BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 September, 2008, 09:59 GMT 14:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالیگاؤں میں کشیدگی، ہلاکتیں چار

فائل فوٹو
دھماکے کے بعد متاثرین کے اہل خانہ بے بسی کی حالت میں
مہاراشٹر کے صنعتی شہر مالیگاؤں میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے بعد حالات تاحال کشیدہ ہیں اور شہر میں پولیس کی تین کمپنیاں اور سریع الحرکت فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

ممبئی سے انسداد دہشت گردی فورس کا عملہ بھی مالیگاؤں پہنچ گیا ہے۔ اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کے مطابق تفتیش جاری ہے اور ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مالیگاؤں کے دھماکے میں کس کا ہاتھ ہے۔

دریں اثناء ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ کر چار ہوگئی ہے لیکن غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو افراد پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ناسک پولیس سپرنٹنڈنٹ نکھل گپتا کے مطابق شہر میں ماحول کشیدہ لیکن قابو میں ہے۔گپتا نے پولیس کی گولی سے کسی بھی شخص کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

ان کے مطابق پولیس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ڈی ایس پی ویریش پربھو سمیت سات پولیس اہلکار اور گیارہ ہوم گارڈز زخمی ہوئے ہیں جنہیں شہر کے سٹی کیئر ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

مالیگاؤں میں واقع نجی فاران ہسپتال کے ڈاکٹر اور سرجن سعید فارانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے ہسپتال میں اس وقت باسٹھ زخمی ہیں، جن میں پولیس کی گولی کے شکار تین زخمی بھی شامل ہیں۔ ان زخمیوں میں سے ایک کا آپریشن کیا جا چکا ہے جبکہ ایک زخمی کو نازک حالت کی وجہ سے ناسک کے سول ہسپتال بھیجا گیا ہے۔

ملیگاؤں میں اس سے قبل نماز کے وقت مسجد کے احاطے میں دھماکے ہوئے تھے

یاد رہے کہ مالیگاؤں میں پیر کی شب ساڑھے نو بجے کے قریب بھیکو چوک اور نورانی مسجد کے قریب ایک موٹر سائیکل پر رکھا بم پھٹا تھا۔ مسلم اکثریتی آبادی والے اس علاقے میں لوگ تراویح کے بعد خریداری کر رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔

دھماکے کے مقام کے قریب واقع پولیس چوکی پر موجود اہلکاروں کی مبینہ سستی کی وجہ سے لوگوں کی پولیس اہلکاروں سے بحث ہو گئی اور پھر لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے عوام پر فائرنگ کی جس سے تین افراد زخمی ہوگئے تاہم پولیس اس سے انکار کر رہی ہے۔

مالیگاؤں کے علاوہ گجرات میں سابر کانٹھا کے موڈاسا مسلم اکثریتی علاقے میں بھی گزشتہ شب افطاری کے بعد بم پھٹا تھا جس میں دو نوجوان ہلاک ہوگئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد پندرہ بتائی جا رہی ہے۔

گزشتہ روز جن دو مقامات پر بم دھماکے ہوئے وہ دونوں مسلم اکثریتی آبادی والے علاقے ہیں اور دونوں ہی کافی حساس مانے جاتے ہیں۔ مالیگاؤں میں دو برس قبل آٹھ ستمبر کو چار بم دھماکےہوئے تھے جن میں سینتیس افراد ہلاک اور ایک سو پچیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔گجرات کے شہر احمد آباد میں حال ہی میں سلسلہ وار بم دھماکے ہو چکے ہیں اور مزید کئی مقامات سے بم برآمد بھی کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد