دلی دھماکہ ایک زخمی چل بسا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی میں سنیچر کو مہرولی میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہوگئی ہے۔ سنیچر کو ایک بچے کی ہلاکت کے بعد ہسپتال میں ایک بزرگ شخص نے دم توڑ دیا ہے۔ سنیچر کی دوپہر تقریباً سوا دو بجے ہوئے اس دھماکے ميں ایک بچے کی اس وقت موت ہو گئی تھی جب اس نے وہ پیکٹ اٹھا لیا تھا جسے موٹر سائکل پر سوار دو نوجوانوں نے پھینکا تھا۔ اس دھماکے میں اٹھارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو دلی کے ایمز کے ٹراما سینٹر میں داخل کروایا گیا تھا۔ امیز کے سپریٹنڈنٹ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ زخمیوں ميں سے ایک شخص کی سنیچر کی رات موت ہو گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس شخص کی عمر ساٹھ برس تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔ سنیچر کو پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مہرولی کے مصروف علاقے میں ایک موٹر سائیکل پر دو افراد سوار ہو کر آئے تھے اور انہوں نے ایک پلاسٹک میں بندھی ہوئی چیز پھینکی۔ سنتوش نامی بچے نے وہ پلاسٹک اٹھایا اور دھماکہ ہو گیا جس کے سبب وہ بچہ ہلاک ہو گیا۔ بھگت کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی عمر بارہ سے پندرہ برس کے درمیان تھی۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے اس کے آس پاس دکانیں ہیں اور کافی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے۔ داخلہ سکریٹری مدھوکر گپتا نے صحافیوں سے کہا کہ دھماکے کی تفتیش جاری ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مادہ ایک ٹفن میں رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے سبب آٹھ سے دس دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد دلی میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ جنوبی دلی کے اسی علاقے میں خاندان غلاماں کے دور کی مشہور عمارت قطب مینار واقع ہے۔ اس سے قبل تیرہ ستمبر کو دلی کے چار مقامات کناٹ پلیس میں گوپال داس بلڈنگ، پالیکا بازار کے سینٹرل پارک، کرول باغ کی غفار مارکیٹ اور گریٹر کلاش کے ایم بلاک کی مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہوئے تھے جن میں اکیس افراد ہلاک اور نوے سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں دھمکی بھرا ای میل ممبئی سے:پولیس13 September, 2008 | انڈیا نئی دلّی دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا13 September, 2008 | انڈیا دلّی میں پانچ دھماکے، 20 ہلاک، 80 سےزائد زخمی13 September, 2008 | انڈیا دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||