BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 January, 2007, 18:40 GMT 23:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیوسیناکے سربراہ کا زوال

بال ٹھاکرے
بال ٹھاکرے کے سخت گیر ہندو نظریہ کا اثر اب نہیں رہا
ہندوستان کے بعض متنازعہ رہنماؤں میں شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے بھی ہیں جو اپنی اسّی ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ لیکن اس بار ان کی سالگرہ کے موقع پر خوشیاں کم اورگھبراہٹ زیادہ نظر آئی۔

بال ٹھاکرے نے چالیس برس قبل ہندو نظریاتی تنظیم شیو سینا کی بنیاد ڈالی تھی۔

ماضی کی طرح اس برس 23 جنوری کے روز بال ٹھاکرے کے گھر کے سامنے کوئی بھیڑ نہیں تھی جبکہ گزشتہ برس ان کی رہائش گاہ’ماتوسری‘ کے سامنے انہیں مبارک باد دینے کے لیے بڑا مجمع امڈ پڑا تھا۔

انکے نکتہ چیں کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب وہ خود اور انکی پارٹی پورے مہاراشٹر میں مقبول تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

شوسینا کے سابق اوراب کانگریس کے رہنما سنجے نروپم کا کہنا ہے کہ چونکہ شیوسینا بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ نہیں چل سکی اس لیے اب وہ پوری طرح ختم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ پارٹی بڑی تنگ نظریات کی حامل ہے اور اس کے خیالات آج کے ممبئی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔‘

لیکن شیو سینا کے ایک سینئر رہنما پرمود نوالکر کہتے ہیں’ یہ بات درست ہے کہ پارٹی کے رہنماؤں کی عمر بڑھ رہی ہے لیکن وہ دل سے اب بھی جوان ہیں۔‘

انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ پارٹی کی حالت خراب ہے لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ ان دنوں پارٹی ایک برے دور سے گزر رہی ہے۔

شیو سینا کے لیے برا دور اس وقت شروع ہوا جب ایک برس قبل پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔

ایک وقت تھا جب پارٹی میں ٹائیگر یعنی شیر کہے جانے والے مسٹر ٹھاکرے کے الفاظ کی کافی اہمیت تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ ہڑتال کا اعلان کر تے تھے تو پورا ممبئی شہرتھم جاتا تھا۔

مسٹر ٹھاکرے کو بالی ووڈ اداکار سنجے دت کے معاملے میں مداخلت کرنے اور انہیں جیل سے باہر نکلوانے کے معاملے میں بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سنجے دت 1993 میں ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تھے۔

لیکن بیشترافراد کا خیال ہے کہ مسٹرٹھاکرے کا اثر اب کام نہیں کر رہا ہے۔ مبصر ین کا خیال ہے کہ فروری میں ہونے والے مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات میں شیو سینا کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیکن بال ٹھاکرے کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر ٹھکارے خود کو عوام سے دور رکھنے کا ارادہ بدل دیں اور پھر سے سرگرم سیاست میں حصہ لیں تو پارٹی کے حالات بدل سکتے ہیں۔

لیکن عام خیال یہ ہے کہ انکی بڑھتی ہوئی عمر ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد