فلیٹس میں ریزرویشن کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی قوم پرست ہندو جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ممبئی میں بننے والی ہر رہائشی عمارت میں مراٹھیوں کے لیے پچاس فیصد فلیٹس مختص کیے جانے چاہئیں ورنہ ان کی پارٹی اس عمارت کو بننے نہیں دے گی۔ بال ٹھاکرے نے یہ بیان اپنی پارٹی کے ترجمان اخبار’ سامنا‘ میں دیا ہے۔اپنی بیاسیویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے مراٹھیوں کو فلیٹس دینے کے علاوہ شرد پوار سے اپنی دوستی کا ذکر کیا اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر سخت تنقید کی۔ بال ٹھاکرے نے کہا کہ ان کی پارٹی’سن آف دی سوائل (مقامی باشندوں) کی خاطر ملازمتوں میں ریزرویشن کے لیے پہلے بھی ایک لڑائی لڑ چکی ہے لیکن اب وہ رہائشی حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہے۔‘ شیوسینا سخت گیر ہندوتوا، پر تشدد مظاہروں اور ہنگامہ خيز کارروائیوں کےلیے بدنام ہے۔ ملازمتوں میں ریزرویشن کے معاملے میں شیوسینا نے ریلوے میں بھرتی کے امتحانات کے دوران توڑ پھوڑ اور ریاست کے باہر سے آنے والے امیدواروں سے مار پیٹ کی تھی جس کے بعد ریاست سے باہر امتحانات منعقد کیے گئے تھے۔
بال ٹھاکرے کے اس بیان سے شہر کے بِلڈرز ناراض ہیں۔ ہر ٹھیکیدار کھل کر بات کرنے سے انکار کر رہا ہے کیونکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا کی اکثریت ہے اور کسی بھی عمارت کی منظوری کے لیے بلڈر کو بی ایم سی کے دفتر پر ہی دستک دینی ہوتی ہے۔ بلڈر اختر حسن رضوی نے البتہ کھل کر ٹھاکرے کے اس بیان کی مخالفت کی۔ان کے مطابق ٹھاکرے نے بلڈرز کو کھلی دھمکی دی ہے اور حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ رضوی کے مطابق ’بلڈرز کاروبار کے لیے بیٹھے ہیں، جو بلڈرکو رقم دے گا اسے فلیٹ ملےگا۔‘ ٹھاکرے کے اس موقف کو انہوں نےغیر ضروری قرار دیا۔ رضوی نے ٹھاکرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’جب ان کی حکومت تھی اس وقت انہوں نے شہری حدودِ اراضی قانون کو ختم کر کے مراٹھیوں کے لیے مکانات کیوں نہیں بنائے۔‘ ایک بلڈ رنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ کسی بھی بلڈ ر نے کبھی بھی کسی مراٹھی کو فلیٹ دینے سے انکار نہیں کیا ہے، یہ صرف سیاسی پروپیگنڈہ ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھاکہ ’شیوسینا کو پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھنا چاہیے۔ ان کی اپنی پارٹی کے لیڈر منوہر جوشی بھی ایک بڑے بلڈر ہیں اور ان کی ہاؤسنگ کالونیاں کرلا جیسے علاقے میں بن رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی عمارت میں مراٹھیوں کے لیے پچاس فیصد ریزرویشن کیوں نہیں رکھا؟‘
سیاسی تجزیہ کار ٹھاکرے کے اس بیان کو محض سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ برس اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور شیوسینا کے پاس صرف مراٹھی کارڈ ہے۔انہوں نے ملازمت دلانے کا کارڈ کھیل لیا جس میں وہ بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جمہوری ملک ہے اور کسی بھی فرقے یا نسل کی بنیاد پر ریزرویشن کی ہمیشہ سے مخالفت ہوئی ہے۔ان کا کہناہے کہ جب ٹھاکرے مسلمانوں کے ریزرویشن کے خلاف ہیں اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو جلا ڈالنے کی بات کہتے ہیں تو پھر وہ مراٹھیوں کے لیے ریزرویشن کی بات کیسے کر سکتے ہیں۔ ٹھاکرے نے اپنے انٹرویو میں مسلمانوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مستقبل میں ملک کے ایک بار پھر ٹکڑے کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ ٹھاکرے نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیو سینا کی’علاقائی سیاست‘ کی پالیسی پر عمل کر کے ہی گجرات کے اسمبلی انتخابات جیتے ہیں۔ واضح رہے کہ چند دنوں قبل مودی نے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں گجرات جیسی سیاست کرکے فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں دلی کے بعد ممبئی میں شناختی کارڈ 09 January, 2008 | انڈیا کمیشن سفارشات کے نفاذ کا مطالبہ 10 August, 2007 | انڈیا مہاراشٹرمیں شیو سینا کی پکڑ مضبوط02 February, 2007 | انڈیا شیوسیناکے سربراہ کا زوال 23 January, 2007 | انڈیا مہاراشٹر میں شیوسینا کو دھچکا26 July, 2005 | انڈیا شیو سینا میں سیاسی جوڑ توڑ03 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||