مالیگاؤں میں کشیدگی، ہلاکتیں چار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے صنعتی شہر مالیگاؤں میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے بعد حالات تاحال کشیدہ ہیں اور شہر میں پولیس کی تین کمپنیاں اور سریع الحرکت فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ممبئی سے انسداد دہشت گردی فورس کا عملہ بھی مالیگاؤں پہنچ گیا ہے۔ اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کے مطابق تفتیش جاری ہے اور ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مالیگاؤں کے دھماکے میں کس کا ہاتھ ہے۔ دریں اثناء ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی ہے لیکن غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو افراد پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ناسک پولیس سپرنٹنڈنٹ نکھل گپتا کے مطابق شہر میں ماحول کشیدہ لیکن قابو میں ہے۔گپتا نے پولیس کی گولی سے کسی بھی شخص کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ ان کے مطابق پولیس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ڈی ایس پی ویریش پربھو سمیت سات پولیس اہلکار اور گیارہ ہوم گارڈز زخمی ہوئے ہیں جنہیں شہر کے سٹی کیئر ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ مالیگاؤں میں واقع نجی فاران ہسپتال کے ڈاکٹر اور سرجن سعید فارانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے ہسپتال میں اس وقت باسٹھ زخمی ہیں، جن میں پولیس کی گولی کے شکار تین زخمی بھی شامل ہیں۔ ان زخمیوں میں سے ایک کا آپریشن کیا جا چکا ہے جبکہ ایک زخمی کو نازک حالت کی وجہ سے ناسک کے سول ہسپتال بھیجا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مالیگاؤں میں پیر کی شب ساڑھے نو بجے کے قریب بھیکو چوک اور نورانی مسجد کے قریب ایک موٹر سائیکل پر رکھا بم پھٹا تھا۔ مسلم اکثریتی آبادی والے اس علاقے میں لوگ تراویح کے بعد خریداری کر رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔ دھماکے کے مقام کے قریب واقع پولیس چوکی پر موجود اہلکاروں کی مبینہ سستی کی وجہ سے لوگوں کی پولیس اہلکاروں سے بحث ہو گئی اور پھر لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے عوام پر فائرنگ کی جس سے تین افراد زخمی ہوگئے تاہم پولیس اس سے انکار کر رہی ہے۔ مالیگاؤں کے علاوہ گجرات میں سابر کانٹھا کے موڈاسا مسلم اکثریتی علاقے میں بھی گزشتہ شب افطاری کے بعد بم پھٹا تھا جس میں دو نوجوان ہلاک ہوگئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد پندرہ بتائی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز جن دو مقامات پر بم دھماکے ہوئے وہ دونوں مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے ہیں اور دونوں ہی کافی حساس مانے جاتے ہیں۔ مالیگاؤں میں دو برس قبل آٹھ ستمبر کو چار بم دھماکےہوئے تھے جن میں سینتیس افراد ہلاک اور ایک سو پچیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔گجرات کے شہر احمد آباد میں حال ہی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہو چکے ہیں اور مزید کئی مقامات سے بم برآمد بھی کیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا دلی دھماکہ ایک زخمی چل بسا28 September, 2008 | انڈیا آسام : سات ’شدت پسند‘ ہلاک26 September, 2008 | انڈیا ’اگر قصوروار ہے تو پھانسی دے دو‘17 September, 2008 | انڈیا سلامتی کے خدشات اور اس پر سیاست16 September, 2008 | انڈیا دلی بم دھماکے، ہیکنگ کا پتہ نہیں 15 September, 2008 | انڈیا دھمکی بھرا ای میل ممبئی سے:پولیس13 September, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||