوالے کرنے سے پہلے چند شرائط عائد کی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ کرنل کے ساتھ اے ٹی ایس دفتر یا فوج کے ہیڈکوارٹر کے بجائے کسی تیسری جگہ تفتیش کی جائے۔ کرنل کو پنچ مڑھی سے آج صبح ممبئی لایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنل کی پہچان مالیگاؤں بم دھماکے میں گرفتار سابق میجر رمیش اپادھیائے سے تھی۔ موجودہ کرنل کی انیس سو چورانوے میں ناسک میں تقرری ہوئی تھی اور شاید اسی دوران دونوں کا پہلی مرتبہ تعارف ہوا تھا۔ اے ٹی ایس کے مطابق مالیگاؤں بم دھماکے میں بم میں آر ڈی ایکس کا استعمال ہوا تھا اور پولیس کو شبہ ہے کہ آر ڈی ایکس کسی فوجی کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا۔
اے ٹی ایس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس سابق میجر کے ساتھ ہی فوج کے موجودہ کرنل سے بھی اسی سلسلہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ اے ٹی ایس کرنل کو حراست میں لیے جانے کے معاملہ میں بہت ہی خاموشی کے ساتھ کام لے رہی ہے۔ البتہ فوج کے ہیڈکوارٹر نے جمعرات کے روز ایک پریس اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ فوج تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہتی ہے حالانکہ اے ٹی ایس نے ان سے کرنل سے تفتیش کے لیے باضابطہ مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اپادھیائے کو اے ٹی ایس نے دو روز قبل گرفتار کیا تھا۔اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ سادھوی اور اپادھیائے کے درمیان کافی عرصہ سے اچھے تعلقات تھے۔ اے ٹی ایس کا دعوی ہے کہ انہیں اس متعلق ثبوت سادھوی کے فون سے ملے جنہیں پولیس نے ایک عرصہ پہلے ٹیپ کرنا شروع کر دیا تھا۔ پولیس کے پاس چار سو منٹ گفتگو کے ٹیپ موجود ہیں۔ دریں اثناء آج گجرات پولیس ٹیم سادھوی سے موڈاسا دھماکے کی تفتیش کے سلسلہ میں ممبئی پہنچ گئی ہے۔ سادھوی اور ان کے ساتھیوں پر مالیگاؤں کے علاوہ موڈاسا بم دھماکے کا بھی الزام ہے۔ یہ دونوں دھماکے ایک ہی دن چند منٹ کے وقفے سے ہوئے تھے۔ ممبئی میں آج سادھوی کو سانتاکروز میں واقع لیباریٹری میں لایا گیا ہے جہاں ان کا برین میپنگ اور نارکو انالیسئیس ٹیسٹ ہوگا۔ عدالت نے مالیگاؤں دھماکے میں گرفتار تمام ملزمین کے نارکو ٹیسٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ سادھوی اور ان کے ساتھی ہندو سخت گیر تنظیم کے اراکین ہیں اور پہلی مرتبہ بم دھماکے میں کسی ہندو تنظیم کے ملوث ہونے کے انکشافات ہوئے ہیں۔ ملک میں ہندو سخت گیر موقف والی تنظیمیں اس سے پریشان ہیں اور وہ اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ کوئی بھی ہندو تنظیم اس طرح کے دھماکوں میں ملوث ہو ہی نہیں سکتی ہے۔ | اسی بارے میں دھماکے: سابق فوجیوں سے تفتیش26 October, 2008 | انڈیا مالیگاؤں: سابق میجر کا ریمانڈ29 October, 2008 | انڈیا دھماکے: پندرہ مسلم نوجوان گرفتار 07 October, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||