BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلامتی کے خدشات اور اس پر سیاست

فائل فوٹو
تمام کوششوں کے باوجود بھارت میں سکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے

ممبئی، جے پور، بنگلور اور احمد آباد کے بعد ایک بار پھر دلی میں بم دھماکے ہوئے ہیں۔ ان بم دھماکوں میں بیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دھماکوں کے فورا بعد دلی اور کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا۔ کابینہ کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قصور واروں کو پکڑا جائےگااور انہیں ان کے جرم کی سزا دی جائےگی۔ ہمیشہ کی طرح وزیر اعظم کی طرف سے بھی ایک بیان جاری ہوا جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بر قرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ معمول کے مطابق ہر بار کی طرح ان دھماکوں میں بھی کسی مسلم تنظیم یا گروپ کا ملوث ہونا فرض کر لیا گیا۔ اخبارات میں پولیس کی طرف سے اشتہارات شائع کیے گئے جن میں مشتبہ افراد اور اشیاء پر نظر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔

ہندوستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جو دہشت گردی کا شدت سے شکار ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں ہزاروں بے قصور اور عام لوگ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کے سوال پر ہندوستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں رہا ہے اور نا ہی کوئی واضح پالیسی۔

پولیس بہت ہے لیکن موجودگی موثر نہیں

سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ دھماکے کون کر رہا ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے ابھی تک ان بہیمانہ واقعات کے اصل مجرموں تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لیکن متواتر بم دھماکوں نے سلامتی کے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے یوں تو کئی قوانین موجود ہیں لیکن اب حکومت ایک وفاقی تفتیشی ادارے کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے ان کی رائے بھی مانگی ہے لیکن صوبوں کی جانب سے ابھی کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کئی صوبوں نے اختیارات کھو جانے کے خد شے سے وفاقی ادارے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔

حکمراں جماعت اور حزب اختلاف گزشتہ پانچ بر س سے اس سوال پر متصادم ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سابقہ پوٹا قانون رکھا جائے یا نہیں۔

ہندوستان کے پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ دہشت گردی صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی اسباب ہوسکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سکیورٹی کے حلقوں میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سے ہندوستان سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے سبب بعض بین الاقوامی یا مقامی مسلم شدت پسند تنظیمیں ہندوستان کو نشانہ بنا رہی ہوں۔

حکومت کے مطابق شدت پسند پولیس کو چقمہ دینے میں کامیاب ہوگئے

دانشوروں ، سیاسی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ ہندوستانی نظام میں اقلیتیں اور بالخصوص مسلمان سرکاری تفریق کے سبب خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ ممبئی اور گجرات جیسے فسادات میں ایک شخص کو بھی سزا نہ دیے جانے سے انصاف نہ ملنے کے ان کے احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اڑیسہ، مدھیہ پردیش، اور کرناٹک میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں ، تعلیمی اداروں اور ان کے گھروں پر کئی روز تک منظم حملے اور حملہ آوروں کے خلاف کوئی موثر کارروائی نا ہونا بھی تفریق کے احساس کو مزید شدید کرتا ہے۔ اس طرح کے حالات میں کسی مسلم شدت پسند گروپ کا فعال ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

اس کے برعکس مسلمانوں کا ایک حلقہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ان دھماکوں میں کسی مسلم تنظیم کا ہاتھ ہے۔ اس حلقے کا خیال ہے کہ دھماکے انہیں بدنام اور ہراساں کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ بہت سے مسلمانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ دھماکے ہندو شدت پسند تنظیمیں کر رہی ہیں۔

 دہشت گردی اور بم دھماکے ہندوستان کی پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ خود ان کی اپنی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ حکومت، پولیس اور عوام بالخصوص مسلم، سبھی بے چینی کے ساتھ یہی چاہ رہے ہیں کہ ان دھماکوں کے مرتکبین واضح طور پر گرفت میں آئیں اور یہ سلسلہ بند ہو۔

اگر ماضی کے بم دھماکوں کا ریکارڈ دیکھیں تو پہلے ان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی شدپ پسند تنظیموں کا نام آتا تھا۔ گزشتہ دو تین برس میں ایک نئی تنظیم حرکت الجہادالاسلامی سامنے آئی۔ گزشتہ جولائی میں احمد آباد دھماکوں کے بعد پولیس نے کئی بم دھماکوں کو حل کر لینے کا دعوی کیا اور بتایا کہ ان واقعات میں دراصل سخت گیر اسلامی طلباء کی تنظیم سیمی کا ہاتھ ہے۔ اس انکشاف کے ساتھ ہی بہت سے بم دھماکوں کو حل کر لینے کی بات کی گئی۔ سیمی کے درجنوں موجودہ اور سابقہ مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کی جانب سے وقتا فوقتا ان کے ’اقبالیہ بیان‘ جاری کیے گئے۔

دسمبر دو ہزار سات میں اتر پردیش میں لکھنؤ، بنارس اور فیض آباد کی عدالتوں میں بم دھماکوں کی پہلی بار کسی نے ’انڈین مجاہدین‘ نامی تنظیم نے ذمہ داری قبول کی۔ جے پور بم دھماکوں بھی ذمہ داری اسی تنظیم نے لی اور یہی نہیں بلکہ اپنی ایک ای میل میں ایک سائیکل کی ویڈیو تصویر بھی بھیجی جس میں بم نصب کیا گیا تھا۔ احمد آباد دھماکوں کے لیے بھی اسی تنظیم نے ذمہ داری لی اور پولیس کے مطابق دھماکے سے پانچ منٹ پہلے ای میل بھیج کر اس کی ذمہ داری قبول کی۔ ہندوستان کی تفتیشی ایجنسیوں کو اس تنظیم کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ پولیس اب یہ کہہ رہی ہے در اصل سیمی ہی ’انڈین مجاہدین‘ ہے۔

دہشت گردی اور بم دھماکے ہندوستان کی پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ خود ان کی اپنی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ حکومت، پولیس اور عوام بالخصوص مسلم، سبھی بے چینی کے ساتھ یہی چاہ رہے ہیں کہ تہ دھماکے کرنے والے واضح طور پر گرفت میں آئیں اور یہ سلسلہ بند ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد