سی بی آئی سے تفتیش کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر کے بعض مسلم اور غیر مسلم رہنماؤں نے دلی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت کئی اعلی لیڈروں سے ملاقات کر کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے مالیگاؤں دھماکوں کی جانچ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مالیگاؤں میں اس برس ستمبر میں چار بم دھماکوں میں کم از کم تینتالیس افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ مذہبی رہنماؤں کے گروپ کے ترجمان شمس الہدی شیخ دوہا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ ، یو پی اے کی صدر سونیا گاندھي اور کئی اعلی سیاستدانوں سے ملاقات کی ہے اور مالیگاؤں میں ستمبر کے مہینے میں ہونے والے بم دھماکوں کی سی بی آئی سے تفتیش کروانے کی مانگ کی ہے۔ مسٹر دوہا کا کہنا تھا کہ وہ ممبئی پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں۔ ’مسجد میں ہونے والے ان دھماکوں کے لیے مسلمانوں کو ہی "قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔‘ مسٹر دوہا نے یہ بھی کہا کہ اگر تین ہفتوں کے اندر اندر دھماکوں کی تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو نہیں سونپی گئی تو وہ پوری ریاست میں احتجاج کریں گے۔ وفد میں شامل ایک اور رہنما مولانا حامد اظہری نے بتایا کہ مالیگاؤں معاملے میں ابھی تک شفاف کارروائی نہیں ہوئی ہے اور اس معاملے میں جو بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں وہ سب مسلمانوں کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت نے اگر ان کی بات نہیں مانی تو وہ عدالت جائیں گے۔‘ اس برس ستمبر میں مالیگاؤں کے بڑے قبرستان کی حمیدیہ مسجد میں نماز جمعہ کے فوراً بعد دو دھماکے ہوئےتھے جبکہ تیسرا دھماکہ قبرستان کے مین گیٹ پر اور چوتھا قبرستان کے عقب میں مشاورت چوک پر ہوا تھا۔ اس وقت لوگ نماز پڑھ کر مسجد سےباہر آ رہے تھے جبکہ کچھ لوگ ابھی دعا کے لیے اندر ہی موجود تھے۔ |
اسی بارے میں مالیگاؤں دھماکے: چشمدیدوں کی نظر سے09 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: مطلوب افراد کے خاکے10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے، ایک شخص گرفتار30 October, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے: احتجاج کا فیصلہ09 November, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: دھماکوں کے پیچھے کون؟11 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں میں حالات بدستور کشیدہ10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:43 ہلاک، سو زخمی09 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||