مہاراشٹر کے کئی شہروں میں تشدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہارشٹر کی سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کی ممکنہ گرفتاری کی خبروں کے درمیان ریاست میں شمالی ہندوستان کے باشندوں کے خلاف تشدد کے واقعات ایک بار پھر شروع ہوگئے ہیں۔ ریاستی پولیس کنٹرول روم کے مطابق مہاراشٹر کے کئی شہروں میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کے ساتھ جبری طور پر شمالی ہند کے تاجروں کی دکانیں بند کرانے کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے منگل کو مہاراشٹر نو نرمان سینا یعنی ایم این ایس کے ستائیس کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ کنٹرول روم کے مطابق ناسک کے بٹکو اور شالیمار مارکیٹ علاقے میں صبح سے ایم این ایس کے کچھ کارکنوں نے شمالی ہند کے باشندوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ان لوگوں نے سکول اور کچھ بسوں پر بھی پتھراؤ کیا۔ہنگامے کے بعد ناسک میں سکول بند کر دیے گیے ہیں۔ پونے میں بھی بسوں پر پتھراؤ کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں۔ پونے سے قریب ہی واقع شرڈی کے احمد نگر علاقے میں گزشتہ روز شیو سینا کے کارکنوں نے کئی دکانوں کے پوسٹرز پر سیاہی ڈال دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر دکان کا بورڈ صرف مراٹھی زبان میں لکھا ہونا چاہیے۔ راج ٹھاکرے کے ذریعہ چھیڑی گئی مراٹھی مہم کے بعد اب ریاست کی ایک اور اہم سیاسی جماعت شیوسینا نے بھی اسی طرح کے مطالبات شروع کر دیے ہیں۔
انکم ٹیکس محکمہ میں شیوسینا کی یونین ’لوک ادھیکاری سمیتی‘نے منگل کو چرچ گیٹ پر واقع محکمہ انکم ٹیکس کے صدر دفتر پر ایک مورچہ نکالا اور چیف کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ ان کا مطالبہ تھاکہ اب سے ہر ڈپارٹمنٹ میں مہاراشٹرین سٹاف کی تقرری کی جائے اور شمالی ہند سے جو سٹاف آنے والا ہے اس کی تقرری کی درخواستیں قبول نہ کی جائیں اور اگر ایسا نہ کیا گيا تو بڑے پیمانے پراحتجاج ہو گا۔ دو روز قبل شیوسینا کے کارگزار سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی چھترپتی شیواجی بین الاقوامی ایئرپورٹ کی انتظامیہ کو ایک میمورنڈم دیا تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ یہاں صرف مہاراشٹرین افسران اور ورکروں کی تقرری کی جانی چاہئیے۔ ممبئی کے ساتھ مہاراشٹر کے کئی شہروں میں ماحول کشیدہ ہے۔ پولیس نے گزشتہ روز راج ٹھاکرے اور سماج وادی لیڈر ابو عاصم اعظمی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 ( A) یعنی (فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے) کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ان کی گرفتاری سے ہونے والے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے شہر میں بڑے پیمانے پر پولیس بندوبست میں اضافہ کیا گيا ہے۔ ٹھاکرے اور اعظمی کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔انہیں ایک ہفتہ تک ریلی نکالنے اور ذرائع ابلاغ سے بات نہ کرنے کے لیے پولیس نے نوٹس دیا ہے جسے ٹھاکرے نے واپس کر دیا۔ ایم این ایس کے ترجمان شیشرشندے کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں کسی پر اس طرح کی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ جوائنٹ پولیس کمشنر ( نظم و نسق ) کے ایل پرساد کے مطابق شہر میں ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے پولیس پوری طرح تیار ہے۔ شہر کی چالیس ہزار پولیس فورس کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس (سریع الحرکت پولیس) عملہ، ریاستی ریزرو پولیس اور فساد سے نمٹنے والی پولیس کو بھی جگہ جگہ تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ شہر میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیں گے اور ضرورت پڑی تو فوج بھی طلب کی جا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں راج ٹھاکرے کی گرفتاری ’ممکن‘07 February, 2008 | انڈیا ممبئی میں تشدد بدستور جاری 06 February, 2008 | انڈیا مہاراشٹر تشدد، درجنوں گرفتار05 February, 2008 | انڈیا فلیٹس میں ریزرویشن کا مطالبہ23 January, 2008 | انڈیا شیو سینا کانگریس کی حامی02 September, 2007 | انڈیا شیو سینا اور بی جے پی میں اختلاف26 June, 2007 | انڈیا راج ٹھاکرے نے نئی پارٹی بنا لی09 March, 2006 | انڈیا مہاراشٹر: شیوسینا کا پرتشدد احتجاج09 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||